پاپائے اعظم لیو چہاردہم کی تارکینِ وطن بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کی اپیل
مورخہ 23ستمبر2026 کو پوپ لیو چہاردہم نے تارکینِ وطن اور پناہ گزین بچوں کے تحفظ اور ان کی دیکھ بھال کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ نقل مکانی پر مجبور ہونے والے کم سن بچوں کی ذمہ داری ہر فرد کو محسوس کرنی چاہیے۔پوپ کی یہ اپیل تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے 112ویں عالمی دن سے چار روز قبل سامنے آئی ہے، جو 27 ستمبر کو منایا جائے گا۔ اس موقع پر پوپ لیو چہاردہم نے ”ان بچوں میں سے ایک بچہ بھی“کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے بارے میں سوچتے ہیں، خصوصاً ان کم سن بچوں کے بارے میں جو اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچے اور نوعمر افراد سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ انہیں نقل مکانی کے راستوں پر اکثر ناقابلِ بیان مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں تشدد، استحصال اور صدمہ خیز حالات شامل ہیں، جبکہ بہت سے بچے ان خطرناک راستوں پر اپنی جان بھی گنوا دیتے ہیں۔پوپ لیو نے ہر فرد سے ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص ان نوجوانوں کی زندگیوں کے بارے میں اپنی ذمہ داری محسوس کرے، کیونکہ ان بچوں اور نوجوانوں کا ہر حال میں تحفظ اور دیکھ بھال ضروری ہے۔
تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے عالمی دن کے لیے جاری کیے گئے اپنے پیغام میں پوپ لیو نے اس بات پر زور دیا کہ کم سن بچے نقل مکانی اور جبری بے دخلی سے متاثر ہونے والے سب سے زیادہ غیر محفوظ افراد میں شامل ہیں۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ لاکھوں بچے اور نوعمر افراد جنگ، غربت، تشدد، ماحولیاتی آفات اور دیگر المیوں کے باعث اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں اور افسوس ناک طور پر ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔پوپ لیو نے نقل مکانی کے راستوں پر ہونے والی اموات، انسانی اسمگلنگ اور استحصال، مسلح تنازعات میں بچوں کی بھرتی، جنسی تشدد، جبری شادیوں اور سفر کے دوران بچوں کی جانب سے جھیلے یا دیکھے گئے مظالم کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق ان حالات میں بچوں کی عظمت کو بے شمار طریقوں سے پامال کیا جاتا ہے۔تاہم پوپ لیو نے زور دیا کہ اس صورتحال کا جواب صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے لکھا کہ اس المناک حقیقت کے سامنے ان کے ذہن میں یسوع مسیح کے وہ الفاظ آتے ہیں جو ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں:”جو کوئی میرے نام پر ایسے بچوں میں سے ایک کو قبول کرے، مجھے قبول کرتا ہے“۔
اعداد و شمار کے پیچھے انسانی چہرے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین، یو این ایچ سی آر، کی جون 2026 میں جاری کردہ گلوبل ٹرینڈز 2025 رپورٹ کے مطابق 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں 11 کروڑ 78 لاکھ افراد ظلم و ستم، تنازعات، تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور موسمیاتی بحران کے باعث جبری طور پر بے گھر ہو چکے تھے۔ان میں 4 کروڑ 16 لاکھ پناہ گزین، 90 لاکھ پناہ کے متلاشی افراد اور 6 کروڑ 87 لاکھ ایسے افراد شامل تھے جو تنازعات یا تشدد کے باعث اپنے ہی ممالک کے اندر بے گھر ہوئے۔بچے بے گھر ہونے والی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے اندازے کے مطابق 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں جبری طور پر بے گھر ہونے والے 11 کروڑ 78 لاکھ افراد میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ تھی۔پناہ گزینوں اور اس جیسی صورتحال سے دوچار افراد اور بین الاقوامی تحفظ کے ضرورت مند دیگر افراد میں بچوں کا تناسب 39 فیصد تھا۔
