کبھی ہمت نہ ہارئیے!

  ہمت ہی سے عمل کی راہیں کھلتی ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر صرف ہمت کا پرچم کام آتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بہت ساری گائیں گھاس چرتی تھیں اور پیاس کے وقت پانی پینے جاتیں تھیں۔جب کبھی اُن پر مگر مچھ حملہ کر دیتا۔سب گائیں بھاگ جاتیں۔لیکن ایک دن ایک گائے کا پاؤں مگر مچھ نے پکڑ لیا۔ اب گائے کے لئے زندگی اور موت کا کھیل شروع ہو گیا۔ گائے نے اپنی زندگی بچانے کی جدوجہد شروع کر دی اور مگر مچھ اپنی بھوک مٹانے کی کوشش میں مصروف ہو گیا۔ لیکن افسوس کا مقام یہ تھا کہ اس کی ہم ذات گائیں دور کھڑی اس کشمکش کو دیکھ رہی ہوتی ہیں مگرکوئی ایک بھی گائے اس کی مدد کو نہیں آ رہی تھی۔ پکڑی جانے والی گائے مگر مچھ کو پانی سے باہر تک کھینچ لائی۔ مگر مچھ نے بھی پختہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ آج شکار کر کے ہی چین لے گا۔گائے کی ہمت جواب دینے لگی وہ حسرت بھری نگاہوں سے اپنے ہم قبیلہ کو دیکھتی رہی اور گردن جھکا دی۔اسی اثنا میں مگر مچھ اسے دوبارہ گھسیٹ کر پانی میں لے گیا۔ وہ ایک بار پھر اْمید بھری نگاہوں سے دور کھڑی اپنی دوستوں، رشتہ داروں کی طرف دیکھتی رہی جن کے ساتھ وہ ہر روز پانی پینے آتی تھی لیکن دوسری گائیں حسبِ معمول محوتماشاہی رہیں۔ مگر وہ  اپنا بھر پور زور لگاتی اور پانی سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہاں مگر مچھ نے اس کی ٹانگ کو بڑی مضبوطی سے پکڑ رکھاتھا۔اب  گائے بھی مصمم ارادہ کر چکی تھی کہ اس نے خود کو حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑنا لیکن طاقتور مگر مچھ کے آگے وہ ہمت ہارنے لگی مگر مچھ اسے آہستہ آہستہ گہرے پانی میں لے جانے لگا۔لیکن یہاں پر قدرت اپنا کھیل شروع کر دیتی ہے دو دریائی گھوڑے گائے کی مدد کو آجاتے ہیں جو اپنی بھر پور طاقت کے ذریعے اسے مگر مچھ سے آزاد کرا دیتے ہیں اور زخمی گائے پانی سے باہر آجاتی ہے اپنی جان بخشی پر خدا کا شکر ادا کرتی ہے۔
پیارے بچو!یہ زندگی آپ کی ہے اور اسے آپ نے ہی گزارنا ہے لوگ صرف تماشائی ہوتے ہیں حالات سے لڑنا انسان نے خود ہوتاہے زندگی کی جنگ اکیلے لڑنا پڑتی ہے لوگ صرف مبارک باد دینے یا صرف تعریف کرنے کے لئے آتے ہیں انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مرنے سے پہلے یہ کن حالات سے گزر رہا تھا یا جینے سے پہلے وہ زندگی کی کتنی مشکل اور اذیت ناک لڑائی لڑرہا تھا۔اس کہانی سے یہی سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ ہمت سے کام لینا چاہیے کیونکہ جب ہم حوصلہ کرتے ہیں تو پھر خدا بھی ہماری مدد کرتا ہے۔وہ کہتے ہیں ناں کہ ہمتِ مرداں مددِخدا!

Add new comment

14 + 0 =