ہولی

رنگوں اور محبت کا تہوار
رنگوں اور محبت کا تہوار

ہولی بہار کا ایک قدیم اور رنگا رنگ ہندو تہوار ہے جس کی ابتدا برصغیر سے ہوئی اور جو آج بھی بھارت اور نیپال میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایشیا کے دیگر ممالک اور مغربی دنیا کے مختلف حصوں میں بھی یہ تہوار جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اسے رنگوں اور محبت کا تہوار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے، خوشیاں بانٹتے اور دلوں کی دوریاں ختم کرتے ہیں۔ ہولی برائی پر اچھائی کی فتح، سردیوں کے اختتام، بہار کی آمد اور نئی شروعات کی علامت ہے۔ یہ تہوار دوسروں سے ملنے، کھیلنے، ہنسنے، معاف کرنے اور معافی مانگنے، اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کو دوبارہ جوڑنے کا پیغام دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ اچھی فصل کے لیے شکرگزاری کے طور پر بھی منایا جاتا ہے، کیونکہ بہار کا موسم زراعت کے لیے خوشحالی کی نوید لاتا ہے۔ 
ہولی ہندوؤں کے بڑے اور اہم تہواروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا مذہبی پس منظر ایک مشہور روایت سے جْڑا ہے جس میں ظالم بادشاہ Hiranyakashipu اپنے بیٹے Prahlada کو اس کے عقیدے کی وجہ سے سزا دینا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی بہن Holika کو بلایا جس کے پاس ایک جادوئی لباس تھا جو آگ سے بچانے کی طاقت رکھتا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ وہ پرہلاد کو لے کر آگ میں بیٹھ جائے تاکہ پرہلاد جل کر ہلاک ہو جائے اور ہولیکا محفوظ رہے۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ روایت کے مطابق پرہلاد اپنے ایمان کی بدولت محفوظ رہا جبکہ ہولیکا جل کر ہلاک ہو گئی۔ یوں یہ واقعہ نیکی کی بدی پر فتح کی علامت بن گیا۔ اسی یاد میں ہولی سے ایک دن پہلے“ہولیکا دہن”کیا جاتا ہے جس میں آگ جلائی جاتی ہے، جو برائی کے خاتمے اور سچائی کی کامیابی کی علامت ہے۔
ہولی دراصل دو دن تک منایا جاتا ہے۔ پہلے دن ہولیکا دہن کی رسم ادا کی جاتی ہے اور دوسرے دن رنگوں کا جشن منایا جاتا ہے جسے بعض مقامات پر رنگ پنچمی بھی کہا جاتا ہے، جو اس تہوار کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس دن لوگ مختلف شوخ اور دلکش رنگوں میں رنگے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے ہیں، گاتے، ناچتے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ بچے، نوجوان اور بزرگ سب اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ گھروں میں مٹھائیاں اور خصوصی پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور دوستوں و رشتہ داروں کے ساتھ مل بیٹھ کر خوشیاں بانٹی جاتی ہیں۔
ہولی کا تہوار بھگوان Krishna سے بھی خاص نسبت رکھتا ہے۔ عقیدت مند اس دن کرشن کی پوجا کرتے ہیں اور ان کی مورتی پر رنگ ڈالتے ہیں۔ روایت کے مطابق کرشن جی کو رنگوں اور خوشی کے اظہار سے خاص لگاؤ تھا، اسی لیے یہ تہوار محبت اور شوخی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ رنگوں کا استعمال دراصل زندگی کی خوبصورتی اور تنوع کی نمائندگی کرتا ہے۔ سرخ رنگ محبت اور جذبے کی علامت ہے، سبز امید اور زندگی کا نشان ہے، پیلا خوشحالی اور مسرت کی علامت ہے، جبکہ نیلا سکون اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر ہولی صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، برداشت اور بھائی چارے کا پیغام بھی دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نفرت اور دشمنی کو بھلا کر محبت اور معافی کو اپنانا چاہیے۔ جیسے سردیوں کے بعد بہار آتی ہے اور فطرت نئے رنگوں سے سج جاتی ہے، ویسے ہی انسان بھی اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ اگر ہم ہولی کے اصل پیغام یعنی محبت، اتحاد اور رواداری کو سمجھ لیں تو ہمارا معاشرہ بھی رنگوں کی طرح خوبصورت اور پُرامن بن سکتا ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail