پاپائے اعظم لیو چہار دہم کا جامع مسجد الجزائر کا دورہ اور باہمی احترام و امن کی اپیل
گزشتہ دنوں پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے اپنے افریقہ کے پاسبانی دورے کے آغاز پر الجزائر کی مشہورعظیم الشان”جامع مسجد آف الجزائر“کا دورہ کیا۔”مسجد الجزائر“کو مکہ اور مدینہ کی مساجد کے بعد دنیا کی تیسری بڑی مسجد قرار دیا جاتا ہے۔روایت اور مذہبی احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے پوپ لیونے مسجد میں داخل ہونے سے قبل اپنے جوتے اْتار دیے۔
مسجد کے امام محمد مامون القاسم نے اْن کا خیرمقدم کیا اور بھائی چارے کے جذبات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر پوپ لیو نے کہا میں آپ کا شکر گزار ہوں ان خیالات اور اہم باتوں کے لیے، جو اس جگہ پر پیش کی گئیں۔یہ وہ مقام ہے جو خدا کے لیے مخصوص ہے، ایک مقدس اور الٰہی جگہ، جہاں بے شمار لوگ دْعا کرنے اور اپنی زندگیوں میں خدا کی حضوری کو تلاش کرنے آتے ہیں۔پوپ لیو نے کہاخدا کی تلاش کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم ہر مرد و عورت میں خدا کی شبیہ کو پہچانیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہچان ہمیں باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی طرف بلاتی ہے۔انہوں نے مسجد کے مذہبی اور علمی کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ علم کی ترقی ہمیں تخلیق کو بہتر سمجھنے اور انسانی وقار کو پہچاننے میں مدد دیتی ہے۔انہوں نے اپنی گفتگو میں سچائی کی تلاش، ہر انسان کے وقار کی پہچان، اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ ذمہ داری جیسے موضوعات پر زور دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے الجزائر کے عوام اور پوری دنیا کے لیے دْعا کی اور اس اْمید کا اظہار کیا کہ قوموں کے درمیان امن، انصاف، مفاہمت اور معافی کو فروغ ملے گا۔
اس دورے کے دوران پوپ لیوکے ہمراہ کارڈینل جارج جیکب کوواکاد (بین المذاہب مکالمہ کے ادارے کے نگران) اور الجزائر کے آرچ بشپ ژاں پال ویسکو بھی موجود تھے۔ اس دورے میں مسجد کا رہنمائی دورہ، سرکاری تصویر، اور مہمانوں کی کتاب میں دستخط شامل تھے۔ پوپ لیونے اپنی تحریر میں لکھا:”خدائے بزرگ و برتر کی رحمت عظیم الجزائر کے عوام اور پوری انسانیت کو امن اور آزادی میں محفوظ رکھے۔“
یاد رہے یہ مسجد ایک عبادت گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ، ایک ثقافتی اور تعلیمی مرکز بھی ہے، جس میں لائبریری، ریسرچ سینٹر، عجائب گھر، دفاتر، باغات، دیدہ زیب چھتیں، ریستوران اور پارکنگ کی سہولیات موجود ہیں۔ یوں یہ نہ صرف ایک مذہبی مقام بلکہ ایک اہم سماجی و ثقافتی مرکز بھی ہے۔