کیتھولک تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو محبت، اعتماد اور بھائی چارے کا ماحول فراہم کیا جائے۔ پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 22اکتوبر2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے کیتھولک تعلیمی اداروں میں پاسبانی خدمت سے متعلق بین الاقوامی کانگریس کے شرکا سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ خود کو قابلِ قدر اور محفوظ محسوس کریں، تاکہ وہ ایک پُرامن، منصفانہ اور بہتر معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ بہت سے نوجوان اپنی تکلیف اور جذبات کو چھپانے کے لیے اپنے گرد ایک حفاظتی حصار بنا لیتے ہیں، لیکن ان کے دل میں محبت کرنے اور محبت پانے کی خواہش موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نوجوانوں کو دنیا میں مثبت تبدیلی لانے، بھائی چارے کو فروغ دینے اور زیادہ منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے لیے تیار کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حوصلہ اور اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص ہم پر اس وقت بھی یقین رکھتا ہے جب ہمیں خود اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں انہوں نے یسوع مسیح کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یسوع نے بارہ رسولوں کو اس لیے نہیں چنا کہ وہ پہلے ہی بہادر تھے، بلکہ اپنی بلاہٹ اور اعتماد کے ذریعے انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر سکیں۔
پوپ لیو نے موجودہ معاشرے کے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا جہاں لوگوں کا مسلسل موازنہ کیا جاتا ہے اور انہیں کامیابی اور کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، بہت سے نوجوان غلطی کرنے، ناکام ہونے، دوسروں کی توقعات پر پورا نہ اترنے یا غلط سمجھے جانے کے خوف سے اپنی صلاحیتیں آزمانے سے بھی گھبراتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو فوری حل پیش کرنے والے گمراہ کن پیغامات سے خبردار رہنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ کیتھولک تعلیمی اداروں کو گھر جیسا ماحول فراہم کرنا چاہیے، جہاں ہر طالب علم کو خوش آمدید کہا جائے، اس کی موجودگی کو اہمیت دی جائے اور اس کی غیر موجودگی کو بھی محسوس کیا جائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض نوجوان خاندانی مسائل، ڈیجیٹل تنہائی، احساسِ کمتری اور غیر یقینی مستقبل کے خوف جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی فکری صلاحیتوں کو نکھارنے، انہیں مسیح سے قریب کرنے اور ایمان و عقل کے درمیان تعلق سمجھنے میں مدد دیں۔ ان کے مطابق، تعلیمی و روحانی تربیت کا مقصد نوجوانوں کو سوچنے، سچائی کی تلاش کرنے اور مستقل مزاجی کے ساتھ درست فیصلے کرنے کے قابل بنانا ہے۔
پوپ لیونے اپنی گفتگو کے اختتام پر دل کی تربیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں ہمدردی، شکرگزاری اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے غریبوں کی خدمت، رضاکارانہ سرگرمیوں اور قدرتی ماحول کی حفاظت کو محض اضافی سرگرمیاں قرار دینے کے بجائے ایسی عملی تربیت کا حصہ قرار دیا جو انسان کے دل میں محبت اور دوسروں کے لیے احساس کو فروغ دیتی ہے۔پوپ لیو چہاردہم نے شرکا کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ ان کے سفر میں قدم سے قدم ملا کر چلیں، تاکہ وہ خدا کی عطا کردہ صلاحیتوں کو پہچان سکیں اور انہیں معاشرے کی بھلائی کے لیے استعمال کر سکیں۔
