آشا بھوسلے(موسیقی کی دنیا میں لازوال ملکہ)

آشا بھوسلے برصغیر کی ایک عظیم اور ہمہ جہت گلوکارہ تھیں جنہوں نے اپنی منفرد آواز اور غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا پر حکمرانی کی۔ اْن کی زندگی جدوجہد، محنت اور شاندار کامیابیوں کی ایک روشن مثال ہے۔آشا بھوسلے 8 ستمبر 1933 کو سنگلی، مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں۔ وہ مشہور موسیقار اور کلاسیکل گلوکار دینا ناتھ منگیشکر کی بیٹی اور لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں۔ بچپن ہی سے موسیقی اْن کی زندگی کا حصہ تھی، مگر کم عمری میں والد کی وفات نے انہیں مشکلات اور ذمہ داریوں کے بوجھ میں ڈال دیا۔آشاجی بھارتی فلمی موسیقی کی وہ عظیم اور منفرد آواز ہیں جنہوں نے تقریباً آٹھ دہائیوں تک اپنے فن سے دنیا بھر کے سامعین کو مسحور کیا۔ اْن کی گائیکی میں جذبات، انداز اور ورسٹائلٹی کا ایسا امتزاج ہے جو انہیں موسیقی کی تاریخ میں ایک لازوال مقام دیتا ہے۔آشا بھوسلے نے صرف 10 سال کی عمر میں فلمی دنیا میں گانا شروع کیا۔ ابتدا میں انہیں اپنی بہن لتا منگیشکر کے سائے میں رہنا پڑا، جس کی وجہ سے انہیں بڑے مواقع دیر سے ملے۔
 فلمی دنیا میں اپنی پہچان بنانے کے لیے انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اْن کی بڑی بہن لتا منگیشکر پہلے ہی ایک کامیاب گلوکارہ اور شہرت کی بلندی پر تھیں، اس لیے آشا جی کو خود کو منوانے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی اور انہوں نے خود اپنی منفرد پہچان بنائی۔
1950 اور 1960 کی دہائی میں آشا بھوسلے کو اصل شہرت ملی۔ انہوں نے معروف موسیقار(او۔پی۔نیئر) اور بعد ازاں (آر۔ڈی۔برمن) کے ساتھ کام کیا، جس نے اْن کے کیریئر کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔اْن کی آواز میں حیرت انگیزکشش تھی جو ہر دل میں اْتر جاتی۔ وہ رومانوی گیت، غزل، قوالی، پاپ اور کلاسیکل موسیقی سب کچھ بآسانی گا سکتی تھیں۔
 اْن کے مشہور گانوں میں ”پیا تو اب تو آجا“،”دم مارو دم“اور”چورا لیا ہے تم نے“شامل ہیں۔آشا بھوسلے دنیا کی اُن گلوکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے۔
 انہوں نے 20 سے زائد زبانوں میں گایا،جن میں ہندی،مراٹھی،اْردو،بنگالی،گجراتی،پنجابی،تامل، تیلگو،ملیالم،
کنڑ،آسامی،اوڈیا،بھوجپوری،راجستھانی،انگریزی،نیپالی،فارسی (کچھ پروجیکٹس میں)،عربی (خصوصی پراجیکٹس میں)،سواحلی (بین الاقوامی تعاون میں محدود کام)ان کی یہی کثیراللسانی صلاحیت انہیں عالمی سطح پر منفرد بناتی ہے۔اْن کے ریکارڈ شدہ گانوں کی تعداد ہزاروں میں (تقریباً 10,000+ سے 20,000+ تک) بتائی جاتی ہے، جو ایک ناقابل یقین عالمی ریکارڈ ہے۔انہوں نے نہ صرف ہزاروں گانے گا کر تاریخ رقم کی بلکہ عالمی ریکارڈ قائم کر کے اپنے نام کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
گینز ولڈ ریکارڈنے آشا بھوسلے کو عالمی سطح پر ایک غیر معمولی اعزاز سے نوازا۔ 2011 میں انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ریکارڈ کی جانے والی گلوکارہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اگرچہ مختلف ادوار میں اس ریکارڈ کی تفصیلات میں تبدیلی آتی رہی، تاہم انہیں وسیع پیمانے پر اس اعزاز سے منسوب کیا جاتا ہے۔آشا بھوسلے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں:
  Dadasaheb Phalke Award (2000)
Padma Vibhushan (2008)
Banga Bibhushan (2018)
Maharashtra Bhushan (2021)خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔یہ اعزاز ان کی غیر معمولی محنت، طویل فنی سفر اور موسیقی کے ساتھ ان کی وابستگی کا ثبوت ہے۔
آشا بھوسلے کی ذاتی زندگی میں بھی کئی نشیب و فراز آئے، مگر انہوں نے ہمیشہ ہمت اور حوصلہ سے کام لیا۔اْن کی پہلی شادی 16 سال کی عمر میں گنپت راؤ بھوسلے سے ہوئی۔ یہ شادی زیادہ کامیاب نہ رہی اور دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے۔ بعد میں انہوں نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی۔اْن کے پہلے شوہر سے تین بچے ہوئے ہمنت بھوسلے،ورشا بھوسلے اور آنند بھوسلے۔اپنے پہلے شوہر سے علیحدگی اور اْس کی وفات کے بعد آشا بھوسلے نے مشہور موسیقار پنکج آر ڈی برمن سے شادی کی، جو بھارتی موسیقی کی دنیا کا ایک بڑا نام تھے۔
 یہ شادی 1980 میں ہوئی اور 1994 میں آر ڈی برمن کے انتقال تک قائم رہی۔ یہ تعلق نہ صرف ذاتی بلکہ پیشہ ورانہ طور پر بھی انتہائی اہم ثابت ہوا، کیونکہ دونوں نے مل کر کئی یادگار گانے تخلیق کیے۔
آشا بھوسلے کا انتقال 12 اپریل 2026 کوممبئی میں 92 سال کی عمر میں ہوا۔ اْن کی وفات کی وجہ شدید بیماری، خصوصاً سینے کا انفیکشن اور ملٹی آرگن فیلئر بتائی گئی۔ اْن کی وفات پر دنیا بھر کے موسیقی کے مداحوں اور فنکاروں نے گہرے دْکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
آشا بھوسلے ایک عہد کا نام ہیں۔ اْن کی آواز آج بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اْن کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی انسان کو بْرے حالات میں بھی جینے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے نیز کامیابی کی بلند ترین منزلوں تک پہنچا سکتی ہے۔اْن کی وفات کے ساتھ ہی موسیقی کا ایک سنہری باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔آشا بھوسلے کی آواز صرف گانوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ جذبات، محبت اور زندگی کی عکاسی تھی۔ وہ آج بھی زندہ ہیں اپنے گیتوں میں اور اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں۔
یقیناً، وہ آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔آشا بھوسلے کی زندگی ایک ناقابلِ یقین سفر تھا جوغربت اور جدوجہد سے شروع ہو کر عالمی شہرت اور ریکارڈز تک پہنچا۔ اْن کی آواز آج بھی موسیقی کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اْن کی آواز آج بھی مداحوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔انہوں نے ثابت کیا کہ اگر ہمت اور لگن ہو تو مشکلات کے باوجود دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی آواز آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک لازوال ورثہ ہے۔ان کی آواز وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوئی بلکہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail