FABC کے وفودنے ”اجتمائی مشاورتی گفتگو“ کے ذریعہ ایشیا میں کلیسیا کے لیے مشترکہ نصب العین پیش کیا۔
مختلف ثقافتوں، پاسبانی حالات اور قومی پس منظر کی نمائندگی کرنے کے باوجود فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کے شرکاء ایشیا میں کلیسیا کے مستقبل کے لیے ایک مشترکہ نصب العین پر متفق ہوئے۔ اس نصب العین کے مطابق کلیسیا کو مزید سنڈی، بشارتی اور لوگوں کے درمیان پْل تعمیر کرنے والی جماعت بننا چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا بڑھتی ہوئی تقسیم کا شکار ہے۔یہ مشترکہ نصب العین 23 جولائی کو اس وقت سامنے آیا جب 20 سے زائد گروہوں کے نمائندوں نے ٹیبل گفتگو کے نتائج جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کیے۔ یہ طریقہ کار شرکاء کو دْعا پر مبنی غوروفکر سے آگے بڑھاتے ہوئے اجتماعی روحانی تمیز اور عملی پاسبانی تجاویز تک پہنچانے کے لیے اختیار کیا گیا۔
یہ رپورٹس ان چھوٹے گروپوں کی گفتگو کے بعد پیش کی گئیں جن میں کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہن، اور عام مؤمنین شریک تھے۔ شرکاء نے دو بنیادی سوالات پر غور کیا: پہلا یہ کہ بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور ثقافتی حالات میں کلیسیا ایشیا میں پْل بنانے والی جماعت کیسے بن سکتی ہے، اور دوسرا یہ کہ مقامی کلیسیاؤں کو مزید بشارتی اور سنڈی برادریاں بنانے کے لیے کس قسم کی تبدیلی درکار ہے۔اگرچہ ہر گروپ نے اپنے مقامی تجربات کی روشنی میں گفتگو کی، لیکن پیش کی جانے والی رپورٹس میں ایشیا کو درپیش اہم مسائل کے بارے میں نمایاں ہم آہنگی دیکھنے میں آئی۔
شرکاء نے جنگ، سیاسی تقسیم، مذہبی انتہا پسندی، جارحانہ قوم پرستی، جبری ہجرت، ماحولیاتی تباہی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مواصلات کے تیز رفتار پھیلاؤ کو ایشیا کی کلیسیا کے سامنے موجود بڑے چیلنجز قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام کی کمزوری، اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی، سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ اور نوجوانوں میں زندگی کے مقصد کی تلاش کو بھی اہم مسائل میں شمار کیا گیا۔تاہم گفتگو کا مجموعی انداز مایوسی کی بجائے اْمید سے بھرپور تھا۔شرکاء نے ان حالات کو صرف مشکلات نہیں بلکہ کلیسیا کے لیے اپنے بشارتی مشن کو نئے سرے سے زندہ کرنے کے مواقع قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت صرف ایک انسانی بحران نہیں بلکہ بشارت کا بھی ایک اہم موقع ہے، کیونکہ مہاجرین اپنے ایمان کو نئی سرزمینوں تک لے کر جاتے ہیں، جبکہ مقامی کلیسیاؤں کو ان کے لیے خوش آمدید، رفاقت اور ساتھ چلنے والی برادریاں بننا چاہیے۔
اسی طرح شرکاء نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو، اگرچہ چیلنجز سے بھرپور، لیکن خاص طور پر نوجوانوں تک انجیل کا پیغام پہنچانے کے نئے میدان قرار دیا۔اجلاس کے دوران تعلیم کو ایشیا میں کلیسیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کیتھولک سکول، صحت کے ادارے، فلاحی تنظیمیں اور سماجی خدمت کے مراکز مختلف مذاہب اور پس منظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان پْل تعمیر کرنے کا موثر ذریعہ ہیں۔ جن ممالک میں کیتھولک اقلیت میں ہیں وہاں یہی ادارے کلیسیا کی سب سے مضبوط عوامی گواہی بن کر سامنے آتے ہیں۔
متعدد گروپس نے اس بات پر زور دیا کہ کلیسیا کا پْل بنانے والا مشن اندرونی تجدید سے شروع ہونا چاہیے۔ شرکاء نے عام مومنین، خواتین، نوجوانوں، مہاجرین، مقامی آبادیوں اور دیگر محروم طبقات کی زیادہ موثر شمولیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ذمہ داری سنڈیلٹی کی بنیادی پہچان ہے۔انہوں نے کاہنوں کی تربیت میں بھی ایسی تجدید کی ضرورت پر زور دیا جو ساتھ چلنے، مکالمہ اور روحانی تمیز کو فروغ دے۔تمام رپورٹس میں مکالمہ ایک مرکزی موضوع کے طور پر سامنے آیا۔ شرکاء نے کہا کہ ایشیا کا مذہبی اور ثقافتی تنوع ایک نعمت ہے، جو فروتنی، تحمل، باہمی احترام، بین المذاہب مکالمے اور مشترکہ بھلائی کے لیے تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔کئی گروپس نے امن کے قیام، ماحولیات کے تحفظ، ہجرت، خاندانی زندگی، ذہنی صحت، ڈیجیٹل اخلاقیات اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے کلیسیا کی گواہی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔رپورٹس کا ایک مشترکہ پیغام یہ تھا کہ سنڈیلٹی محض ایک پاسبانی طریقہ کار نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایک روحانی سفر ہے۔
سنڈ نے اس سفر کو ایسی تبدیلی سے تعبیر کیاجوصرف اداروں کو برقرار رکھنے سے بشارتی خدمت کی طرف،خود کو محفوظ رکھنے سے دوسروں تک پہنچنے کی طرف،تقسیم سے رفاقت کی طرف اور انفرادی قیادت سے تمام بپتسمہ یافتہ مومنین کی مشترکہ ذمہ داری کی طرف لے جاتی ہے۔
رپورٹ پیش کرنے کا یہ مرحلہ بحث و مباحثے پر نہیں بلکہ شام کی دْعا پر اختتام پذیر ہوا، جہاں تمام شرکاء نے دْعا کے ذریعے ٹیبل گفتگو سے حاصل ہونے والے نتائج کو روح القدس کی رہنمائی کے سپرد کیایہ مرحلہ FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی میں ایک اور اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جس نے یہ واضح کیا کہ روح میں مکالمہ سے شروع ہو کر ٹیبل گفتگو تک پہنچنے والا سنڈی طریقہ کار ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کے مختلف تجربات کو سنتے ہوئے مشترکہ پاسبانی ترجیحات متعین کرنے میں موثر کردار ادا کر رہا ہے۔مجموعی طور پر شرکاء کی رپورٹس نے ایک ایسی کلیسیا کا اْمید افزا تصور پیش کیا جو مل کر سفر کرتی، رفاقت کو گہرا بناتی اور پورے ایشیا میں پْل تعمیر کرنے کے اپنے مشن کو مزید مضبوط کرتی ہے۔