صرف اثر و رسوخ نہیں بلکہ رفاقت قائم کریں۔ڈاکٹر نتاشا گوویکر

ڈاکٹر نتاشا گوویکر
ڈاکٹر نتاشا گوویکر

مورخہ 11 ستمبر 2026کوڈاکٹر نتاشا گوویکر نے منیلا میں ایشیائی ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں کو آن لائن اثر و رسوخ کے حصول سے آگے بڑھتے ہوئے اپنے بلاوے کو رفاقت، تعاون اور باہمی تعلقات قائم کرنے کے مشن کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ڈیجیٹل ابلاغ کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر گوویکر نے کہا کہ ہر مسیحی دوسروں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، خواہ سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اثر و رسوخ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس بات پر زور دیا کہ مسیحی اثر و رسوخ کو صرف سامعین یا فالوورز کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں پر زور دیا کہ وہ خود کو صرف اثرانداز شخصیات کی ایک کمیونٹی سمجھنے سے آگے بڑھیں اور رفاقت کے رہنما بنیں۔انہوں نے کہا کہ اس لیے یہ سیکھنا بہت ضروری ہے کہ ہم بحیثیت ایک کمیونٹی مل کر آگے بڑھیں، نہ کہ الگ الگ افراد کی حیثیت سے۔ان کے مطابق یہ طرزِ عمل سنڈی طریقہ کار سے گہرا تعلق رکھتا ہے، جو کلیسیا کو ایک دوسرے کی بات سننے، مل کر کام کرنے اور ساتھ آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنڈی ہونے کا مطلب ہے مل کر کام کرنا اور مل کر آگے بڑھنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ باہمی تعاون کلیسیا کو ایسی سوشل میڈیا موجودگی تشکیل دینے میں مدد دے سکتا ہے جو رفاقت پر مبنی ہو۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت مسیحی ہم جانتے ہیں کہ رفاقت ہماری برادری کے ڈی این اے کا حصہ ہے۔ڈاکٹر گوویکر نے اس تصور کو ابلاغ کے حوالے سے کلیسیا کی دیرینہ تعلیم کے تناظر میں پیش کیا، جس میں مسیح کو کامل ابلاغ کار قرار دیا گیا ہے۔
تجسد کے ذریعے مسیح نے اپنے پیغام کو قبول کرنے والوں کے ساتھ مکمل طور پر اپنی شناخت قائم کی۔انہوں نے محض الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی پوری زندگی کے ذریعے ابلاغ کیا۔ڈاکٹر گوویکر کے مطابق تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے باوجود یہی تصور مسیحی ابلاغ کاروں کے لیے بنیادی رہنمائی کا کام کرتا ہے۔انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی ابلاغ کے مرکز میں موجود منفرد انسانی صلاحیتوں کی جگہ نہیں لے سکتی۔انہوں نے بتایا کہ  کوئی بھی کمپیوٹیشنل نظام، خواہ وہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو، ایسا دل تخلیق نہیں کر سکتا جو اپنی ذات پیش کرے، اور نہ ایسا ضمیر جو اچھے اور برے میں امتیاز کر سکے۔لہٰذا اصل چیلنج صرف نئی ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیکنالوجی انسانی ملاقات اور کلیسیا کے مشن کی خدمت کرے، نہ کہ ان کی جگہ لے۔
ڈاکٹر گوویکر نے اس تصور کی وضاحت ڈیکاسٹری کے Faith Communication in the Digital World پروگرام کے ذریعے کی، جو نوجوان کیتھولک ابلاغی ماہرین کو بین الاقوامی اور باہمی تعاون پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے تربیت فراہم کرتا ہے۔اس پروگرام میں ہر سال 16 نوجوان پیشہ ور افراد شامل ہوتے ہیں، جن کی عمر عموماً 35 سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان افراد کو ابلاغ اور ڈیجیٹل میڈیا میں تجربہ حاصل ہوتا ہے اور وہ کیتھولک برادریوں سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔
شرکا 11 ماہ تک ہر ہفتے آن لائن تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ روم میں ایک ہفتے کی بالمشافہ تربیت، انفرادی اور گروہی کام، ماہرین کے خصوصی سیشنز، ورکشاپس اور ابلاغی منصوبوں میں حصہ لیتے ہیں۔ڈاکٹر گوویکر نے تسلیم کیا کہ مختلف ثقافتوں، ٹائم زونز اور پیشہ ورانہ طریقہ کار رکھنے والے افراد کے ساتھ مل کر کام کرنا آسان نہیں۔تاہم، ان کے مطابق یہی مشکلات تربیت کا حصہ بن گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا سب سے اہم نتیجہ وہ عمل اور تعلقات ہیں جو اس دوران قائم ہوتے ہیں۔اسی تجربے کی بنیاد پر پروگرام میں ساتھ چلنے اور رہنمائی فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دی گئی۔ تربیت مکمل کرنے والے شرکا کے ساتھ ان کے اساتذہ اور رہنما مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ یوں شاگردی کا ایک ایسا عمل تشکیل پاتا ہے جس میں لوگ صرف ماہرین سے ہی نہیں بلکہ ان افراد سے بھی سیکھتے ہیں جو پہلے اس سفر سے گزر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں اسے شاگردی کہتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس تجربے نے عملی تربیت اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے نوجوان کیتھولک پیشہ ور افراد میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ڈاکٹر گوویکر نے ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ تعاون کے اپنے طریقے تشکیل دیں اور کسی موجودہ ماڈل کی محض نقل نہ کریں بلکہ اپنے وژن اور اْمید کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا حوصلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی سطح پر جو کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسے بالکل اسی انداز میں دہرانا ضروری نہیں، لیکن اس کے اصول مقامی اور بین الاقوامی سطح پر نئے تجربات کے لیے تحریک کا باعث بن سکتے ہیں۔ان کے مطابق کیتھولک ابلاغ کاروں کے لیے اصل کام یہ دریافت کرنا ہے کہ وہ مل کر کیا تخلیق کر سکتے ہیں، اور اس مشترکہ مشن میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت، تجربے اور انسانی تعلقات کو بروئے کار لائیں۔ان کا پیغام ڈیجیٹل بشارت کے مرکز میں رفاقت کو رکھتا ہے۔ مقصد صرف زیادہ موثر انداز میں ابلاغ کرنا نہیں بلکہ ایسے تعلقات قائم کرنا ہے جن کے ذریعے انجیل سے ملاقات ہو اور اسے زندگی میں جیا جا سکے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup