ایشیا کے ڈیجیٹل انفلوئنسرز کی پہلی اسمبلی، تعاون اور سیکھنے کے نئے مواقع پر توجہ
مورخہ 10 ستمبر 2026 کو ایشیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اور ابلاغ کار، ایشین کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی میں شرکت کے لیے ریڈیو ویریتاس ایشیا، فیئرویو پارک، کوئزون سٹی میں جمع ہو رہے ہیں۔ یہ چار روزہ اسمبلی 10 سے 13 ستمبر تک جاری رہے گی۔ریڈیو ویریتاس ایشیا کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس اسمبلی میں ایشیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکاء ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے کیتھولک کلیسیا کے بشارتی اور ابلاغی مشن میں بڑھتے ہوئے کردار پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔اس اجتماع کا موضوع”انفلوائنسرزسے ایمان کے گواہوں تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے کلیسیائی سنڈی راستہ“ ہے۔ اس موضوع کے ذریعے کیتھولک ڈیجیٹل ابلاغ کاروں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ محض سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات بننے کی بجائے ڈیجیٹل دنیا میں ایمان کے حقیقی اور موثر گواہ بنیں۔
اسمبلی میں شرکت کرنے والوں میں بھارت کے آرچ ڈایوسیس آف مدراس اورمائیلاپور سے تعلق رکھنے والے فادر رچی ونسنٹ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس اسمبلی میں شرکت کے لیے ان کی دلچسپی ویٹی کن میں منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی ڈیجیٹل مشنری اجتماع میں شرکت کے بعد پیدا ہوئی۔فادر رچی کے مطابق ویٹی کن میں منعقدہ اس اجتماع میں ایشیا سے بہت کم ڈیجیٹل مشنری شریک ہوئے تھے، جس پر ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ایشیا کے ڈیجیٹل مشنری کہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سوال ان کے اندر ایک مضبوط خواہش بن گیا اور منیلا میں ہونے والی یہ اسمبلی ایشیا کے ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے ایک دوسرے سے ملنے، تعاون کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا اہم موقع ہے۔فادر رچی اس وقت بھارت میں ایک ڈیجیٹل مشنری کمیونٹی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جہاں کیتھولک سوشل میڈیا انفلوئنسرز تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل مشنری کیتھولک تعلیم اور مطالعہ میں مزید گہرائی پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس اسمبلی کے ذریعے نئی مہارتوں اور ٹیکنالوجیز کے بارے میں جاننے کے ساتھ ساتھ ایسے نئے خیالات حاصل کرنا چاہتے ہیں جو بھارت میں اْن کی ڈیجیٹل خدمت کو مزید موثر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
فلپائن سے تعلق رکھنے والی جی ریا جادولکو نے کہا کہ یہ اسمبلی انہیں یہ جاننے کا موقع فراہم کر رہی ہے کہ ایشیا کے دوسرے ممالک میں سوشل میڈیا اور سماجی ابلاغ کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ مختلف ایشیائی ثقافتوں سے سیکھنا چاہتی ہیں اور یہ جاننا چاہتی ہیں کہ دوسرے ممالک میں سوشل میڈیا اور سماجی ابلاغ کس انداز میں استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے مختلف ممالک سے آنے والے شرکاء سے ملاقات اور اس اجتماع کے دوران نئی دوستیاں قائم کرنے کی بھی اْمید ظاہر کی۔
فلپائن ہی سے تعلق رکھنے والی میکا ایلہ ایل تبادا نے کہا کہ وہ اسمبلی میں ہونے والی گفتگو اور ایشیا بھر سے آنے والے ساتھی ڈیجیٹل مشنریوں سے ملاقات کی منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ تمام شرکاء ایشیائی ہیں، تاہم ان کی ثقافتیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کام کرنے کے طریقے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق یہی فرق ایک دوسرے سے سیکھنے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔تبادا نے فلپائن کی مہمان نوازی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اْن خصوصیات میں شامل کیا جنہیں فلپائن سے آنے والے شرکاء دیگر مندوبین کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔
انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی جینیفر اوڈیلیا میرڈیتھ نے کہا کہ وہ دوسرے شرکاء سے ملاقات اور اپنے اپنے ممالک میں ڈیجیٹل مشن کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر گفتگو کی منتظر ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجتماع شرکاء کو اپنی اپنی کمیونٹیز کے لیے میڈیا اور ڈیجیٹل مواد تیار کرنے کے نئے طریقے سیکھنے میں مدد دے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ انڈونیشیا سے اس اسمبلی میں کیا لے کر آئی ہیں تو میرڈیتھ نے ایک دوسرے کے لیے دعا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اس اسمبلی کے دوران شرکاء ڈیجیٹل بشارت، ذرائع ابلاغ اور ایشیا میں کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں کے درمیان تعاون کے موضوعات پر مختلف مباحث، تربیتی نشستوں اور تجربات کے تبادلے میں حصہ لیں گے۔
