خود مختار بیٹیاں کامیابی کی ضمانت

   بیٹی خوشبو دارہوا کا جھونکا،نرم ونازک کلی،پھولوں کی مہک، تپتی زمین پر بارش کے قطروں کی مانند، دل کے زخم مٹانے کو آنگن میں اتری شبنم کی بوندوں کی طرح، رنگ برنگی تتلیوں کی طرح،چڑیوں کی طرح چہکتی، ان کہی صداؤں جیسی،نیز بیٹیاں تو ہر روپ میں رحمت ہیں۔پیار،محبت،ایثار،قربانی کا بے لوث خزانہ ہیں بیٹیاں! یہ سب تو ہم بیٹی کی تعریف میں کہتے اور پڑھتے بھی ہیں۔مگر کیا حقیقت بھی یہی ہے؟ شاید نہیں!   
آج ٹیکنالوجی کے زمانہ میں ہر چیز شوشل میڈیا پر موجود ہے۔ہمارا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔اس کے باوجود بھی بہت سارے والدین کی سوچ نہیں بدلی۔ کہیں نہ کہیں بیٹی کو بوجھ ہی سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی کئی علاقوں میں پڑھے لکھے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کو چار دیواری کے اندر رکھنا ہی اپنی عزت اور شان سمجھتے ہیں۔ یہ تو زمانے کا دستور ہے کہ ایک بیٹی کو اپنے والدین کا گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر بیٹے اور بیٹی میں فرق کیوں کیا جاتا ہے؟ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک بیٹا سہارا بن سکتا ہے اور بیٹی نہیں بن سکتی۔ اگر ہم تھوڑا سا غور وفکر کریں کہ ہم بیٹے اور بیٹی کی پرورش میں کیا فرق رکھتے ہیں تو ہمیں خود ہی سمجھ آجائے گا۔بیٹا جو کرنا چاہے کرسکتا ہے۔جہاں جانا چاہے جا سکتا ہے۔جو پہننا اوڑھنا چاہے پہن اوڑھ سکتا ہے۔جتنے دوست احباب بنانا چاہے بنا سکتا ہے۔ اس پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ چاہے جو بھی ہو وہ تو لڑکا ہے!لیکن ہم بیٹی کو گھر سے باہر نکلنے دیتے ہی نہیں۔وہ اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکتی۔نہ اپنی مرضی سے پہن اوڑھ سکتی ہے۔ نہ دوست بنا سکتی ہے۔ہم بیٹی کو پیار تو بہت کرتے ہیں مگر اس کے پنکھ کاٹ کر اس سے کھلی ہوا میں سانس لینے کا حق چھین لیتے ہیں۔ پیار کے نام پر گھر کی چار دیواری میں جکڑ کے رکھتے ہیں۔بالکل اسی طرح جیسے کسی چڑیا کو سونے کے پنجرے میں رکھ دیا ہو۔ہر وقت اسے احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ایک لڑکی ہے۔کمزور ہے اسے احساس کمتری کا شکار بنایا جاتا ہے۔توپھر اس لڑکی میں خود اعتمادی کہاں سے آئیگی؟وہ باہر کے ماحول سے کیسے آگاہ ہوگی؟اور اس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کیسے پیدا ہوگی؟
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی جلدی شادی کر دینی چاہیے۔انہیں پڑھا لکھا کر کیا کرنا؟جبکہ انہیں گھر ہی سنبھالنا ہے تو پھر پڑھائی کا کیا فائدہ؟شاید ایسے لوگ یہ بھول چکے ہیں کہ نپولین نے کہا تھا:”آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپ کو اچھی قوم دوں گا“۔ اس لئے باقی ساری چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں یعنی اگر لڑکی بہت ذہین ہے پڑھائی میں اچھی ہے تو اْس کی بہتر مستقبل کیلئے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ جبکہ والدین کے نزدیک لڑکیوں کا مقصدِ حیات صرف اور صرف اچھی جگہ شادی ہوتاہے۔جب کسی لڑکی کی اچھی جگہ شادی ہوجاتی ہے تو بس اب سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس کی زندگی سنور گئی اور اگر کسی لڑکی کی بْری جگہ شادی ہوجاتی ہے تو بس زندگی برباد ہو گئی جبکہ ایسا نہیں ہے۔ بْری جگہ شادی سے زندگی برباد نہیں ہوتی کیونکہ زندگی خدا کا بہترین تحفہ ہے یہ اتنی آسانی سے برباد نہیں ہو جاتی جب تک ہم خود اسے برباد نہ کریں۔ لیکن ہمارے معاشرے کا
