سو چیں اور امیر بنیں

 نو جو ا نو!آج کا موضوع ا یک کتاب سے تعلق رکھتا ہے جس کا عنوان ہے سوچیں اور امیر بنیں۔ایک مشہور مقولہ ہے کہ اس دنیا میں اتنی حکمرانی حکمرانوں نے نہیں کی جتنی کتابوں نے کی ہے۔حکمرانی کا مطلب ہے چھا جانا۔ حکمرانی کا مطلب ہے گرفت میں لے آنا۔ اتنا اثر لوگوں نے نہیں چھوڑا جتنا کتابوں نے چھوڑ ا ہے۔ آج کی ہماری منتخب کردہ کتاب، ایک مقصد کے طور پر لکھی گئی۔ یہ کتاب 1938میں چھپی تھی اور اب تک اس کے تقریبا پچیس ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس کتاب کی اب تک کروڑوں کا پیاں بِک چکی ہیں۔اس کا پہلا 
تعا ر ف یہ ہے کہ دنیا میں کامیابی کے موضوع پر پہلی با ر لکھی گئی کتاب ہے۔کامیاب ہونا کیسے ہے؟ کامیاب ہونے والے لوگوں میں کون سی خوبیاں پائی جاتی ہیں؟ ان کے سوچنے کا انداز کیسا ہوتا ہے؟ وہ کیسے اپنی طاقت کو کامیابی میں بدلتے ہیں؟ یہ کتاب باقاعدہ کامیاب لوگوں پر تحقیق کرنے کے بعد لکھی گئی۔ ایک شخص اینڈریو کار ینگی تھا جو 1860-70 کی دہائی کے درمیان امریکہ میں آیا۔ یہ غریب کا بیٹا تھا اور مزدوری کرتا تھا۔ آخر کار اسے ایک بھٹی میں لوہا کوٹنے کی نوکری مل گئی۔ وہاں لوہا کو ٹتے کو ٹتے اِس کی زندگی گزر رہی تھی لیکن اِس آدمی کو ترقی کرنے کا،کامیاب ہونے کا اور آگے بڑھنے کا بہت شوق تھا۔یاد رکھیے گا کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں ہے، مزدور ہے اور آگے بڑھنے کا شوق بھی ہے۔ اب اس شوق میں ا تنی طا قت تھی کہ یہ بندہ اسی فیکٹری میں محنت کرتے کرتے سپروائزر بن گیا۔ پھر اس نے مزید محنت کرکے اپنی خود کی چھوٹی سی بھٹی لگا لی۔اور یہ امریکہ کا امیر ترین انسان بن گیا۔
جب اینڈ ریو ایک امیر ترین انسان بن چکا تو اس نے ایک اسٹیل انڈسٹری بنائی۔جس کا نام کا ر ینگی سٹیل انڈسٹری تھا، اس کی اتنی اہمیت تھی کہ وہ انڈسٹری ایک فیملی کے پاس نہیں بلکہ اسے حکومت کا اثاثہ بننا چاہیے تھا۔اس نے اپنی وہ انڈسٹری حکومت کو بیچ دی اور اس کے بدلے میں 500 بلین ڈالرز حاصل کئے۔یہ1903 یا1904کی بات ہے۔ دیکھیں معاشرے ترقی کیسے کرتے ہیں؟ اس نے تین سو پچاس ملین ڈالرز ملک کی خدمت میں لگا دئیے۔اس نے ملک میں لائبریریاں بنوائیں، اپنا پیسہ سائنسدانوں اور طالبعلموں پر لگایا۔ اسے پتہ تھا کہ علم اور ٹیکنالوجی کے بغیر کامیاب ہونا ممکن نہیں۔وہ جانتا تھا کہ وہ غریب کا بیٹا تھا، تعلیم یافتہ بھی نہیں تھا،پھر بھی میں اتنا کامیاب کیسے ہوا؟ کس طرح ہوا؟ اس کی خواہش تھی کہ کسی طرح یہ راز دنیا کو پتہ چل جائے۔ انسان کی سب سے بڑی تمنا ہوتی ہے کہ کوئی اسے پر کھے اور اسے جانے۔ اینڈریو کو شوق تھا کہ میری کامیابی ایک کتاب کی صورت میں سب کے سا منے آئے۔اس نے اخبار میں اشتہار دے دیا کہ مجھے ایک تحقیق کر نیوالے کی ضرورت ہے جو کہ اس کی ترقی کرنے پر اور اس کے آگے بڑھنے پر تحقیق کرے۔ بڑی محنت کے بعد ایک انسان مِل گیا جس کا نام نپولین ہِل تھا  جو کہ ایک جوان لڑکا تھا اور معاہدہ یہ ہوا کہ وہ بغیر تنخواہ کے کام کرے گا۔کیو نکہ کہا جا تا ہے جس بندے کی طلب اور شوق سچا ہوتا ہے اسے معاوضے کی پرواہ نہیں ہوتی۔
