فادر فیلمار فیل کی ڈیجیٹل مشنریوں سے مقامی برادریوں کی کہانیاں دنیا تک پہنچانے کی اپیل

 فادر فیلمار فیل
فادر فیلمار فیل

 فادر فیلمار فیل نے کہا کہ کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں کو چاہیے کہ وہ آن لائن پلیٹ فارمز کو مقامی برادریوں کی زندگی، ثقافت اور تجربات سے جڑی کہانیاں بیان کرنے کے لیے استعمال کریں۔ ریڈیو ویریتاس ایشیا کے جنرل مینیجر فادر فیلمار فیل، SVD، نے 11 ستمبر کو کوئزون سٹی میں منعقدہ پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کے دوران ایشیا کی حقیقتوں کے موضوع پر ہونے والے پینل مباحثے میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے افراد، برادریوں، فلپائن کی ثقافت اور تاریخ سے متعلق کہانیاں پیش کرنے کے اپنے تجربات بیان کیے۔
11 تا 13 ستمبر کو پوپ جان پال دوم آڈیٹوریم، کوئزون سٹی میں منعقد ہونے والی اس اسمبلی میں ایشیا بھر سے کیتھولک ڈیجیٹل مشنری، ابلاغی ماہرین اور مواد تخلیق کرنے والے افراد شریک ہیں تاکہ ڈیجیٹل ماحول میں کلیسیا کی جانب سے انجیل کے اعلان کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔جنوبی فلپائن کے علاقے مندناو سے تعلق رکھنے والے ورڈ مشنری فادر فیلمار نے بتایا کہ ڈیجیٹل کہانیاں بیان کرنے کی جانب ان کا سفر ایک بلاگر اور ریڈیو براڈکاسٹر کی حیثیت سے ان کے تجربے سے شروع ہوا۔انہوں نے 2014 میں سیبو میں ریڈیو کی خدمت کا آغاز کیا۔ کئی برس تک نشریاتی شعبے میں کام کرنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ان کے پاس ریڈیو پروگراموں کے علاوہ بھی ایسی کہانیاں ہیں جنہیں وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ڈیجیٹل مواد تیار کرنے پر زیادہ توجہ دینا شروع کی۔
آج وہ ریڈیو ویریتاس ایشیا کے ذریعے انگریزی زبان میں مواد اور روحانی دھیان و گیان تیار کرتے ہیں، جبکہ سیبوانو زبان میں بھی مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز چلا رہے ہیں۔ان کے سیبوانو زبان کے مواد میں فلپائن کی ثقافت اور تاریخ سے متعلق کہانیاں شامل ہوتی ہیں، جس کے ذریعے وہ لوگوں سے ایسے تجربات اور موضوعات کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں جو ان کی اپنی زندگیوں سے مانوس ہیں۔فادر فیلمار کے نزدیک ڈیجیٹل بشارتِ انجیل محض مذہبی مواد تیار کرنے کا نام نہیں۔ اس میں مقامی برادریوں میں پہلے سے موجود کہانیوں کو پہچاننا اور انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کے طریقے تلاش کرنا بھی شامل ہے۔مقامی لوگوں، برادریوں اور ان کی ثقافت سے متعلق کہانیاں سامعین اور ناظرین کو یہ احساس دلا سکتی ہیں کہ کلیسیا کے ابلاغ میں ان کے اپنے تجربات بھی جگہ رکھتے ہیں، جبکہ یہی کہانیاں ان حقائق کو وسیع تر سامعین سے متعارف کرانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔ان کے تجربے نے انہیں مختلف سامعین کے لیے مختلف پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی طرف بھی متوجہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا فیس بْک مواد صرف کیتھولک افراد کے لیے نہیں بلکہ غیر کیتھولک اور دیگر مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے بھی ہے۔ اس کے برعکس ان کے یوٹیوب پر روحانی  پیغامات زیادہ تر کیتھولک سامعین کے لیے ہوتے ہیں۔یہ طریقہ کار ایک ہی ڈیجیٹل مشن کو زبان، ثقافت اور متعلقہ سامعین کے مطابق مختلف انداز میں پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
فلپائن میں فادر فیلمار کی جانب سے سیبوانو زبان کا استعمال خاص اہمیت رکھتا ہے۔ فلپائن سات ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ملک ہے، جہاں سیکڑوں زبانیں اور مختلف علاقائی ثقافتیں پائی جاتی ہیں۔ سیبوانو مندناو اور وسطی فلپائن میں بڑے پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے۔فادر فیلمار کے مطابق لوگوں کی اپنی زبان میں کہانیاں بیان کرنے سے ڈیجیٹل مشنری ایسے انداز میں ابلاغ کر سکتے ہیں جو لوگوں کے روزمرہ تجربات سے زیادہ قریب ہو۔
مباحثے کے دوران اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ ایسی کہانیاں بیان کرنا اہم ہے جنہیں سامعین پہچان سکیں اور جن سے وہ اپنا تعلق محسوس کریں، بجائے اس کے کہ صرف دور دراز علاقوں یا مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والی کہانیوں پر انحصار کیا جائے۔ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے فادر فیلمار کا تجربہ ڈیجیٹل بشارتِ انجیل کا ایک ایسا نمونہ پیش کرتا ہے جو مقامی برادریوں کو سننے اور ان کہانیوں کو دریافت کرنے سے شروع ہوتا ہے جو ان کے لیے اہم ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ان کہانیوں کو وسیع تر سامعین تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جبکہ ان کے پس منظر میں موجود زبان، ثقافت اور انسانی تجربات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔اس طریقہ کار میں مشن کا مقصد صرف زیادہ کیتھولک مواد تیار کرنا نہیں بلکہ ان لوگوں اور برادریوں کی حقیقی کہانیوں کے ذریعے ایمان کا پیغام پہنچانا ہے جن کی کلیسیا خدمت کرتی ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup