اونیکوفورا
اونیکوفورا (Onychophora) ایک نہایت دلچسپ اور قدیم حشراتی گروہ ہے جسے عام طور پر ویلویٹ ورمز (Velvet Worms) کہا جاتا ہے۔ یہ جاندار حیاتیات کے ارتقائی سفر میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں کیونکہ ان میں ایسے اوصاف پائے جاتے ہیں جو کیڑوں (Arthropods) اور حلقہ دار کیڑوں (Annelids) دونوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے سائنس دان انہیں ایک”زندہ فوسل“بھی کہتے ہیں کیونکہ ان کی ساخت کروڑوں سال سے زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔اونیکوفورا زیادہ تر مرطوب اور گرم علاقوں، جیسے کہ جنوبی امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔ یہ عموماً زمین کے اندر، پتھروں کے نیچے، گرے ہوئے درختوں کے تنوں یا نم مٹی میں رہتے ہیں۔ چونکہ ان کی جلد نرم اور مخملی ہوتی ہے، اس لیے یہ خشکی اور تیز روشنی سے بچتے ہیں اور رات کے وقت زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔
جسمانی ساخت کے لحاظ سے اونیکوفورا لمبے، نرم اور کیڑے نما ہوتے ہیں۔ ان کا جسم چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر حصے کے ساتھ نرم اور گوشت دار ٹانگیں موجود ہوتی ہیں جنہیں لوپوز کہا جاتا ہے۔ ان کی جلد مخمل کی طرح محسوس ہوتی ہے، اسی لیے انہیں ویلویٹ ورمز کہا جاتا ہے۔ ان کے سر پر دو اینٹینا ہوتے ہیں جو اردگرد کے ماحول کو محسوس کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ چھوٹی آنکھیں روشنی اور اندھیرے میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اونیکوفورا کی خوراک میں چھوٹے کیڑے، دیمک اور دیگر نرم جسم والے جاندار شامل ہوتے ہیں۔ شکار پکڑنے کا ان کا طریقہ بے حد منفرد ہے۔ یہ اپنے منہ کے قریب موجود خاص غدود سے ایک لیس دارمادہ تیزی سے خارج کرتے ہیں جو شکار کو جال کی طرح لپیٹ لیتا ہے۔ اس کے بعد یہ شکار کو اپنے دانت نما جبڑوں سے کاٹ کر ہضم کرتے ہیں۔ یہ طریقہ قدرت میں دفاع اور حملے کی ایک شاندار مثال سمجھا جاتا ہے۔
ان کی افزائشِ نسل بھی مختلف انواع میں مختلف طریقوں سے ہوتی ہے۔ کچھ اونیکوفورا انڈے دیتے ہیں، کچھ ایسے ہیں جن میں انڈے مادہ کے جسم کے اندر ہی نشوونما پاتے ہیں، جبکہ بعض انواع براہِ راست بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ یہ تنوع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ جاندار ارتقائی لحاظ سے نہایت اہم ہیں اور مختلف ماحولیاتی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سائنسی تحقیق کے لحاظ سے اونیکوفورا کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ان کے اعصابی نظام، تولیدی طریقوں اور چپچپے مادے پر ہونے والی تحقیق نہ صرف ارتقائی حیاتیات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی ان کے استعمال کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں، مثلاً قدرتی چپکنے والے مادوں کی تیاری۔
تاہم، جنگلات کی کٹائی، ماحولیاتی تبدیلی اور رہائش گاہوں کی تباہی کے باعث اونیکوفورا کی کئی اقسام خطرے میں ہیں۔ چونکہ یہ مخصوص اور حساس ماحول میں رہتے ہیں، اس لیے معمولی ماحولیاتی تبدیلی بھی ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے قدرتی مساکن کا تحفظ کیا جائے تاکہ یہ نایاب اور قدیم جاندار آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکیں۔
اونیکوفورا نہ صرف قدرت کی ایک حیرت انگیز تخلیق ہیں بلکہ ارتقائی حیاتیات کی ایک زندہ جھلک بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کا مطالعہ ہمیں زمین پر زندگی کے قدیم مراحل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ قدرت کے ہر جاندار کی اپنی ایک منفرد اہمیت ہے۔