انجیل سْنانے سے پہلے زمین تیار کریں۔کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ

 کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ
کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ

فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کے نائب صدر کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ نے کہا ہے کہ انجیل کی بشارت کا آغاز بولنے سے نہیں بلکہ سننے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بات 24 جولائی کو جکارتہ میں FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی  کی یوخرستی عبادت کے دوران اپنے وعظ میں کہی۔بشپ صاحبان، کاہنوں اورمومنین سے خطاب کرتے ہوئے کارڈینل ڈیوڈ نے ارمیا نبی کی کتاب اور بیج بونے والے کی تمثیل پر غور کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں کلیسیا کو سنڈی تبدیلی کی روشنی میں اپنے بشارتی مشن پر نئے انداز سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ارمیانبی کے اس تصور کا حوالہ دیا جس میں خدا کے دل کے مطابق چرواہوں کا ذکر ہے، اور کہا کہ کلیسیا کو ایک دانا بیج بونے والے کی مثال بھی اپنانی چاہیے، جو جانتا ہے کہ کامیاب کاشت بیج بونے سے بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے۔کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ عام طور پر اس تمثیل میں بیج کو خدا کے کلام اور زمین کو مختلف قسم کے سننے والوں کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن ہمیں خاص طور پرزمین کی حالت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے فلپائن میں ایک بنیادی کلیسیائی برادری کے ساتھ بائبل شیئرنگ کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کیا، جہاں ایک عمر رسیدہ کسان نے اس تمثیل کے بارے میں ایک منفرد نقطہ پیش کیا۔
کارڈینل ڈیوڈ نے بتایاکہ اس کسان نے ادب سے مجھ سے کہا کہ تمثیل میں بیان کیا گیا بیج بونے والا اچھا کسان نہیں تھا، کیونکہ اس نے بیج راستے پر، پتھریلی زمین پر اور کانٹوں میں بھی بکھیر دیا۔انہوں نے کہا کہ اس تبصرے نے انہیں کلیسیا کے بشارتی مشن کو ایک نئے زاویہ سے سمجھنے میں مدد دی۔انہوں نے کہا کہ ایک اچھا کسان جانتا ہے کہ زیادہ تر محنت بیج بونے سے پہلے ہوتی ہے۔ وہ پہلے زمین تیار کرتا ہے۔کارڈینل ڈیوڈ کے مطابق یہی تصور آج کے دور میں بشارت کے اصل مفہوم کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجیل کی منادی کرنے سے پہلے کلیسیا کو لوگوں کے دلوں کو خدا کے کلام کے لیے تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زمین تیار کرنے کا مطلب ہے بولنے سے پہلے سننا، بحث سے پہلے مکالمہ کرنا، قائل کرنے سے پہلے دوستی قائم کرنا، اور وابستگی کی دعوت دینے سے پہلے اعتماد پیدا کرنا۔

کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ
کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ

انہوں نے کہا کہ ایشیا جیسے براعظم میں، جہاں مذہبی، ثقافتی اور نسلی تنوع بہت زیادہ ہے، یہ طرزِ عمل خاص طور پر اہم ہے۔ بعض جگہوں پر لوگ انجیل کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں جبکہ کہیں وہ اسے ہچکچاہٹ یا شکوک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ایسے حالات میں، ان کے مطابق، کلیسیا کو پہلے اپنی موجودگی، خدمت اور محبت کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے، تب ہی انجیل کی بشارت موثر ثابت ہوگی۔مثال دیتے ہوئے انہوں نے منگولیا کی کلیسیا کا ذکر کیا، جس کی قیادت کارڈینل جیورجیو مارینگوکر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منگولیا میں کلیسیا صرف تبلیغ کی وجہ سے نہیں بلکہ تعلیم، فلاحی خدمات اور مقامی لوگوں کے ساتھ مخلصانہ دوستی کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ان کے مطابق منگولیا کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ محبت، خدمت اور ہمدردی کے عملی کام اکثر لوگوں کے دلوں کو انجیل قبول کرنے کے لیے پہلے سے تیار کر دیتے ہیں۔کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ یہی جذبہ FABC کی جانب سے فروغ دی جانے والی ”سنڈی  تبدیلی“ کا بنیادی حصہ ہے۔ ان کے مطابق سنڈیلٹی صرف کلیسیا کے اندر مل کر چلنے کا نام نہیں بلکہ ایسے مواقع پیدا کرنے کا نام بھی ہے جہاں لوگ احترام، مکالمہ اور خدمت کے ذریعے مسیح سے ملاقات کر سکیں۔
اپنے وعظ کے اختتام پر انہوں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ ایشیا میں بشارت کا مستقبل صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ ہم انجیل کا پیغام کتنی وفاداری سے سناتے ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ ہم کتنے صبر اور حکمت کے ساتھ لوگوں کے دلوں کو اس پیغام کے لیے تیار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایشیا میں بشارت کا مستقبل صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ ہم بیج کتنی وفاداری سے بوتے ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ ہم زمین کتنے صبر سے تیار کرتے ہیں۔آخر میں انہوں نے دْعا کی کہ خدا کلیسیا کے خادموں کو نہ صرف اپنے دل کے مطابق چرواہے بنائے بلکہ ایسیدانا بیج بونے والے بھی بنائے جو صبر کے ساتھ زمین تیار کریں، تاکہ ایمان، اْمید اور محبت کے بیج پورے ایشیا میں بھرپور پھل لا سکیں۔