آبگاہوں کا عالمی دن
ہر سال 2 فروری کو دنیا بھر میں آبگاہوں کا عالمی دن (World Wetlands Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں کو ان قدرتی نظاموں کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے جو بظاہر خاموش ہوتے ہیں، مگر درحقیقت ہماری زندگی، ماحول اور معیشت کے لیے نہایت ضروری کردار ادا کرتے ہیں۔آبگاہیں وہ علاقے ہیں جہاں پانی مستقل یا عارضی طور پر موجود رہتا ہے، جیسے جھیلیں، دلدلی زمینیں، دریا کے کنارے، ڈیلٹا اور ساحلی مینگرووز۔ یہ علاقے قدرتی فلٹر کا کام کرتے ہیں، پانی کو صاف کرتے ہیں، زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرتے ہیں اور سیلاب کے دباؤ کو کم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں آبگاہوں کو قدرتی دفاعی نظام تسلیم کیا جاتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہا ہے، آبگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور درجہ حرارت میں اضافہ ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے میں صحت مند آبگاہیں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مینگرووز اور دیگر ویٹ لینڈز فضا سے کاربن جذب کر کے موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔آبگاہیں حیاتیاتی تنوع کا مرکز بھی ہیں۔ یہ لاکھوں پرندوں، مچھلیوں اور دیگر آبی جانداروں کا مسکن ہوتی ہیں۔ پاکستان کی کئی آبگاہیں، جیسے کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل اور انڈس ڈیلٹا، نہ صرف مقامی بلکہ مہاجر پرندوں کے لیے بھی اہم پناہ گاہیں ہیں۔معاشی طور پر بھی آبگاہیں اہم ہیں۔ ماہی گیری، زراعت، سیاحت اور ساحلی معیشت کا بڑا حصہ انہی قدرتی وسائل پر منحصر ہے۔ انڈس ڈیلٹا کے مینگرووز ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں اور سمندری طوفانوں کے خلاف قدرتی حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان کی آبگاہیں آج شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ غیر منصوبہ بند تعمیرات، تجاوزات، صنعتی و شہری آلودگی، پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی نے ان قدرتی نظاموں کو کمزور کر دیا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ان کا نقصان نہ صرف ماحول بلکہ انسانی زندگی پر بھی گہرے اثرات ڈالے گا۔
آبگاہوں کے عالمی دن کا پیغام بالکل واضح ہے کہ ہمیں اپنی آبگاہوں کو محفوظ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے قانون سازی، عملی نفاذ، مقامی کمیونٹیز کی شمولیت اور عوامی آگاہی بے حد ضروری ہے۔ آبگاہوں کا تحفظ دراصل ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تحفظ ہے۔ آبگاہیں محض پانی سے بھرے علاقے نہیں بلکہ زندگی کی ضمانت ہیں۔ اگر ہم نے آج ان کی قدر نہ کی تو کل ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی