سنڈیلٹی ، زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے، کوئی نیا کلیسیائی پروگرام نہیں۔فادر کلارنس دیواداس

فادر کلارنس دیواداس
فادر کلارنس دیواداس

فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کے ایسوسی ایٹ سیکریٹری اور ایف اے بی سی آفس آف سنڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکریٹری فادر کلارنس دیواداس نے کہا ہے کہ ایشیا میں سنڈیلٹی اسی وقت حقیقی معنوں میں جڑ پکڑے گی جب اسے ایک نئے پاسبانی پروگرام کی بجائے زندگی گزارنے کے ایسے طریقے کے طور پر اپنایا جائے جو کلیسیا کے طرزِ زندگی، سماعت اور مشن کو تبدیل کرے۔فادر کلیرنس دیواداس نے یہ بات 24 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا کے لیٹریس میڈیا روم میں ایف اے بی سی کی12ویں جنرل اسمبلی کی دوسری پریس کانفرنس کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ سنڈ برائے سنڈیلٹی اب عمل درآمد کے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے، اس لیے ہر مقامی کلیسیا کے لیے ضروری ہے کہ سنڈیلٹی کو کسی عارضی منصوبہ کی بجائے اپنی روزمرہ کلیسیائی زندگی کا حصہ بنائے۔فادر دیواداس نے کہا کہ بہت سے لوگ سنڈیلٹی کو ایک اور سرگرمی یا نئے پروگرام کے طور پر سمجھتے ہیں، لیکن سنڈیلٹی کا مقصد مزید کام شامل کرنا نہیں بلکہ جو کام کلیسیا پہلے ہی انجام دے رہی ہے، اسے ایک مختلف انداز سے انجام دینا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بہت سے کاہن اور کلیسیائی رہنماپہلے ہی اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے باعث مصروف اور بوجھل ہیں۔ تاہم ان کے مطابق سنڈیلٹی کوئی اضافی بوجھ نہیں بلکہ کلیسیا کے مشن کو سماعت، روحانی امتیاز، شرکت اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے انجام دینے کا ایک نیا طرز ہے۔ایشیا میں  سنڈیلٹی کے نفاذ کے حوالے سے انہوں نے براعظم کی ثقافتی، لسانی اور سماجی تنوع کو ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق ایشیا کے تمام مقامی کلیسیاؤں کے لیے سنڈیلٹی کا ایک ہی نمونہ مؤثر نہیں ہو سکتا بلکہ ہر مقامی کلیسیا کو اپنے مخصوص حالات میں سنڈیلٹی کی عملی شکل کو روح القدس کی رہنمائی میں پہچاننا ہوگا۔
فادر دیواداس نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف زبان یا اصطلاح کا نہیں بلکہ روحانیت کا ہے۔ سنڈیلٹی کے ساتھ حقیقی روحانی تبدیلی ضروری ہے تاکہ یہ محض ایک طریقہ کار نہ رہے بلکہ کلیسیا کے وجود اور زندگی کا حصہ بن جائے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اگر سنڈیلٹی صرف ایک عمل یا طریقہ کار تک محدود رہے گی تو لوگ آخرکار پوچھیں گے کہ اس کے بعد کیا ہوگا، لیکن جب یہ روحانیت بن جائے گی تو یہ ہماری روزمرہ زندگی کے انداز کو تشکیل دے گی۔ان کے مطابق اس روحانیت کو کلیسیائی زندگی کے ہر پہلو میں نمایاں ہونا چاہیے، خواہ وہ پیرش پاسبانی کونسلز، مالیاتی کونسلز، ڈایوسیس کے اجتماعات، پیرش کی خدمات یا روزمرہ کے فیصلے ہوں۔فادر دیواداس نے زور دیا کہ کلیسیا کو صرف موجودہ ڈھانچوں کو برقرار رکھنے والی کلیسیا سے آگے بڑھ کر ایک مشنری کلیسیا بننے کی ضرورت ہے جو لوگوں تک پہنچتی ہے اور انجیل کی خوشخبری سناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تجدید کا مطلب کلیسیا کی عظیم روایات کو ترک کرنا نہیں بلکہ ان روایات کو آج کی دنیا میں انجیل کے اعلان کے نئے طریقوں کے لیے تحریک کا ذریعہ بنانا ہے۔
فادر کلارنس دیواداس کا پیغام ایف اے بی سی کی 12ویں جنرل کونسل کے ایک اہم موضوع کی عکاسی کرتا ہے کہ سنڈیلٹی بنیادی طور پر تبدیلی کا نام ہے۔ یہ کلیسیا کو سماعت، مکالمہ اور اجتماعی روحانی امتیاز کے ذریعہ روح القدس کی رہنمائی پر زیادہ توجہ دینے اور اپنے مشن کے ساتھ وفادار رہتے ہوئے مل کر سفر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔سنڈ برائے سنڈیلٹی کے عالمی سطح پر عمل درآمد کے اس مرحلہ میں فادر دیواداس کے مطابق ایشیا میں سنڈیلٹی کی کامیابی کا انحصار نئے ڈھانچوں یا اضافی پروگراموں پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوگا کہ مقامی کلیسیائیں  سنڈیلٹی کو انجیل کے مطابق زندگی گزارنے اور مشن میں مل کر آگے بڑھنے کا اپنا معمول کا طریقہ بناتی ہیں یا نہیں۔