مختلف مذاہب کے لوگ ایک ہی خدا کے بندے ہونے کے ناطے بھائی بہن کی طرح رہ سکتے ہیں۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 29 اپریل2026 کو ویٹیکن کے مقدس پطرس کے احاطہ میں مومنین سے خطاب کرتے ہوئے پاپائے اعظم نے کہا کہ میں خداوند کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اْس نے مجھے چار افریقی ممالک کے اس پاسبانی سفر کا موقع عطا کیا اور اسے ایک ایسے وقت میں امن کے پیغام کے طور پر جینے کا موقع دیا جب دنیا جنگوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین اور بار بار خلاف ورزیوں سے دوچار ہے۔
پاپائے اعظم نے 13 سے 23 اپریل تک الجزائر، کیمرون، انگولا اور گِنی کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے مقدس اگسٹین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امن کی اپیل کی، مختلف علاقوں کے لوگوں سے ملاقات کی اور عوام نے انھوں خوشی، گیتوں اور رقص کے ساتھ خوش آمدید کہا۔
اپنی گفتگو میں پاپائے اعظم نے خاص طور پر باٹاکی جیل کے دورے کو یاد کیا اور کہا کہ میں کبھی نہیں بھول سکتا جو وہاں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس دورے پر ایک”چرواہے“کے طور پر گئے تاکہ خدا کے لوگوں سے مل سکیں اور اْن کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ افریقی عوام کے لیے یہ دورہ اپنی آواز بلند کرنے، خدا کے  بندے ہونے کی خوشی ظاہر کرنے اور بہتر مستقبل کی اْمید کا اظہار کرنے کا موقع تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ اْن کی روحانی شناخت کی جڑوں تک واپسی اور اہم”پلوں“کو مضبوط کرنے کا ذریعہ تھا، جن میں کلیسیا کے ابتدائی دور، اسلامی دنیا اور افریقی براعظم کے ساتھ تعلق شامل ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک ہی خدا کے بندے ہونے کے ناطے بھائی بہن کی طرح رہ سکتے ہیں۔
پاپائے اعظم نے کہا کہ کیمرون اور گنیِ میں انہوں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو انصاف کے لیے”پیاسے اور بھوکے“ہیں۔انہوں نے اْن کے ایمان کو سراہا اور کہا کہ مبارک ہیں وہ جو صلح کرواتے ہیں۔
کیمرون میں انہوں نے خاص طور پر Bamenda کا دورہ کیا، جہاں علیحدگی پسند تنازعات جاری ہیں۔
انہوں نے لوگوں کو امن اور مفاہمت کے لیے مل کر کام کرنے کی تلقین کی اور خبردار کیا کہ مذہب کو سیاسی یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
انگولامیں پاپائے اعظم نے کہا کہ ماضی کی خانہ جنگی کے باوجود خدا نے کلیسیا کو مضبوط کیا ہے تاکہ وہ امن، مفاہمت اور انسانی ترقی کی خدمت کر سکے۔
انہوں نے Mamã Muxima Marian Shrine میں عوام کے جوش و جذبے کو”اْمید کی بنیاد“قرار دیا، جو طاقتوروں کے کھوکھلے وعدوں کے باوجود قائم رہتی ہے۔
اپنے سفر کے آخری مرحلے میں گنیِ میں انہوں نے جیل کے قیدیوں سے ملاقات کی۔انہوں نے بتایا کہ قیدیوں نے بارش میں اْن کے ساتھ مل کر”اے ہمارے باپ“ کی دْعا پڑھی اور اپنے گناہوں اور آزادی کے لیے دْعا کی درخواست کی۔انہوں نے اس لمحے کو”خدا کی بادشاہی کی حقیقی علامت“قرار دیا۔اسی دن انہوں نے نوجوانوں سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے خوشی سے بھرپور تقریب میں شرکت کی۔ نوجوانوں نے گواہی دی کہ انہوں نے انجیل میں آزاد اور ذمہ دار زندگی کا راستہ پایا۔
آخر میں، پاپائے اعظم نے کہا کہ یہ سفر یوخرستی عبادت پر اختتام پذیر ہوا، جو پورے پاسبانی سفر کا خوبصورت اختتام تھا۔