باپ کا وجود قدرت کا نایاب تحفہ

ماں باپ کا اولاد کے ساتھ ایک اٹوٹ رشتہ ہوتا ہے جو زندگی بھر یکساں رہتا ہے، چاہے وقت اور حالات بدلتے رہیں اس رشتے سے وابستہ محبت، شفقت اور جذبات کبھی نہیں بدلتے۔
”باپ“ اس لفظ کے آتے ہی ذہن کے کتنے دریچے کْھلتے ہیں۔ باپ کوکسی ایک جملے میں کیسے بیان کیا جائے؟ایساکرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اگر ماں کا کوئی نعم البدل نہیں تو باپ بھی اولاد کے لیے قدرت کا نایاب تحفہ ہے جو سارے زمانے کی سختیاں جھیل کر اسے پُرسکون زندگی فراہم کرتاہے۔باپ ایک سائبان ِشفقت ہے جس کے سائے میں اولاد پروان چڑھتی ہے۔ باپ کے ہوتے ہوئے اولاد خود کو محفوظ سمجھتی ہے۔ والد اپنی اولاد کی پرورش کے لیے اپنی جان تک لڑادیتا ہے۔وہ دنیا کی تمام نعمتیں اولاد کو لاکر دینے کی کوشش کرتا ہے، جس کے لیے اپنی خواہشات کو بھی ختم کردیتا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص کسی دوسرے کو خود سے آگے جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا، کسی دوسرے کو خود سے زیادہ ترقی کرتا ہوا دیکھ کر شاید ہی کوئی خوش ہو لیکن والد کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ چاہتا ہے اْس کی اولاد اْس سے زیادہ کامیاب ہو۔ خود اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے کوشش کرتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ جو کام میں نہیں کرسکا میرے بچے کریں۔ والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی نگہبانی کرتا ہے۔ایک نوجوان مرد شادی کے بعد جب باپ کا مرتبہ پاتا ہے تو جس طرح ایک شوخ و چنچل لڑکی ماں بننے کے بعد ذہنی اور جسمانی تبدیلی کا سامنا کرتی ہے اسی طرح ایک لاپرواہ اور بے باک لڑکے کے اندر بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے اور وہ ایک لاپروا لڑکے سے ذمہ دار باپ بن جاتا ہے، نہ اس کو اپنے آرام کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنی صحت کا خیال۔ وہ اپنے دن رات صرف اس جدوجہد میں گزارتاہے کہ کچھ اور محنت کرلوں تو اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرلوں گا۔حالات جتنے بھی ناساز ہوں وہ سامنا کرتا ہے۔ دن بھر کی مشقت کے بعد پہلا خیال اپنے بچوں کا آتا ہے کہ بچے میرے منتظر ہوں گے کیوں نہ جاتے ہوئے اپنی جیب کے مطابق ان کے کھانے کی کوئی چیز یا اْن کی پسند کاکوئی کھلونا لیتا جاؤں۔ نیز یہ کہ باپ شفقت،محبت اور قربانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس کا غصہ وقتی ہوتا ہے اگر وہ غصہ ہو بھی جائے تو اندر ہی اندر انتظار کرتا ہے کہ اسے منا لیا جائے۔ وہ ناریل کی مانند اوپر سے تو سخت ہوتا ہے پر اندر سے بالکل نرم ہوتاہے۔ باپ جیسا بھی ہو باپ ہوتا ہے۔وہ ایسا گھنا سایہ دار درخت ہوتا ہے جو خود تو دھوپ اور بارش میں کھڑا رہتا ہے پر اپنے سائے میں رہنے والوں کو تحفظ دیتا ہے۔ اس کی شاخوں پہ کتنے ہی پرندے پلتے پھولتے ہیں۔درحقیقت باپ کا وجود قدرت کا نایاب تحفہ ہوتا ہے۔ باپ جیسا نہ کوئی ہوتا ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔
آج یومِ والد ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ جن کے والد حیات ہیں وہ اْن کی قدر کریں۔ یقین جانئے یہ ہستی اک بار کھو گئی توکسی قیمت پر واپس نہیں ملتی۔اپنے باپ کی عزت کریں کیونکہ بائبل مقدس بھی ہمیں اس ہستی کی عزت کرنے کا حکم دیتی ہے۔ 
اِن بوڑھی آنکھوں میں کبھی جھانک کے تو دیکھئے۔ کبھی اس روٹھے وجود کو گلے سے لگا کر اس میں اولاد کی محبت کو محسوس تو کریں۔ جس طرح جب بچپن میں آپ کو چوٹ لگتی، تو وہ گھنٹوں آپ کا دْکھ کم کرنے کیلئے آپ کو کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ آج آپ بھی اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ پل اِن کو دے دیا کریں۔ کبھی ان کی طرف سے دل رنجیدہ ہوجائے یا ان کے بار بار بھول جانے یا سوال کرنے کی عادت پر غصہ آتا ہو تو مت کیا کریں بلکہ ْاس وقت کو یاد کرلیا کریں جب آپ اپنی توتلی زبان میں گھنٹوں ایک ہی سوال دہرایا کرتے تھے اور ہر بار یہی شخص جو اس وقت عمر رسیدہ ہو چکا ہے۔ آپ کو پیار سے ایک ہی جواب بار بار دیا کرتا تھا۔ آپ بھی با لکل اسی طرح پیار و محبت سے جواب دہرایا کریں۔
 یاد رکھیئے وقت گزر جائے تو واپس نہیں آتا۔صرف یادیں رہ جاتی ہیں اسی لئے وقت کی قدر کرتے ہوئے ان لمحات کو خوبصورت بنا لیں اس طرح وقت امر ہوجاتا ہے۔
خدا تمام والدوں کو سلامت رکھے اور ْان کا سایہ ہمیشہ اولاد کے سر پہ قائم رکھے۔ آمین

                       عزیز تر مجھے رکھتا تھا وہ رگ و جان سے 
                 یہ بات سچ ہے کہ میرا باپ کم نہیں تھا میری ماں سے

 

Add new comment

7 + 11 =