یسوع ناصری، یہودیوں کا بادشاہ
جب یسوع مسیح کو مصلوب کیا گیا تو اْس کے سر کے اْوپر صلیب پر ایک تختی لگائی گئی، جس پر لکھا تھا:یسوع ناصری، یہودیوں کا بادشاہ (یوحنا 19:19)یہ جملہ بظاہر مختصر تھا، لیکن اْس نے مذہبی رہنماؤں کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مسئلہ صرف اس لقب کا تھا، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری تھی۔ اصل مسئلہ لقب نہیں، بلکہ اختیار تھا۔ مسئلہ سچ تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ ایک رومی حاکم نے وہ بات سرِ عام لکھ دی جسے مذہبی نظام ماننے کو تیار نہیں تھا۔
یہ تختی ایک خاموش مگر طاقتور اعلان تھی کہ یسوع ہی بادشاہ ہے۔ مذہبی پیشوا یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ ایک مصلوب انسان کو”بادشاہ“کہا جائے، کیونکہ اْس سے اْن کے اقتدار، اْن کے نظریات اور اْن کے قائم کردہ نظام پر سوال اْٹھتا تھا۔ اسی لیے انہوں نے پیلاطس سے درخواست کی:”یہ نہ لکھ کہ وہ یہودیوں کا بادشاہ ہے، بلکہ یہ لکھ کہ اْس نے کہا تھا کہ میں یہودیوں کا بادشاہ ہوں“۔
لیکن پیلاطس کا جواب نہایت مختصر اور فیصلہ کن تھا:”میں نے جو لکھا، سو لکھا“۔
یہ صرف ضد یا سیاسی ہٹ دھرمی نہیں تھی۔ یہ خدا کی خودمختاری کا ایک خاموش مظاہرہ تھا۔ پیلاطس خود اس حقیقت کو پوری طرح نہیں سمجھتا تھا، نہ وہ ایمان رکھتا تھا اور نہ نجات یافتہ تھا مگر پھر بھی خدا نے اْسے اپنے منصوبے کا حصہ بنا لیا۔ خدا نے ایک غیر ایمان دار رومی حاکم کے ہاتھوں وہ سچ دنیا کے سامنے لکھوا دیا جو صدیوں سے نبوتوں میں چھپا ہوا تھا۔
اس تختی کی ایک اور اہم بات یہ تھی کہ وہ تین زبانوں میں لکھی گئی: عبرانی، یونانی اور لاطینی۔ یہ اُس وقت کی تین بڑی عالمی زبانیں تھیں۔ عبرانی مذہبی دنیا کی زبان تھی، یونانی علم و فلسفے کی اور لاطینی سیاسی طاقت کی۔ گویا یہ پیغام
صرف یہودیوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے تھا۔ یہ اعلان تھا کہ یسوع کسی ایک قوم یا نسل کے بادشاہ نہیں، بلکہ ہر قوم، ہر زبان اور ہر نسل کے بادشاہ ہے۔
اور یہ سب اُس لمحے ہو رہا تھا جب یسوع خاموشی سے صلیب پر لٹکے ہوئے تھا۔ وہ درد سہہ رہا تھا، خون بہا رہا تھا اور نجات کا منصوبہ مکمل کر رہا تھا۔ وہ خود اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی نہیں بولا مگر آسمان اور زمین دونوں اْن کی بادشاہی کی گواہی دے رہے تھے۔ ایک طرف انسان انہیں مجرم سمجھ کر مصلوب کر رہا تھا اور دوسری طرف خدا انہیں دنیا کا بادشاہ ظاہر کر رہا تھا۔
یہ واقعہ ہمیں ایک گہرا روحانی سبق سکھاتا ہے کہ خدا صرف ایمان داروں کو ہی استعمال نہیں کرتا بلکہ وہ نافرمانوں اور دشمنوں کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کو بھی اپنے منصوبے میں شامل کر سکتا ہے جو خود نہیں جانتے کہ وہ کس کے ہاتھ میں آلہ بن رہے ہیں۔ پیلاطس کو شاید اندازہ بھی نہ تھا کہ وہ تاریخ کے سب سے بڑے سچ کا اعلان کر رہا ہے۔
اسی طرح، ہماری زندگیوں میں بھی بہت سے حالات، لوگ اور مشکلات ہمیں بے معنی یا تکلیف دہ نظر آتے ہیں۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ لیکن خدا اُن ہی حالات کو، اُن ہی لوگوں کو، حتیٰ کہ مخالفتوں کو بھی ہماری بھلائی اور اپنے جلال کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
اگر خدا ایک رومی حاکم کو اپنے منصوبے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، تو وہ ہماری اْدھوری کہانیوں، ہمارے دْکھوں، ہماری ناکامیوں اور ہماری آزمائشوں کو بھی اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ صلیب پر لگی ہوئی وہ تختی آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا کا سچ کبھی دبایا نہیں جا سکتا اور اس کی بادشاہی انسانوں کے انکار کے باوجود قائم رہتی ہے۔
آخرکار، یسوع صرف”یہودیوں کے بادشاہ“نہیں تھا اور نہ ہی ہے۔ بلکہ وہ ہر دل، ہر قوم اور ہر زمانے کا بادشاہ ہے نیز یسوع کل بھی بادشاہ تھا، آج بھی بادشاہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