بچوں میں کارٹونز کا بڑھتا ہوا رحجان

ایک دور تھا جب نانیاں، دادیاں بچوں کو جادونگری،جن پری اور شہزادوں اور شہزادیوں کے قصے سناتی تھیں۔ بچے چاند پر رہنے والی پریوں کی کہانیاں سناکرتے تھے۔چرخہ کاتنے والی بوڑھی عورت کا تصور اْن کے ذہن میں تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ گھر کے بڑے بزرگوں کی جگہ ٹی وی نے لے لی۔اب بچوں کو اپنی نانی یا دادی سے کہانی سننے کا شوق نہیں بلکہ وہ ٹی وی کے آگے بیٹھ جانے اور کارٹون دیکھنے کو تر جیح دیتے ہیں۔ٹیلی ویژن کے ابتدائی دور میں ٹام اینڈ جیری،مکی ماؤس سب سے مشہور کارٹون تھے۔جو پاکستان کے واحد ٹی وی چینل پی ٹی وی پر دکھائے جاتے تھے۔ جن کا دورانیہ بھی دس سے پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا۔پھر وقت نے انگڑائی لی اور جدت آگئی تو ٹی وی چینلز کی تعداد بھی بڑھ گئی۔پی ٹی وی کے ساتھ دو چینلز اور وجود میں آئے تو بچوں کو مزید کارٹون پروگرام دیکھنے کو ملے۔اس کے بعدکیبل آئی تو کارٹون نیٹ ورک بھی گھر گھر پہنچ گیا۔ڈورے مون،شین شن،ڈورا،پاورپف گرلز اور پوہphooکے کارٹون کریکٹرز  نے بھی بچوں کو اپنا دیوانہ بنا دیا۔وائی فائی،کیبل نیٹ ورک کے دور میں 24گھنٹے کارٹون نشر ہوتے ہیں۔
ڈورے مون سے بچوں میں بڑھتا ہوا کریز تو حکومتی ایوانوں تک جا پہنچاتھا کہ اس کارٹون پر پابندی عائدکرنا پڑی۔ڈور ے مون میں ڈورے مون نامی بلی کاکریکٹر بچوں کو خوب پسند ہے۔جس کے پاس ہر مشکل کا حل موجود ہوتا ہے اس کی پاکٹ میں موجود گیجیٹ سے ہر مسئلہ منٹوں میں حل ہوجاتا ہے۔نوبیتا جس کا کردار ایک سست،نالائق اور لاپرواہ بچے کا ہے۔ڈورے مون اس کی مدد کرتا ہے۔سوزوکا بچیوں کا پسندیدہ کردار ہے۔جو ایک سلجھی ہوئی لڑکی ہے۔سنیو اور جیان ہر وقت نوبیتا کو تنگ کرتے رہتے ہیں جبکہ ڈورے مون اس کو دونوں کی شرارتوں سے بچاتا رہتا ہے۔ہمارے بچوں میں کارٹونز کا اس قدر کریز ہے کہ وہ کھانا بھی اپنے پسندیدہ کارٹونز کو دیکھتے ہوئے کھاتے ہیں۔کئی بچے ایسے ہیں جب تک ان کا پروگرام نہیں چلتا وہ کھانا کھانے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔دراصل الیکٹرانک ایجادات موبائل،ٹیب نے بچوں کو اتنی آسانیاں پیدا کردی ہیں کہ اب انہیں اپنے سے پہلے بچوں کی طرح اپنے کارٹون دیکھنے کے لیے گھنٹوں انتظار نہیں کرنا پڑتا بلکہ گھرمیں ٹی وی یا LEDآن کی اور کیبل پر کارٹون چینل سٹارٹ ہو گیا۔
اگر کیبل نہیں آرہی تو تشویش کی کوئی بات نہیں وائی فائی لگا ہوتو موجیں ہی موجیں،موبائل کی سکرین یا ٹیب پر کارٹون دیکھ لیے۔اگر وائی فائی نہیں تو تب بھی کوئی مسئلہ نہیں۔سستے ترین نیٹ پیکجز کی بدولت کہیں بھی کسی بھی وقت موبائل ڈیٹا نیٹ ورک آن کیا اور بچوں کے فیورٹ کارٹونز ان کے سامنے حاضر ہو گئے۔ڈورے مون کے علاوہ پو کیمون،ڈورا بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔بالخصوص سنڈریلاسیریز کے فیملی کریکٹرز فروزن اور اس کی بہن کو بچیاں شوق سے دیکھتی ہیں۔ ان کے سکول
 بیگز،پنسل بکس،واٹر بوتل،پنسل بھی باقاعدہ فرمائش کرکے انہی کریکٹرز کی تصور والے لیے جاتے ہیں اور پھر  اپنے دوستوں کو فخر سے یہ سب کچھ دکھایا جاتاہے۔لڑکوں میں تو ڈورے مون ہی زیادہ مشہور ہے۔اس کے علاوہ سپائیڈرمین،  Bentenلڑکوں کے پسندیدہ ترین کارٹونزہیں۔موٹو پتلو بھی آج کل کافی مشہور ہورہے ہیں۔ بچوں کو تو شرٹس،پنسل،سکول بیگز، جاگرز بھی بین ٹن کی تصویر والے ہی چاہیے۔یہ سب کارٹونز اگر تفریحی طور سے دیکھیں تو ٹھیک ہیں لیکن ان کو حد سے زیادہ دیکھنا بچوں میں جسمانی اور دماغی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ بچوں کے کارٹونز دیکھنے کے لئے ایک خاص وقت مختص کیا جائے تاکہ اْن کو غلط اور بْری عادات سے اور بہت سی بیماریوں سے بچایا جا سکے۔کیونکہ آج کے یہی بچے ہمارا کل ہیں۔ہمیں اپنے اس قیمتی اثاثے کو سنبھالنے اور محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارا کل خوبصورت اور کامیاب ہو سکے۔ 
 

Add new comment

1 + 5 =