پاکستان کی خاتون پائلٹس(فخر ِ پاکستان)

کئی پاکستانی خواتین نے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ائیر لائن کو جوائن کیا اور یہ بات غلط ثابت کر دی کہ عورتیں تو صنف نازک ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی خواتین اپنی جرت مندانہ صلاحیتوں کے سبب ملک و قوم کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ہم اکثر یہ جملہ سنتے ہیں کہ یہ مردوں کی دنیا ہے او رخواتین کو وہ مقام حاصل نہیں جو اْن کا حق ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جس پر بعض خواتین یقین نہیں رکھتیں اور عملی طور پر کچھ ایسا کر کے دکھاتی ہیں کہ مرد بھی حیران رہ جاتے ہیں۔
ان بہادر خواتین میں سب سے پہلا نام ”شکریہ خانم“ کا ہے جنہیں پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ لیکن وہ پی آئی اے میں پائلٹ کی خدمات سرانجام نہیں دے سکیں۔ جبکہ وہ گراؤنڈ انسٹرکٹر کے طور پر کام کرتی رہیں۔
انکے بعد ”ملیحہ سمیع“ کا نام آتا ہے۔ انہوں نے پی آئی اے کا ایئر کرافٹ اْڑایا۔ انہیں پہلی خاتون پائلٹ کیپٹن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ انہوں نے ائر بس A310 اور ائر بس A300 اْڑایا۔ انہیں پہلی خاتون پائلٹ کا اعزاز بھی حاصل ہے جنہوں نے اکیلے فوکر کراچی سے گوادر تک اْڑایا۔ انکے بعد کیپٹن عائشہ رابعہ کا نام آتا ہے جنہوں نے کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کیا جب وہ صر ف 17 سال کی تھیں۔
انہوں نے 1989 میں PIA کو کیڈٹ پائلٹ کے طور پرجوائن کیا۔ عائشہ نے 15 سال PIA میں گزارے۔ انہوں نے اپنی سروس کے دوران ائر بس 300 اور بوئنگ 747 پر اْڑان بھری۔ 2006 میں انہوں نے پہلی پاکستانی خواتین فلائٹ اْڑائی۔جس میں پورا سٹاف پائلٹس اور کیبن کرو خواتین پر مشتمل تھا۔ 
انکے بعد اب حالیہ ریکارڈ مریم مسعود اور اِرم مسعود نے بنایا ہے۔ان دونوں نے اکٹھے پرواز بھی کی ہے اور نا صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک ریکارڈ بنایاہے۔
 کیپٹن پائلٹ شہناز لغاری پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ ہیں جنہیں نقاب میں فلائٹ اڑانے کا اعزاز حاصل ہے۔ انکا نام Book Of Record میں بھی شامل ہے کہ وہ پہلی حجاب کیپٹن پائلٹ ہیں۔
یہ ساری خواتین ناصرف پاکستان کا فخر ہیں بلکہ دوسری خواتین کے لئے ایک اعلیٰ نمونہ بھی ہیں۔ 

Add new comment

5 + 14 =