 یاد رکھیے گا نو جو ا نو! کامیاب انسان کے دوست ہی اْس کی آدھی کامیابی ہوتے ہیں۔اکثر ہماری گفتگو ایک دوسرے کے ساتھ ضرور اچھی ہوتی ہے لیکن دوستی نہیں ہوتی۔کیوں کہ دوستی ایک جیسی سوچ رکھنے کا نام ہے۔ ہم سفر، ہم خیال ہو تو منزل تک ساتھ جایا جاتا ہے۔ یاد رکھیے
 گا دنیا کے ہر شخص کا نظر یہ اْس کے پیشہ کے مطابق ہوتا ہے۔ اْسا تذہ کا بیان اْسا تذہ والا ہوتا ہے۔ کا روبا ری شخص کا نظر یہ الگ ہوگا کیونکہ کا روبا ری شخص اْسا تذہ کی طرح نہیں سوچ سکتا۔اینڈریو اپنے وقت کا کامیاب انسان تھا تو اس کے دوست کیسے ہوں گے؟یقینا کامیاب 
لو گ۔ اب جبکہ نپولین اس کا اسسٹنٹ بن گیا۔ اینڈریو نے اپنا لیٹرہیڈ پکڑا اور تمام کامیاب اور امیر لوگوں کے نام خط لکھ کر نپولین کو دے دیئے۔یہ دیکھیے کہ پہلا خط کس کولکھا؟ اس کے معیار کا اندازہ لگائیں۔ایڈیسن کو پہلا خط لکھا گیاجو دنیا کاواحد انسان ہے جس نے 1249 ایجادات کی تھی اور ہم صرف ایک ایجاد یعنی بلب کو جانتے ہیں۔نپولین ہِل کی ساری تحقیق وقت کے کامیاب ترین لوگوں پر ہوئی۔ایک وقت کا کامیاب شخص اگلے وقت کے کامیاب شخص سے مطا بقت ر کھتا ہے، جو مزاج کامیاب ہوتے ہیں وہ بتا دیتے ہیں۔ وہ کیا مزاج تھا جس نے اتنے بڑے کامیاب لوگوں کو بنا دیا۔نپولین ہِل نے تقریباًآدھی زندگی تحقیق پر گزار دی اور اتنی تحقیق کرنے کے بعد اس نے کتاب لکھ دی تھی۔کتا ب کا نام ہےThink and grow richجس سے دنیا میں تہلکہ مچ گیا لوگ اس کو اپنا محسن مانتے ہیں۔یہ ایک تحقیق ہے کہ کا میا ب لو گو ں میں یہ خو بیا ں پا ئی جا تی ہیں:
 پہلا نقطہ نوٹ کریں:
 ٭کامیاب ہونے والے لوگو ں کے اندر ایک خواہش پائی جاتی ہے۔خواہش ہر ایک میں ہوتی ہے لیکن یہ عام نہیں ہوتی۔اس کو برننگ ڈیزائر کہتے ہیں اس کا مطلب ہے جنون، عشق، ولولہ یعنی کہ میں نے یہ حاصل کرنا ہے یا آگے بڑھنا ہے اور یہ سب چیزیں ان کے کاموں میں جھلکتی ہیں۔
دوسرا نقطہ 
٭ دنیا کے یہ کامیاب لوگ ماسٹرمائنڈ ہوتے ہیں۔ماسٹر مائنڈ کا مطلب ہے اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ دوستی۔ ماسٹر مائنڈ کا مطلب ہم خیال لوگ ترقی دیتے ہیں۔ تنہابندہ ترقی نہیں کرتا اسے معاشرے کے دوسرے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔Give & take کے اصول پر دْنیا چلتی ہے۔  اینڈریو کارنیگی، نپولین ہل، ایڈیسن، ہنری فورڈیہ لوگ ا کٹھے وقت گزارنے کے لئے جنگلوں میں نکل جاتے تھے۔انہیں معلوم تھاکہ ا گر یہ اکٹھے وقت نہیں گزار یں گے تو ہمارے پَرنہیں کْھلیں گے۔یاد رکھنا جب آپ اپنے جیسے بندے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو ہمارے پَر کھل جاتے ہیں۔ جب بھی آپ کو ہم خیا ل لو گ ملتے ہیں تو یہی لو گ آپ کو کامیا بی کی ضما نت د یتے ہیں۔
