ایشیائی بشپ صاحبان نے سنڈیلٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے علاقائی ترجیحات طے کر لیں۔

ایشیائی بشپ صاحبان
ایشیائی بشپ صاحبان

فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی میں شرکا نے علاقائی ترجیحات پیش کیں، جن کا مقصد تعاون کو مضبوط بنانا، مشترکہ کلیسیائی و روحانی چیلنجز کا سامنا کرنا اور پورے ایشیا میں سنڈیلٹی زندگی کو مزید گہرا کرنا ہے۔فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کے شرکا نے 25 جولائی کو علاقائی ترجیحات کا ایک سلسلہ پیش کیا، جس میں عملی طریقوں کی نشاندہی کی گئی کہ ایشیا کی کیتھولک کلیسیا کس طرح تعاون کو مضبوط بنا سکتی ہے، مشترکہ کلیسیائی و روحانی چیلنجز کا جواب دے سکتی ہے اور پورے براعظم میں سنڈیلٹی زندگی کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔یہ رپورٹس جنرل اسمبلی کے علاقائی ٹیبل مذاکرات کا نتیجہ تھیں۔ اس عمل میں ہمسایہ ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکاء چھوٹے علاقائی گروہوں میں جمع ہوئے تاکہ دْعا، روحانی امتیاز اور مکالمہ کے ذریعے اپنے حالات پر غور کر سکیں۔ صبح اور دوپہر کا وقت علاقائی روحانی امتیاز میں گزارنے کے بعد شرکا جکارتہ کے ہوٹل مولیا کے وانڈا روم میں دوبارہ جمع ہوئے تاکہ اپنی گفتگو کے نتائج پیش کر سکیں۔ یہ اجلاس  پاپائے اعظم کے جنرل اسمبلی کے لیے پیغام سے قبل آخری عملی اجلاسوں میں سے ایک تھا۔اس اجلاس کی نظامت ڈھاکہ کے آرچ بشپ اور بنگلہ دیش کی کیتھولک بشپس کانفرنس کے صدر آرچ بشپ بیجوئے این ڈی کروزنے کی۔علاقائی رپورٹس جنوب مشرقی ایشیا کے لیے فلپائن کے کیسیریس کے آرچ بشپ ریکس اینڈریو سی الارکون، جنوبی ایشیا کے لیے سری لنکا کے چیلاو کے بشپ وِمل سری جے سوریہ، جبکہ وسطی اور مشرقی ایشیا کے لیے کرغزستان کے اپوسٹولک ایڈمنسٹریٹر بشپ انتھونی جیمز کورکوران نے پیش کیں۔
جنوب مشرقی ایشیا کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے آرچ بشپ الارکون نے کہا کہ خطہ میں بشپس کانفرنسز کے درمیان مضبوط تعاون پائیدار پْل تعمیر کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ شرکا نے نقل مکانی، علاقائی روابط اور کلیسیائی و روحانی وسائل کے زیادہ سے زیادہ تبادلے کو اہم ترجیحات قرار دیا۔سفارشات میں تارکین وطن کے لیے مراکز کا قیام، تارکین وطن کی برادریوں کی خدمت کے لیے فیدی ڈونم کاہنوں کو بھیجنا، تارکین وطن کی کلیسیائی خدمت کے لیے بشپس کی کانفرنسز کے درمیان معاہدے کرنا اور FABC سے منسلک ایک علاقائی معلوماتی مرکز قائم کرنا شامل تھا۔گروپ نے کلیسیائی و روحانی ماہرین کی ڈائریکٹری، مشترکہ علاقائی کیلنڈر، یکجہتی فنڈ، سیمینری کے تربیتی ذمہ داروں کے نیٹ ورکس، بشپس کے درمیان دعائیہ اقدامات اور FABC کی دستاویزات کے زیادہ وسیع پیمانہ پر تراجم کی بھی تجویز دی تاکہ یہ دستاویزات پورے خطہ میں زیادہ آسانی سے قابل رسائی ہوں۔جنوبی ایشیا کی نمائندگی کرتے ہوئے بشپ جے سوریہ نے کہا کہ خطے کی بھرپور ثقافتی، لسانی اور مذہبی گوناگونی کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات، مذہبی قوم پرستی، نقل و حرکت پر پابندیوں اور مسیحی برادریوں کو درپیش دباؤ جیسے مشترکہ چیلنجز بھی موجود ہیں۔

ایشیائی بشپ صاحبان
ایشیائی بشپ صاحبان

جنوبی ایشیا کے شرکا نے بشپ صاحبان کے درمیان مزید باہمی تبادلوں، مشترکہ زیارتوں، علاقائی مواصلاتی نیٹ ورکس، کلیسیائی و روحانی تجربات کے تبادلے، جنوبی ایشیا کے مقدسین کی روحانیت کے فروغ اور ایسے بین العلوم فورمز کے قیام کی سفارش کی جن میں مقدس صحائف، کلیسیائی قانون، عبادت، الٰہیات، عمرانیات اور بشریات کے ماہرین ایک ساتھ جمع ہو سکیں۔انہوں نے کلیسیائی و روحانی اقدامات اور بہترین تجربات کے تبادلے کو آسان بنانے کے لیے ایک علاقائی میڈیا پلیٹ فارم قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔وسطی اور مشرقی ایشیا کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بشپ کورکوران نے باہمی ملاقات کو حقیقی معنوں میں پْل تعمیر کرنے کی بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی کلیسیائی و روحانی پھلدار اس وقت شروع ہوتی ہے جب لوگ اور برادریاں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، ایک دوسرے کی بات سنتی ہیں اور بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ مل کر سفر کرتی ہیں۔خطہ نے بشپس کے درمیان باہمی تبادلوں، سیمینری کی تربیتی سرگرمیوں، نوجوانوں کے اقدامات، تارکین وطن کے لیے سنڈیلٹی برادریوں، علاقائی زیارتوں اور ایسے فورمز کو وسعت دینے کی تجویز دی جہاں مقامی کلیسیائیں اپنے کامیا ب اور مشکل دونوں طرح کے کلیسیائی و روحانی تجربات کھل کر ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکیں۔شرکا ء نے بشارت، تحفظ اورڈیجیٹل کلیسیائی خدمت کے شعبوں میں مزید تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا، جبکہ ایشیا کے بہت سے معاشروں میں معمر افراد کے ساتھ رفاقت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو اجاگر کیا۔انہوں نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ زیادہ مضبوط اور مستحکم کلیسیائیں مشنری تعاون اور یکجہتی کے ذریعے چھوٹی اور زیادہ کمزور مقامی کلیسیاؤں کے لیے مزید تعاون فراہم کریں۔
اگرچہ ہر خطہ نے اپنے مخصوص کلیسیائی و روحانی حالات کو اْجاگر کیا، تاہم تینوں رپورٹس ایک مشترکہ وژن پر متفق نظر آئیں۔ یہ وژن ایشیا میں ایک ایسی زیادہ مربوط کلیسیا کا ہے جو باہمی سماعت، مشترکہ ذمہ داری اور عملی تعاون پر قائم ہو۔توقع ہے کہ علاقائی تجاویز جنرل اسمبلی کی حتمی سفارشات کی تیاری میں معاون ثابت ہوں گی اور جنرل اسمبلی کے دوران تیار کیے جانے والے سنڈیلٹی رہنما کتابچہ میں بھی شامل ہوں گی۔ یہ رہنما کتابچہ مقامی کلیسیاؤں کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ وہ پورے ایشیا میں، جنرل اسمبلی کے الفاظ میں، پْل اور پْل بنانے والی کلیسیا بن سکیں۔