رِبقہ: وہ ماں جس نے خدا کی آواز سنی
بائبل مقدس میں کئی ایسی خواتین کا ذکر ملتا ہے جن کی زندگیاں خدا کے منصوبے کا حصہ بنیں اور جن کے ذریعے آنے والی نسلوں پر گہرے روحانی اثرات مرتب ہوئے۔ انہی عظیم خواتین میں ایک نام مقدس رِبقہ کا ہے، جو اسحا ق کی بیوی، عیسو اور یعقوب کی ماں تھیں۔ اْن کی زندگی کی تفصیل تکوین کی کتاب کے میں بیان کی گئی ہے۔ رِبقہ کی کہانی صرف ایک خاندان کی داستان نہیں بلکہ خدا کے عہد، ایمان، دْعا، انسانی کمزوری اور الٰہی وفاداری کی ایک گہری تصویر پیش کرتی ہے۔
رِبقہ پہلی مرتبہ اُس وقت منظر پر آتی ہیں جب ابراہیم نے اپنے خادم کو اسحا ق کے لیے مناسب بیوی تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ خادم نے خداوند سے رہنمائی طلب کی اور خدا نے اپنی قدرت سے اُسے رِبقہ تک پہنچایا۔ رِبقہ نے نہ صرف اجنبی خادم کی خاطر مدارات کی بلکہ اُس کے اونٹوں کو بھی پانی پلایا۔ اْن کی مہمان نوازی، سخاوت، عاجزی اور خدا پر بھروسہ اُن کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔
جب رِبقہ کے سامنے اپنے خاندان، اپنے وطن اور اپنے ماحول کو چھوڑ کر ایک نامعلوم سفر اختیار کرنے کا سوال آیا تو انہوں نے ایمان اور اعتماد کے ساتھ اس راستے کو قبول کیا۔ اس طرح وہ اُس خاندان کا حصہ بن گئیں جس کے ذریعے خدا اپنے عہد کو جاری رکھنے اور بالآخر دنیا کی نجات کا منصوبہ پورا کرنے والا تھا۔سارہ کی مانند رِبقہ نے بھی بانجھ پن کے کرب کا سامنا کیا۔ کئی برس تک اولاد نہ ہونے کے باعث اسحا ق نے اپنی بیوی کے لیے خداوند سے دْعا کی۔ خدا نے اْن کی التجا سنی اور رِبقہ حاملہ ہوئی۔ لیکن حمل کے دوران انہیں اپنے رحم میں غیر معمولی کشمکش محسوس ہوئی۔ وہ خاموشی سے یہ بوجھ برداشت کرنے کے بجائے خداوند کی طرف متوجہ ہوئیں اور اُس سے سمجھ اور رہنمائی طلب کی۔خداوند نے براہِ راست اُن سے کلام کیا اور فرمایا:
تیرے شکم میں دو اْمتیں ہیں تیرے بطن سے دو قومیں نکلیں گی۔ قوم قوم سے زور آور ہوگی اور بڑی چھوٹی کی خدمت کرے گی۔(تکوین 25:23)
یہ الٰہی کلام اس بات کی نشاندہی کرتی تھی کہ خدا کا عہد اور برکت بڑے بیٹے عیسو کی بجائے یعقوب کے ذریعے آگے بڑھے گی، حالانکہ اُس زمانے کی روایات کے مطابق پہلوٹھے بیٹے کو خاص مقام حاصل تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے منصوبے انسانی روایات کے پابند نہیں بلکہ اُس کی اپنی حکمت اور مرضی کے مطابق پورے ہوتے ہیں۔
رِبقہ کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اْلجھن، پریشانی اور سوالات کو خدا کے سامنے رکھا۔ وہ تنہا اپنے بوجھ کو اْٹھاتی نہیں رہیں بلکہ خداوند کی حضوری میں جواب تلاش کرتی رہیں۔ یہ بات آج کی ماؤں کے لیے بھی ایک اہم سبق ہے کہ خدا اُن کی فکر، دْعاؤں اور ذمہ داریوں سے بے خبر نہیں۔ وہ اُن کی آواز سنتا اور اُنہیں اپنی حکمت عطا کرتا ہے۔لیکن رِبقہ کی زندگی کا ایک دوسرا پہلو انسانی کمزوری کو بھی آشکار کرتا ہے۔ اگرچہ خدا پہلے ہی اپنا منصوبہ ظاہر کر چکا تھا، لیکن جب ا سحاق نے عیسو کو برکت دینے کا ارادہ کیا تو رِبقہ نے صبر اور خدا پر مکمل بھروسہ کرنے کے بجائے انسانی تدبیر اور چالاکی کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے یعقوب کی مدد کی تاکہ وہ اپنے والد کو دھوکہ دے کر پہلوٹھے کی برکت حاصل کر لے۔اس عمل کے نتیجے میں خاندان میں دوریاں پیدا ہوئیں۔ عیسو اور یعقوب کے درمیان دشمنی جنم لینے لگی، یعقوب کو گھر چھوڑنا پڑا، اور رِبقہ کو اپنے پسندیدہ بیٹے سے جدائی کا غم برداشت کرنا پڑا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب انسان خدا کے کام کو اپنی تدبیروں سے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اکثر اس کے نتائج درد، تقسیم اور پچھتاوے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
تاہم، انسانی کمزوریاں خدا کی وفاداری کو ناکام نہیں بنا سکتیں۔ خدا نے اپنے عہد کو یعقوب کے ذریعے جاری رکھا، اور اسی نسل سے آگے چل کر اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے، اور آخرکار اسی نسل میں خداوند یسوع مسیح دنیا کی نجات کے لیے تشریف لائے۔ اس طرح رِبقہ کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خدا کامل لوگوں کے ذریعے نہیں بلکہ ایمان رکھنے والے ناکامل انسانوں کے ذریعے بھی اپنے منصوبے پورے کرتا ہے۔
رِبقہ کی زندگی سے ہم سیکھتے ہیں کہ:
• جب ہم اپنی پریشانیوں اور سوالات کے ساتھ خدا کے پاس آتے ہیں، تو وہ ہماری سنتا اور ہمیں جواب دیتا ہے۔
• خدا کے منصوبے انسانی چالاکی سے نہیں بلکہ اُس کی حاکمیت اور وفاداری سے پورے ہوتے ہیں۔
• والدین کی طرفداری اور غلط فیصلے خاندانوں میں گہری تکلیف پیدا کر سکتے ہیں۔
• خدا ناکامل انسانوں کے ذریعے بھی اپنا کام جاری رکھتا ہے، لیکن وہ ہمیں ایمان، راستبازی اور صبر کی دعوت دیتا ہے۔