 تیسرا  نقطہ 
٭ کامیاب ہونے والے لوگوں میں یقین پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ انھیں پتہ ہوتا ہے کہ جس کام پر وہ محنت کر رہے ہیں اس کا ہمیں پھل بھی حاصل ہو گا۔ وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ان کے اندر سے یقین کا دیا جلا ہوتا ہے۔بائبل مقدس میں لکھا ہے کہ ایمان ویقین اتنا طاقتور ہے کہ پہاڑوں کو ہلا سکتا ہے۔اب جس کو یہ پتہ ہے کہ صلہ ملنا ہے۔ اس کا ایمان اور یقین اس کو کا میا ب کرتا ہے۔

چوتھا  نقطہ 
٭ایسے کا میا ب لو گ خود کلامی کر تے ہیں یعنی اپنے آپ سے بات چیت۔ ا نتھنی روبنسن کہتا ہے:  
The quality of life is directly proportional to the conversation
 between you and you. َ
یعنی آپ کی ا پنے آپ کے ساتھ گفتگو بتاتی ہے کہ آپ کا معیارِ زندگی کتنا ہے۔ جس نے زندگی میں آگے چلنا ہے وہ منفی کو مثبت کرکے چلتا ہے۔ آپ کی ا پنے ساتھ بات چیت کا معیار آپ کو کامیابی دیتا ہے۔دنیا کے کامیاب لوگوں کی اپنے ساتھ بات چیت بڑی معیار ی ہوتی ہے۔ میں نہیں ہار سکتا، یہ کوئی پرابلم ہی نہیں ہے،ا یسے ا لفا ظ ان کو آگے بڑھنے میں مد د د یتے ہیں۔ 
پا نچو ا ں نقطہ
٭ ان کے پاس خاص علم ہوتا ہے اورہر فیلڈ کا اپنا علم ہوتا ہے۔ان کے پاس ا عتماد ہوتا ہے تصورا تی طا قت ہوتی ہے۔دنیا کے ہر شعبے کے ٹاپ لوگوں کے پاس ا یک چیز مشترکہ ہوتی ہے کہ یہ کھلی آنکھ سے خواب دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ان کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہی  مقصد ا  ن کو انکی منزل کی جانب لے کے چلتا ہے۔ ذہن میں جس کامیابی کی تصویر نہیں بنتی اس کی دنیا میں بھی نہیں بنتی۔دنیا میں ہر چیز بننے سے پہلے کسی نہ کسی کے ذہن میں بنی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تصو ر ا تی طا قت کتنی ز یا دہ ہوتی ہے۔ ایک نئی ڈیفینیشن سن لیجئے جو کتابوں میں نہیں ملے گی عقلمند وہ ہے جو نئے انداز سے سوچتا ہے۔ایڈیسن کہتا ہے کہ میری ساری کا میابیاں میرے عقلمند ہونے کی وجہ سے نہیں تھی میرے تخیلا تی ہونے کی وجہ سے تھی۔
چھٹا نقطہ
٭ نپولین نے کہا کہ ا یسے لوگ منظم قسم کی منصوبہ بند ی کر لیتے ہیں۔ ہر بندہ اچھا منصو بہ سا ز نہیں ہوتا،جو شخص اپنے کورس کی پانچ چھ کتابوں کی پلاننگ نہیں کر سکتا وہ زندگی کی پلاننگ نہیں کرسکتا۔ اگر کو ئی ا نسا ن جس میں یقین ہو، ماسٹر ما ئند بھی ہو،تخیلا تی طا قت بھی ہو، منصو بہ سازاچھا نہیں ہے تو ناکام ہوجائے گا۔ ممکن ہے کہ آپ میں سب چیزیں موجود ہیں ایک چیز نہیں ہے تو پیدا کریں، سیکھیں،سیکھنے میں کیا حرج ہے، ہوتا بھی ا کثر ایسے ہے۔ممکن ہے کسی کے پاس خو ا ہش تو ہو، خود کلامی اچھی نہ ہو، معیاری نہ ہو، اس کو سیکھنے میں کیا حرج ہے۔کیوں کہ تر قی کر نے والا انسان تو دنوں میں سالوں کا سفر طے کر لیتا ہے کیونکہ اس نے تر قی کر نی ہوتی ہے۔
