میرال عاطق کی ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں سے لوگوں تک ان کی زندگی کی حقیقتوں میں پہنچنے کی اپیل
کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں اور ان کے روزمرہ تجربات کو اپنی خدمت کا نقطہ آغاز بنائیں، پہلے ان کی بات سنیں اور سمجھیں کہ وہ کن حالات سے گزر رہے ہیں، پھر یہ فیصلہ کریں کہ انہیں کیا کہنا ہے یا کس طرح ان کی خدمت کرنی ہے۔ مقدس سرزمین سے تعلق رکھنے والی ایک میڈیا ماہر نے یہ بات کہی۔یروشلم کے لاطینی کلیسیائی مرکز کے تحت ڈایوسیس آف یروشلم کی میڈیا آفیسر میرال عاطق نے 11 ستمبر کو کوئزون سٹی میں پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کے دوران ِ ایشیا کی حقیقتوں کے موضوع پر ہونے والے پینل مباحثے میں ذاتی ملاقات اور براہِ راست انسانی رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔
11 تا 13 ستمبر جاری رہنے والی اس اسمبلی میں ایشیا بھر سے کیتھولک ڈیجیٹل مشنری، ابلاغی ماہرین اور مواد تخلیق کرنے والے افراد شریک ہیں تاکہ تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل ثقافت میں کلیسیا کے مشن پر غور کیا جا سکے۔میرال عاطق نے کہا کہ لوگوں کی خدمت کرنے سے پہلے یہ سننا اور جاننا ضروری ہے کہ ہر شخص کن حالات اور تجربات سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ خاص طور پر مقدس سرزمین میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں ڈایوسیس آف یروشلم اردن، فلسطین، اسرائیل اور قبرص میں موجود کیتھولک برادریوں کی خدمت کرتا ہے۔ یہ خطہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور سماجی حالات پر مشتمل ہے، جبکہ جاری تنازعات اور انسانی تکالیف نے مختلف علاقوں کے لوگوں کے تجربات کو ایک دوسرے سے بہت مختلف بنا دیا ہے۔
میرال عاطق نے کہا کہ شمالی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو درپیش حالات مغربی کنارے میں رہنے والے افراد کے حالات سے مختلف ہیں، جبکہ غزہ کے لوگوں کے تجربات اس سے بھی مختلف ہیں۔ان کے مطابق یہ اختلافات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ کلیسیا کے ابلاغی کارکن لوگوں کے حالات کو سمجھے بغیر سب کے لیے ایک ہی پیغام لے کر ان کے پاس نہ جائیں۔اس کی بجائے ضروری ہے کہ پہلے لوگوں کی بات سنی جائے، ان کے حالات اور تجربات کو سمجھا جائے اور پھر انہی حالات کے اندر رہتے ہوئے ان کے ساتھ چلنے اور ان کی معاونت کے طریقے تلاش کیے جائیں۔انہوں نے اس طرزِ عمل کو یسوع مسیح کی خدمت سے جوڑا، جنہوں نے لوگوں سے ذاتی طور پر ملاقات کی اور ان کی زندگی کے حالات کو سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ برتاؤ کیا۔
میرال عاطق نے کہا کہ یسوع لوگوں سے وہیں ملے جہاں وہ موجود تھے۔یہ اصول کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ ایک ہی پوسٹ، ویڈیو یا پیغام کے ذریعے جغرافیائی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہو کر بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔تاہم وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل رسائی اس ضرورت کو ختم نہیں کرتی کہ اسکرین کے دوسری جانب موجود لوگوں کو سمجھا جائے۔میرال عاطق کے نزدیک ابلاغ کا آغاز انسانی ملاقات سے ہوتا ہے۔ مواد حقیقی لوگوں، ان کے تجربات، ان کے سوالات اور ان امیدوں سے جنم لینا چاہیے جو ان کی زندگیوں کو تشکیل دیتی ہیں۔
ڈایوسیس آف یروشلم کی میڈیا آفیسر کی حیثیت سے ان کی اپنی خدمت بھی اسی طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ اردن، فلسطین، اسرائیل اور قبرص میں مقامی کلیسیا کی زندگی سے متعلق مواد تحریر، تدوین اور ملٹی میڈیا مواد تیار کرتی ہیں، جسے دنیا بھر کے سامعین تک پہنچایا جاتا ہے۔تنازعات سے متاثرہ خطے میں کام کرنا ابلاغ کے حوالے سے ایک حساس چیلنج بھی پیش کرتا ہے۔ میرال عاطق نے کہا کہ کلیسیا کے ابلاغی کارکنوں کو لوگوں کی تکالیف اور اپنے اردگرد کی حقیقتوں کو تسلیم کرنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کیتھولک ابلاغ محض سیاسی رنگ اختیار نہ کر لے۔
ان کے مطابق انجیل کو ان لوگوں کی زندگیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا جن تک اس کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے، تاہم ابلاغ کو کلیسیا کے مشن میں اپنی بنیاد برقرار رکھنی چاہیے۔ثقافتی، مذہبی اور سماجی تنوع رکھنے والے معاشروں میں خدمت کرنے والے ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے میرال عاطق کا تجربہ ایک عملی اصول پیش کرتا ہے: لوگوں سے یہ توقع کرنے سے پہلے کہ وہ کلیسیا کے پاس آئیں، کلیسیا کو چاہیے کہ وہ پہلے وہاں پہنچے جہاں لوگ موجود ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کلیسیا کی رسائی کو وسیع کر سکتے ہیں، لیکن بامعنی بشارتِ انجیل کے لیے اب بھی ہر فرد اور ہر برادری کی حقیقی صورتحال پر توجہ دینا ضروری ہے۔
میرال عاطق کا پیغام صرف بہتر ڈیجیٹل مواد تیار کرنے کے بارے میں نہیں تھا۔ یہ سننے کی ایک مشنری عادت پیدا کرنے، لوگوں کو سمجھنے اور ان کی زندگی کے حقیقی حالات کو اس بات کی بنیاد بنانے کے بارے میں تھا کہ کلیسیا کس طرح ان کے ساتھ چلتی اور ان تک اپنا پیغام پہنچاتی ہے۔
