پاپائے اعظم لیو چہاردہم کا مئی کیلئے دْعائیہ ارادہ:”ہر انسان کو خوراک میسر ہو ۔“
یکم مئی2026 کوپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے مئی کے مہینے کیلئے اپنے خصوصی دعائیہ ارادے کو جاری کرتے ہوئے دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دْعا کریں کہ ہر انسان کو مناسب خوراک میسر ہو۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا میں کروڑوں افراد آج بھی بھوک کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہو رہی ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ لاکھوں بہن بھائی بھوک میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ہمارے دسترخوانوں پر بہت سی نعمتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے دْعا کی کہ خدا ہم میں ایک نئی سوچ پیدا کرے تاکہ ہم ہر نعمت پر شکر ادا کرنا سیکھیں، سادہ زندگی اپنائیں، خوشی سے بانٹیں اور زمین کی پیداوار کو خدا کا تحفہ سمجھتے ہوئے سب کے لیے استعمال کریں، نہ کہ صرف چند لوگوں کے لیے۔انہوں نے مزید کہا کہ خدا ہمیں خودغرضانہ استعمال کے رویے کو بدل کر یکجہتی کی ثقافت میں ڈھالنے کی توفیق دے اور ہماری برادریاں عملی اقدامات کریں جیسے آگاہی مہمات، فوڈ بینکس کا قیام اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کو فروغ دینا۔
پوپ نے کہا کہ اے خدا، جس نے اپنے پیارے بیٹے یسوع کو دنیا کی زندگی کے لیے روٹی بنا کر بھیجا، ہمیں ایسا نیا دل عطا فرما جو انصاف کا بھوکا اور بھائی چارے کا پیاسا ہو۔انہوں نے اپنی دْعا کے اختتام پر کہا کہ کوئی بھی انسان مشترکہ دسترخوان سے محروم نہ رہے اور خدا کا رْوح ہمیں یہ سکھائے کہ روٹی کو صرف استعمال کی چیز نہیں بلکہ محبت، اشتراک اور دیکھ بھال کی علامت سمجھیں۔عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق اس سال تقریباً 31 کروڑ 80 لاکھ افراد شدید غذائی بحران کا سامنا کریں گے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بھوک کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
پوپ کے عالمی دعائیہ نیٹ ورک کے بین الاقوامی ڈائریکٹر فادر کرسٹوبل فونِس نے کہا کہ دنیا میں اتنے لوگوں کی بنیادی انسانی ضرورت یعنی خوراک سے محروم ہونا ایک تکلیف دہ حقیقت ہے، اسی لیے پوپ سب کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ صرف دْعا ہی نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی یکجہتی کا اظہار کریں۔یہ پیغام دنیا بھر میں بھوک کے خاتمے اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینے کی ایک اہم یاددہانی کے طور پر سامنے آیا ہے۔