کنول کا سب سے بڑا پودا، جو 177 سال سے چھپا ہوا تھا

 لندن کے مضافات میں کیو کے مقام پر واقع مشہور نباتاتی باغ ’رائل بوٹینیکل گارڈنز‘  میں ایک بہت بڑا کنول کا پودا دریافت ہوا ہے جو گزشتہ 177 برس سے سب کی آنکھوں کے سامنے تھا لیکن کوئی پہچان نہ سکا۔ اس کی جڑیں باغ میں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ عملے کے افراد اسے پودوں کی کوئی نئی قسم سمجھتے رہے لیکن اب ایک طویل سائنسی جائزے کے بعد اس کی شناخت ہو گئی ہے کہ یہ کنول کا پھول ہے۔
اس دریافت کے بعد ایک نیا ریکارڈ قائم ہوگیا ہے اور یہ دنیا میں کنول کا سب سے بڑا پودا بن گیا ہے، جس کے پتے تین میٹر سے بھی زیادہ چوڑے ہیں۔
کیو گارڈن میں اگنے والے اس پودے کو ’وکٹوریہ بولِویانا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یا رہے کہ دریائے ایمازون کے کنارے وہ واحد مقام جہاں اس قسم کا کنول اگتا ہے، اس کا نام بولِویا ہے۔
  دنیا میں واٹر للی یا کنول پر تحقیق کے لیے مشہور ماہرِ باغبانی کارلوس میگاڈیلنا کا کہنا تھا کہ انھیں بہت عرصے سے شک تھا کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والا یہ بہت بڑا کنول ماضی میں دریافت ہونے والی دو اقسام (وکٹوریہ ایمازونیا اور وکٹوریہ کروزیانا) سے مختلف تھا لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو پا رہی تھی۔
کیو گارڈن کی اپنی طویل تاریخ پودوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور واٹر للی ہاؤس سن 1852 میں خصوصی طور پر اسی لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں لِلی اور کنول کی نمائش ہوا کرے گی۔ یہاں لِلی کے بے شمار نمونے لا کر اْگائے گئے۔
کنول کا پہلا بڑا پودا سن1800 کے عشرے میں دریافت ہوا تھا اور اسے اس وقت ایک عجوبہ قرار دیا گیا تھا۔ اس کا نام اس وقت کی ملکہ برطانیہ، ملکہ وکٹوریہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔

 

Add new comment

2 + 4 =