کوئی بھی کسی دوسرے کی عظمت کو پامال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔پاپا ئے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 15مئی2026کوپاپا ئے اعظم لیو چہاردہم نے منشیات اور منظم جرائم کے خلاف دوسری بین الپارلیمانی کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات کی، جو Organization for Security and Co-operation in Europe (او ایس سی ای) کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی تھی۔ اس تنظیم میں یورپ، شمالی امریکہ اور وسطی ایشیا کے 57 ممالک شامل ہیں۔اپنے خطاب میں پوپ لیو نے کہا کہ اس کانفرنس میں شرکاء کی موجودگی اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کہ غیر قانونی منشیات کی لعنت اور ان مجرمانہ نیٹ ورکس کا مقابلہ کیا جائے جوہماری معاشروں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ویٹی کن اس بات پر مضبوط یقین رکھتا ہے کہ قانون کی حکمرانی، جرائم کی روک تھام، اور فوجداری انصاف کو متحد ہو کر کام کرنا چاہیے، کیونکہ یہ عناصر انسان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پورے معاشرے کو جرائم کی روک تھام کرتے وقت عالمی انسانی حقوق کا احترام بھی یقینی بنانا چاہیے۔پوپ لیو نے یاد دلایا کہ حقیقی انصاف صرف سزا دینے تک محدود نہیں ہو سکتا، بلکہ انصاف کے لیے استقامت اور رحم دلی بھی ضروری ہے تاکہ مجرموں کو دوبارہ معاشرے میں شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان کے فطری وقار کا احترام، حتیٰ کہ ان لوگوں کا بھی جنہوں نے جرائم کیے ہوں، سزائے موت، تشدد اور ہر قسم کی ظالمانہ یا توہین آمیز سزا کو مسترد کرتا ہے۔پوپ لیو نے ایسے جامع پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا جو نشے کے شکار افراد کو طبی علاج، نفسیاتی معاونت اور بحالی کی سہولیات فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ ایسا کثیر الجہتی طریق کار، جو نہ صرف سخت دباؤپر مبنی ہو اور نہ ہی حد سے زیادہ نرمی پر، سابقہ نشہ کے عادی افراد کو اپنی خدا داد عزت و وقار دوبارہ دریافت کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
پوپ لیو کے مطابق تعلیم منشیات کی روک تھام کی کنجی ہے، کیونکہ یہ بچوں کو منشیات کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سوشل میڈیا اکثر خطرناک غلط معلومات پھیلاتا ہے جو اِن خطرات کو معمولی بنا کر پیش کرتی ہیں، تو تعلیم کا آغاز خاندان سے ہونا چاہیے اور اسے اسکول میں مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے، تاکہ بچوں کو منشیات کے دماغ، جسم، انسانی رویّے اور معاشرے کی بھلائی پر تباہ کن اثرات کے بارے میں درست سائنسی معلومات دی جا سکیں۔
پوپ لیو نے کہا کہ منظم جرائم کی روک تھام اور اس کے خلاف جدوجہد محفوظ، منصفانہ اور مستحکم معاشروں کی تعمیر کے لیے نہایت ضروری ہے۔انہوں نے قانون نافذ کرنے والے افسران اور ججوں کی خدمات کو سراہا، اور ان افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں جانوں کا نذرانہ دیا یا زخمی ہوئے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیونے یقین دلایا کہ کیتھولک چرچ اور اس کے دنیا بھر میں پھیلے ادارے، سول سوسائٹی کے تعاون سے، نشے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ، ہم ایسی پالیسیاں فروغ دے سکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں عوامی بھلائی اور ہر انسان کے ناقابلِ تنسیخ وقار کی خدمت کریں۔