یسوع اُن لوگوں کی دْعاؤں کو نہیں سنتاجو جنگ کرتے ہیں۔ پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 29مارچ 2026کوسینٹ پیٹرز اسکوئر میں کھجوروں کے اتوار کے موقع پر، پوپ لیو چہاردہم نے مومنین سے خطاب کرتے ہوئے یسوع کو ”امن کے بادشاہ“ کے طور پر پیش کیا، جو اپنے اِردگرد بڑھتے ہوئے تشدد کے باوجود خود کو ظاہر کرتا ہے۔
جب یسوع صلیب کے راستے پر چلتا ہے، تو ہم بھی اُس کے ساتھ چلتے ہیں اور اُس کے اُس دْکھ اور قربانی پر غور کرتے ہیں جو یسوع نے انسانیت کے لیے محبت کے تحفہ کے طور پر برداشت کی۔
پوپ لیو نے کہا کہ وہ حلیمی اور فرمانبرداری میں ثابت قدم رہتا ہے، جبکہ دوسرے لوگ تشدد کو بھڑکا رہے ہوتے ہیں۔ وہ خود کو انسانیت کو گلے لگانے کے لیے پیش کرتا ہے، جبکہ دوسرے تلواریں اور لاٹھیاں اْٹھاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یسوع دنیا میں زندگی اور روشنی لانے آیا، حالانکہ تاریکی اور موت اُسے گھیرنے والی تھی۔پوپ لیو نے وضاحت کی کہ یسوع چاہتا تھا کہ دنیا کو باپ کی آغوش میں لے آئے اور ہر اُس رکاوٹ کو ختم کرے جو ہمیں خدا اور ایک دوسرے سے دْور کرتی ہے۔
”امن کے بادشاہ“ کے الفاظ کو دہراتے ہوئے، پوپ لیونے یسوع کے دْکھوں میں اُن کے اعمال کو نمایاں کیا جو امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔
جب ایک شاگرد نے سردار کاہن کے خادم پر وار کر کے اُس کا کان کاٹ دیا، تو یسوع نے اُسے تلوار نیچے رکھنے کا حکم دیا، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ جو تلوار اْٹھاتے ہیں وہ تلوار سے ہی ہلاک ہوں گے۔جب یسوع کو مصلوب کیا گیا اور موت کے حوالے کیا گیا، تو انہوں نے اپنے دفاع کے لیے ہتھیار نہیں اْٹھائے بلکہ خود کو ایسے پیش کیا جیسے قربانی کے لیے لے جایا جانے والا برہ ہو۔
پوپ لیو نے کہاکہ یسوع امن کا بادشاہ ہے۔ وہ اُن لوگوں کی دْعاؤں کو نہیں سنتاجو جنگ کرتے ہیں بلکہ اُنہیں رد کرتاہے۔
انہوں نے دنیا بھر میں انسانی خاندان کے زخموں پر افسوس کا اظہار کیا، جہاں لوگ تشدد اور جنگ کے شکار ہو کر خدا کو پکار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسیح، امن کا بادشاہ، اپنی صلیب سے پھر پکار رہے ہیں: خدا محبت ہے! رحم کرو! اپنے ہتھیار رکھ دو! یاد رکھو کہ تم سب بھائی اور بہنیں ہو!
اپنے پیغام کے اختتام پر پوپ لیو نے مقدسہ مریم کی شفاعت طلب کی کہ خدا کرے یہ تشدد اور درد میں مبتلا تمام متاثرین کے آنسو بہار کی دھوپ میں اوس کی طرح جلد خشک ہو جائیں۔