کلیسیا کا مشن تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انسانی دنیا کی تعمیر ہے۔کارڈینل ڈیوڈ
ایشیا میں کلیسیا کے مشن کی کامیابی نئے کیتھولک مومنین کی تعداد سے نہیں بلکہ انسانی عظمت کے تحفظ، اَمن کے فروغ اور مشترکہ بھلائی کے لیے اس کی وابستگی سے جانچی جانی چاہیے۔ یہ بات فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کے نائب صدر کارڈینل پابلو ورجیلیو ایس ڈیوڈ نے کہی۔کارڈینل ڈیوڈ نے یہ اظہارِ خیال 24 جولائی کو جکارتہ، انڈونیشیا کے ہوٹل مولیا کے لیٹریس میڈیا روم میں ایف اے بی سی کی 12ویں جنرل اسمبلی کی دوسری پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ایشیا کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سیاسی تقسیم، نئے سرے سے ابھرتی قوم پرستی اور عالمی سطح پر باہمی تعاون میں کمی کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام عوامل ایک ہفتے پر محیط اجلاس میں بشپ صاحبان کی گفتگو کے پس منظر میں موجود رہے، جس کا موضوع ایشیا میں سنڈی تبدیلی اور پْل اور پْل بنانے والے بننے کا مشن ہے۔
کارڈینل ڈیوڈ نے ماہرِ الٰہیات فادر توماش ہالک اور ملائیشین اسکالر ڈاکٹر چونگ پُوئی یی کی پیش کردہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بشپ صاحبان کو ایشیا کے خطہ میں رونما ہونے والی گہری سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عالمگیریت کمزور ہو رہی ہے اور عالمی ادارے زوال کا شکار ہیں، کیتھولک کلیسیا ان چند عالمی اداروں میں سے ایک ہے جو اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔ان کے مطابق اسی وجہ سے کلیسیا پر امن، مکالمہ اور مصالحت کے لیے ایک اخلاقی آواز کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی منفرد ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جو پوپ لیو چہاردہم کی بار بار کی جانے والی اپیلوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔
کارڈینل ڈیوڈ نے واضح کیا کہ کلیسیا کے مشن کو صرف اپنی تعداد میں اضافے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد صرف کیتھولک مومنین کی تعداد بڑھانا نہیں ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ بشارت کا اصل مقصد ہر انسان کے وقار کی تصدیق کرنا ہے، کیونکہ ہر انسان خدا کی صورت اور شبہیہ پر پیدا کیا گیا ہے۔ کلیسیا کو صرف مسیحیوں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ چلتے ہوئے ایسے معاشروں کی تعمیر میں کردار ادا کرنا ہے جو انصاف، یکجہتی اور امن پر قائم ہوں۔کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی دنیا تعمیر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے جو جنت کی مانند ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاں انسانی عظمت کا احترام کیا جاتا ہے، انصاف کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور امن کو فروغ دیا جاتا ہے، وہاں خدا کی بادشاہی نمایاں ہوتی ہے۔
کارڈینل ڈیوڈ نے انڈونیشیا کو بھی اس امر کی مثال قرار دیا کہ کلیسیا کسی غلبے یا خصوصی مراعات کی خواہش کے بغیر معاشرے میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے جکارتہ کے آرچ بشپ کارڈینل اگناشیئس سُہاریو ہاردجوآت مودجو کی جانب سے مشترکہ بھلائی، سماجی انصاف، تخلیق کی حفاظت اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد جیسے اصولوں کو اجاگر کرنے کو سراہا۔ان کے مطابق یہ اقدار مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے بھی قابلِ قبول ہیں اور کثیر مذہبی معاشرے میں مشترکہ جدوجہد کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے انڈونیشیا کے قومی فلسفے پنچاسیلا کے لیے بھی اپنی تحسین کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ مختلف برادریوں کو باہمی احترام کے ساتھ مل جل کر رہنے اور مشترکہ بھلائی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ ہماری نسل، ثقافت یا مذہب خواہ کچھ بھی ہو، ہم سب مشترکہ بھلائی کے حصول اور انسانی عظمت کے دفاع کے لیے کام کرتے ہیں۔ان کے خیالات ایف اے بی سی 12ویں جنرل اسمبلی کے ایک اہم موضوع کی عکاسی کرتے ہیں کہ سنوڈالی کلیسیا کا مشن تقسیم کو گہرا کرنا نہیں بلکہ مختلف لوگوں اور برادریوں کے درمیان اتحاد، مکالمے اور امن کے پل تعمیر کرنا ہے۔