 مسئلہ یہ ہے کہ طلاق کو اتنا بڑا ہوا بنالیا ہے۔ خاص کر متوسط طبقے کی عورت طلاق کو اپنے لئے بہت بڑا عیب سمجھتی ہے صرف ایک طلاق کے لفظ سے بچنے کے لئے وہ شوہر کا ظلم سہتی ہے اور پوری زندگی سسکتے گزار دیتی ہے۔ہمیشہ عورت کو دبنے اور سب کچھ برداشت کرنے کا کہا جاتا ہے۔ اسے بار بار یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ گھر عورت ہی بناتی ہے جبکہ وہ گھر،گھر کیسے بنے گا جس کا ایک فرد ظلم کا شکار ہو رہا ہو۔ چاہے وہ یہ ظلم خاموشی سے سہے یا احتجاج کر کے۔بہت خوش نصیب ہوتی ہیں وہ بیٹیاں جن کے پیچھے ان کو سہارا دینے کے لئے کوئی نہ کوئی موجود ہوتا ہے۔بیٹی کی شادی کے وقت اْسے ایک با ت ضرور سمجھانی چاہیے کہ بے شک تم دوسرے گھر جا رہی ہو پر یاد رکھنا ہم ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔ اس طرح بیٹیاں سسرال میں زیادہ پور اعتماد طریقے سے رہیں گی۔ لیکن غریب اور متوسط طبقے کی بیٹیاں اکثر اس سہارے سے محروم رہ جاتیں ہیں۔ ایسے بہت سے گھرانے ہیں خاص کر جہاں بیٹیاں زیادہ ہیں وہ بیٹیوں کی شادی کرنے میں زیادہ تحقیق نہیں کرتے بس بیٹیوں کے فرض سے جلد از جلد فارغ ہونا چاہتے ہیں۔ انھیں تو لڑکیوں کی تعداد دیکھ دیکھ کر ہول اْٹھ رہے ہوتے ہیں۔ ہائے پانچ پانچ بیٹیاں ہیں۔کیسے شادیاں ہوں گی، اب تو ساری ہی جوان ہو گئی ہیں۔ دوسرے لوگوں کے منہ سے بھی اسی طرح کے جملے سننے کو ملتے ہیں۔لڑکیوں کی شادیوں کے لئے والدین تو پریشان ہوتے ہی ہیں کچھ پریشانی میں اضافہ باہر کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ والدین کو بار بار لڑکیوں کے ماں باپ ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے چنانچہ جو بھی ٹیڑھا میڑھا رشتہ آیا شادی کی اور جان چھڑائی۔ اچھا ہو گیا تو بیٹی کی خوش قسمتی ورنہ اسے خاموشی سے سسرال میں ظلم ہی برداشت کرنا ہے۔ والدین بھی خاموش رہنے کی ترغیب دیتے ہیں اور ڈھکے چھپے الفاظ میں پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ جیسا بھی ہو یہیں رہنا ہے اگر تم نے طلاق لے لی تو لوگ کیا کہیں گے؟ تمھاری جو اتنی ساری بہنیں گھر بیٹھی ہیں ان کی شادیاں کیسے ہوں گی؟ ایسی لڑکی کی زندگی اندھیری بند گلی کی طرح ہو جاتی ہے۔ جس کے آگے کوئی راستہ نہیں۔کاش کہ والدین اس بات کو سمجھیں کہ شادی مقصد ِحیات نہیں بلکہ یہ تو ہر انسان کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے۔ ہاں یہ زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے کہ جسے طلاق ہو جائے اْس کی زندگی برباد ہو گئی یا اگر کسی لڑکی کی شادی ہوئی ہی نہیں تو لوگ اس کو ہمدردانہ انداز سے دیکھیں۔ لڑکیوں کو اتنا مضبوط بنائیں کہ انہیں مجبوراً ظلم نہ سہنا پڑے۔ ان کے دلوں میں طلاق کا اتنا خوف نہ ڈالیں کہ طلاق کے خوف سے وہ ہر طرح کا ظلم ساری زندگی برداشت کرتی رہیں اور اگر طلاق ہو جائے تو وہ اپنی زندگی کی ہر اْمید ہار جائیں۔جب لڑکیوں کی شادیاں کریں تو انہیں سر سے بوجھ کی طرح نہ اْتاریں۔
 شادی کے علاوہ اِن کی زندگی کا کوئی مقصد بنائیں کوئی گول منتخب کر نے میں ان کی مدد کریں۔ ان سے پوچھیں کہ وہ کیا بننا چاہتی ہیں اور انھیں یقین دلائیں کہ وہ سب کچھ کر سکتی ہیں۔ان کی صلاحیتوں اور قابلیت کو نکھار نے کا موقع دیں۔ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور اْنکی حوصلہ افزائی کریں۔ بیٹیوں کو اتنا قابل بنا دیں کہ وہ کبھی کسی پہ بوجھ نہ بنیں۔آج کی خود مختار بیٹی ہی کامیاب مستقبل کی ضمانت ہوگی۔
یاد رکھیں! جب لڑکیوں کی شادی کریں توخوب چھان بین کر کے کیونکہ آپ اپنی بیٹی دے رہے ہیں گھر میں پڑا پرانا سامان نہیں۔

 

Add new comment

4 + 3 =