سا تو اں نقطہ
٭ یہ لوگ فیصلہ ساز بھی اچھے ہوتے ہیں۔سنیں! سب فیصلے خود کیا کریں۔ اچھے فیصلے اچھی زندگی کی علامت ہوتے ہیں۔ زندگی سالوں، صدیوں، مہینوں میں نہیں بدلتی بلکہ زندگی اس لمحے میں بدلتی ہے جس لمحے میں آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ میں نے زندگی بدلنی ہے۔کسی کی تقدیر بنتے ہوئے دیکھنی ہے تو فیصلے کے لمحے میں دیکھیں۔

آٹھوں نقطہ
٭ان تمام لوگوں میں استقامت ہوتی ہیں اور مستقل مزاجی اتنی ہوتی ہے کہ بارش،آندھی،طوفان حتیٰ کہ زندگی کے طوفان بھی ان کو نہیں روک سکتے۔کہتے ہیں استقامت میں کرامت ہے۔یہ ریسرچ بتا رہی ہے دو ہزار سا ل کی آ ٹو با ئیوگرافی بتا رہی ہیں۔ محبت طاقتور تخلیق ہے۔ اگر آپ محبت کرنے والے ہیں تو اپنے اس جذبے کو کام میں لے کر آؤ۔ ہمیں کوئی نہیں سکھاتا اس مو ضوع پر ہم سے کوئی بات نہیں کرتا۔ آج کے نو جو ا ن میں خوف بہت ہے۔اب انہیں خود اس خو ف سے لڑنا پڑے گا۔ جس انسان کی زندگی میں خوف بہت زیادہ ہو،وہ ترقی نہیں کرتا۔ ہمیں تھوڑا سا بہادر ہونا ہے آج کل ہماری یوتھ میں ویسے ہی خوف بہت زیادہ ہے۔ضرورت ہے کہ اس خوف سے باہر نکل آئیں اور یہ سوچیں کہ میرے خدا نے میرے لیے ایسی ذہانت رکھی ہے جو پیسہ کمانے میں میر ی مدد کر تی ہے۔میرے اندر ایسی ذہانت ہے جولوگوں کو میرے اوپر یقین کرواتی ہے۔ میرے اندر ایسی ذہانت ہے جس سے میں تحریریں لکھتا ہوں۔ میرے اندر ایسی ذہانت جس سے میں لیکچر دے لیتا ہوں۔ میرے اندر ایسی ذہانت ہے جس سے میں گاڑیا ں بنا سکتا ہوں۔ اگر آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ کے اندرMenifest کرنے کی صلاحیت ہے یا کچھ بنانے کی صلاحیت ہے تو آپ ترقی کرتے جاؤ گے۔
لیکن اس کے برعکس اگر آپ یہ یقین کریں گے کہ نہیں نہیں ساری دنیا ہی میری تقدیر بدلے گی تو آپ کام نہیں کر سکتے،جب انسان کا اپنے اوپر اور اپنے خدا پر اعتماد ہو جائے تب وہ کا میا ب ہو جا تا ہے۔اس کے بر عکس جن کو خدا پر اوراپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں ہو تا، ایسے لو گ نا کا م ہو جا تے ہیں۔اور اس نا کا می کا پہلا خو ف ہوتا ہے غریب ہونے کا، مرنے کا، اعتبار نہ کرنے کا، لیکن آپ لوگوں کے ساتھ چلنے کا فن تب ہی سیکھتے ہیں جب آپ چار دفعہ دھوکا کھا لیتے ہو۔خوف کے بت کو گرانے والا آگے نکل جاتا ہے۔اسی کتا ب کے آخری صفحے میں نپولین لکھتا ہے۔ جن لوگوں کو خوف کو ہرا نا آجاتا ہے وہ آگے نکل جاتے ہیں۔اس کے دو طریقے ہیں خو ف کو چھو ٹا کر کے خو د بڑے ہو جا ؤ یا تو خود کو اتنا بڑا کر لو کہ خوف چھوٹا ہو جائے۔ کچھ لوگ صرف دو روپے کو قیمتی سمجھتے ہیں جبکہ بعض کہتے ہیں کہ میں قیمتی ہوں کیونکہ میں لاکھوں کروڑوں پیدا کر سکتا ہوں۔جو بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ میں اپنی زندگی کو خود میں نفیس کر سکتا ہوں وہ زندگی میں بہت بڑا انسان بن جاتا ہے۔

Add new comment

14 + 0 =