چڑیا کی دانائی

ایک شخص نے چڑیا کوپکڑنے کے لئے جال بچھایا۔ اتفاق سے ایک چڑیااس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑلیا۔ چڑیانے اس سے کہا۔ اسے انسان! تم نے کئی ہرن‘ بکرے اورمرغ وغیرہ کھائے ہیں، ان چیزوں کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں۔ذراسا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تمہارا کیابنے گا؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا۔ لیکن اگرتم مجھے آزادکودوتو میں تمہیں تین نصیحتیں کروں گی جن پرعمل کرنا تمہارے لئے بہت فا ئدہ مند ہوگا۔ ان میں سے ایک نصیحت تومیں ابھی کروں گی۔
جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑدو گے اور میں دیوار پرجابیٹھوں گی۔ اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوارسے اْڑکرسامنے درخت کی شاخ پرجابیٹھوں گی۔ اس شخص کے دل میں تجس پیدا ہوا،کہ نہ جانے چڑیاکیافائدہ مند نصیحتیں کرے۔اس نے چڑیاکی بات مانتے ہوئے اس سے پوچھا۔ تم مجھے پہلی نصیحت کرو‘ پھر میں تمہیں چھوڑدوں گا۔ چنانچہ چڑیانے کہا۔ میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ”جوبات کبھی نہیں ہوسکتی اس کایقین مت کرنا“۔ یہ سن کراس آدمی نے چڑیاکوچھوڑدیااور وہ سامنے دیوار پرجابیٹھی پھربولی۔میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ”جوبا ت ہوجائے اس کاغم نہ کرنا“ اور پھر کہنے لگی۔ اے بھلے مانس تم نے مجھے چھوڑ کربہت بڑی غلطی کی۔ کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھرکاانتہائی نایاب پتھرہے۔ اگرتم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کونکال لیتے تواس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدر دولت حاصل ہوتی کہ تم بہت بڑے رئیس بن جاتے۔اس شخص نے جویہ بات سنی توافسوس کرنے لگا۔ اور پچھتایاکہ اس نے چڑیاکوچھوڑ کراپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی۔ اگر اسے نہ چھوڑتاتومیری زندگی سنورجاتی۔ چڑیانے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھاتواڑکردرخت کی شاخ پرجابیٹھی اور بولی: ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ جو”بات نہ ہوسکنے والی ہواس کا ہرگزیقین نہ کرنا“۔ لیکن تم نے میری اس بات کااعتبار کرلیاکہ میں چھٹانک بھروزن رکھنے والی چڑیا اپنے پیٹ میں پاؤوزن کاموتی رکھتی ہوں۔تم خود سوچو کیاایساممکن ہو سکتاہے؟ میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ”جوبات ہوجائے اس کاغم نہ کرنا“۔ مگرتم نے دوسری نصیحت کابھی کوئی اثر نہ لیااور افسوس میں مبتلا ہوگئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا۔ تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنابالکل بے کارہے۔تم نے میری پہلی دونصیحتوں پرکب عمل کیا جوتیسری پرکرو گے۔ تم نصیحت کے قابل ہی نہیں۔ یہ کہتے ہوئے چڑیاپھرسے اْڑی اور ہوامیں پرواز کرگئی۔ وہ شخص وہیں کھڑا چڑیاکی باتوں پرغور وفکر کرتے ہوئے سوچوں میں کھوگیا۔
یقیناوہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والاہو۔ہم اکثر اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پرکان نہیں دھرتے اور اس میں نقصان ہماراہی ہوتاہے۔ یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتی بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سیحاصل ہونے والے انمول اثاثے ہیں۔ جو  ہمارے لئے مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں اگرہم ان پرعمل کریں۔

Add new comment

9 + 5 =