سنڈیلٹی کا آغاز نئے قوانین سے نہیں بلکہ دلوں کی تبدیلی سے ہوتا ہے۔ کارڈینل گریچ

 کارڈینل گریچ
کارڈینل گریچ

کیتھولک کلیسیا میں سنڈیلٹی کا مستقبل سب سے پہلے دلوں کی تبدیلی پر منحصر ہے، نہ کہ کلیسیائی قانون میں تبدیلیوں پر۔ کارڈینل ماریو گریچ نے یہ بات فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کے 12ویں جنرل اسمبلی کی دوسری پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔سنڈ آف بشپس کے سیکریٹری جنرل نے 24 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا کے میڈیا روم میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سنڈ برائے سنڈیلٹی کے  اثرات مستقبل میں کلیسیا کے قانونی ڈھانچے کا حصہ بن سکتے ہیں، تاہم حقیقی کلیسیائی تجدید کا آغاز انجیل اور انسانی دل کی تبدیلی سے ہونا چاہیے۔کارڈینل گریچ نے کہا کہ تبدیلی صرف رویوں کی نہیں بلکہ دل کی ہے۔ یہ دستاویزات کا معاملہ نہیں، کیونکہ ہمارے پاس بنیادی دستاویز موجود ہے اور وہ انجیل ہے۔
ان کا یہ جواب سنڈ برائے سنڈیلٹی کے ان بنیادی موضوعات کی عکاسی کرتا ہے جن میں کلیسیاؤں کو سماعت، روحانی امتیاز اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعہ رفاقت، شرکت اور مشن کو مزید گہرا کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔سنڈیلٹی اور کلیسیائی قانون کے باہمی تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کارڈینل گریچ نے روحانی تجدید اور ادارہ جاتی اصلاح کے درمیان واضح فرق بیان کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کلیسیا کی زندگی میں ڈھانچے اور قانونی اصول اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم انہیں کلیسیائی تجدید کا نقطہ آغاز نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انجیل کو ہمیشہ اولیت حاصل ہے۔ جب دل تبدیل ہوتے ہیں تو اس کے بعد کلیسیائی ڈھانچے سنڈی طرزِ زندگی کو موثر انداز میں سہارا دے سکتے ہیں۔
کارڈینل گریچ نے نشاندہی کی کہ کلیسیا میں پہلے ہی ایسے متعدد ادارہ جاتی ڈھانچے موجود ہیں جوسنڈیلٹی کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن میں پیرش اور ڈایوسیس کی پاسبانی کونسلز، کاہنوں کی کونسلز، مشاورتی ارکان کی مجالس، ڈایوسیس کے سنڈ، بشپ کانفرنسز اور دیگر مشاورتی ادارے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بالکل نئے ادارے قائم کرنے کی بجائے اصل چیلنج یہ ہے کہ پہلے سے موجود ڈھانچوں کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کیا جائے اور انہیں رفاقت، شرکت اور مشن کی روح سے زندہ کیا جائے۔تاہم کارڈینل گریچ نے تصدیق کی کہ سنڈ کے عمل نے کلیسیائی قانون میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے بھی سنجیدہ غور و فکر کو جنم دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پوپ لیوکی منظوری سے سنڈ کے دوران کلیسیائی قانون کے ماہرین پر مشتمل دو کمیشن قائم کیے گئے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ سنڈ سے حاصل ہونے والی بصیرت کو کلیسیا کے قانونی ڈھانچے میں کس طرح شامل کیا جا سکتا ہے۔ان میں سے ایک کمیشن لاطینی کلیسیا کے لیے جبکہ دوسرا مشرقی کیتھولک کلیسیاؤں کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

 کارڈینل گریچ
کارڈینل گریچ

کارڈینل گریچ کے مطابق لاطینی کلیسیا سے متعلق کمیشن اپنا کام مکمل کر چکا ہے، جبکہ مشرقی کلیسیاؤں کے لیے قائم کمیشن اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے رہا ہے۔انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ جب یہ دستاویزات مکمل ہو جائیں گی تو انہیں متعلقہ ڈیکاسٹریز اور پوپ لیو کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔اس کے باوجود کارڈینل گریچ نے زور دیا کہ مستقبل میں کلیسیائی قانون میں ہونے والی کوئی بھی اصلاح کلیسیا کی گہری روحانی تجدید کی خدمت کرے، نہ کہ اس کی جگہ لے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سنڈ کے پورے سفر نے یہ واضح کیا ہے کہ کونسلز، اجتماعات اور کلیسیائی قوانین اپنے طور پر سنڈی کلیسیا تشکیل نہیں دے سکتے۔ یہ ڈھانچے اسی وقت موثر ثابت ہوتے ہیں جب انہیں ایسے مومنین کی زندگی میں نافذ کیا جائے جنہوں نے انجیل کو دل سے قبول کیا ہو اور ایمان میں مل کر سفر کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔
کارڈینل گریچ نے کہا کہ سنڈ برائے سنڈیلٹی پر عمل درآمد کے اس مرحلے میں دیرپا کلیسیائی تجدید بنیادی طور پر قانون سازی کے ذریعہ نہیں بلکہ ان مسیحیوں کے ذریعہ آئے گی جن کے دل مسیح کے ذریعہ تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت میں قوانین اور کلیسیائی ڈھانچے کلیسیا کے رفاقت، شرکت اور بشارت کے مشن کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں۔