کرائے کے آنسو

 پیشہ ورانہ ما تم کرنے والوں کی انوکھی دنیا
پیشہ ورانہ ما تم کرنے والوں کی انوکھی دنیا

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان نہیں بچ سکتا۔ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کے عزیز و اقارب غمگین ہوتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں اور آنسو بہا کر اسے آخری الوداع کہتے ہیں۔ لیکن دنیا کے بعض معاشروں میں غم کا اظہار صرف جذبات تک محدود نہیں بلکہ ایک باقاعدہ پیشہ بھی ہے۔ ایسے افراد یا عورتیں موجود ہیں جو جنازوں پر پیسے لے کر روتے ہیں، نوحہ کرتے ہیں اور مرنے والے کے غم کا اظہار کرتے ہیں، چاہے ان کا مرحوم سے کوئی ذاتی تعلق نہ ہو۔
اس روایت کو پیشہ ورانہ ما تم کرنے والے کہا جاتا ہے۔ چین، مصر، غانا اور رومانیہ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں یہ رسم صدیوں سے کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اگرچہ جدید دور میں یہ روایت کم ہو رہی ہے، لیکن کئی جگہوں پر آج بھی اسے اہم سماجی روایت سمجھا جاتا ہے۔
پیشہ ور ماتم کی روایت بہت پرانی ہے۔ قدیم مصر میں فرعونوں اور امیر لوگوں کے جنازوں پر خاص عورتیں بلائی جاتی تھیں جو زور زور سے روتی تھیں، بال کھولتی تھیں اور غم کا ماحول پیدا کرتی تھیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ جتنا زیادہ ماتم ہوگا، مرنے والے کی اتنی زیادہ عزت ظاہر ہوگی۔قدیم یونان، روم اور چین میں بھی ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جو جنازوں میں نوحہ خوانی کرتے تھے۔ بعض معاشروں میں اسے مذہبی اور روحانی عمل بھی سمجھا جاتا تھا، جبکہ بعض میں یہ سماجی حیثیت کی علامت تھا۔
چین: 
      جہاں جنازہ ایک بڑی تقریب بن جاتا ہے۔چین کے بعض دیہی علاقوں میں آج بھی کا رواج موجود ہے۔ خاص طور پر بعض صوبوں میں جنازے پر رونے والے افراد، موسیقار اور بعض اوقات فنکار بھی بلائے جاتے ہیں۔چینی روایت کے مطابق مرنے والے کو عزت سے رخصت کرنا ضروری ہے۔ اس لیے جنازہ جتنا بڑا اور پُرہجوم ہو، اسے اتنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ کچھ علاقوں میں پیشہ ور ماتمی افراد چیخ چیخ کر روتے ہیں، مرنے والے کی تعریف کرتے ہیں اور ماحول کو غمگین بناتے ہیں۔بعض اوقات یہ رسم اتنی نمایاں ہو جاتی ہے کہ جنازہ ایک سماجی تقریب محسوس ہونے لگتا ہے۔ حکومت نے کہیں کہیں اس روایت کو محدود کرنے کی کوشش بھی کی، مگر دیہی علاقوں میں یہ اب بھی موجود ہے۔

مصر :  
      یہاں فرعونوں کی روایت آج بھی باقی ہے۔مصر میں پیشہ ور رونے والی عورتوں کو بعض مقامات پرنواحت کہا جاتا ہے۔ یہ عورتیں سیاہ لباس پہن کر جنازے میں شریک ہوتی ہیں، بلند آواز سے روتی ہیں، سینہ پیٹتی ہیں اور مرنے والے کے لیے مرثیے پڑھتی ہیں۔مصری معاشرے میں یہ تصور پایا جاتا رہا ہے کہ اگر جنازے پر زیادہ غم کا اظہار نہ ہو تو مرنے والے کی قدر کم سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے بعض خاندان زیادہ تعداد میں ماتمی عورتیں بلاتے ہیں تاکہ مرحوم کی عزت نمایاں ہو۔دیہی علاقوں میں یہ رسم آج بھی کہیں کہیں نظر آتی ہے، خاص طور پر بزرگ خواتین اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
غانا:
     افریقی ملک غانا میں جنازوں کا انداز دنیا بھر سے مختلف ہے۔جہاں موت بھی جشن بن جاتی ہے۔ یہاں بعض قبائل موت کو زندگی کے اختتام کے بجائے ایک نئی شروعات سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے جنازوں میں غم کے ساتھ خوشی کا رنگ بھی شامل ہوتا ہے۔غانا میں رنگین تابوت مشہور ہیں، جو مرنے والے کے پیشے یا پسند کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔ اگر کوئی ماہی گیر ہو تو تابوت مچھلی کی شکل کا، اگر پائلٹ ہو تو جہاز کی شکل کا بنایا جا سکتا ہے۔جنازوں میں موسیقی، ڈھول، رقص اور اجتماعی کھانے کا انتظام بھی ہوتا ہے۔ بعض لوگ رونے کے ساتھ ساتھ گاتے اور ناچتے بھی ہیں۔ یہ سب مرنے والے کی زندگی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
رومانیہ :
       یہاں آنسوؤں کے ساتھ مرثیے گائے جاتے ہیں۔رومانیہ کے بعض دیہی علاقوں میں پیشہ ور ماتمی عورتیں ”بوسیٹوا“ کہلاتی ہیں۔ یہ عورتیں خاص انداز میں مرثیے گاتی ہیں جن میں مرنے والے کی زندگی، عادات، خاندان اور خوبیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔یہ مرثیے نسل در نسل منتقل ہونے والی روایت کا حصہ ہیں۔ بعض علاقوں میں اسے ایک فن سمجھا جاتا ہے۔ رومانیہ کے کچھ مقامات پر قبروں کو بھی رنگین انداز میں سجایا جاتا ہے، جو اس معاشرے کے منفرد نظریات کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ رسم کیوں موجود ہے؟
ان تمام روایات کے پیچھے ایک مشترک سوچ موجود ہے: مرنے والے کی عزت۔ قدیم معاشروں میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر جنازے پر زیادہ لوگ روئیں، زیادہ ماتم ہو اور زیادہ ہجوم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ مرنے والا اہم شخصیت تھا۔نفسیاتی طور پر بھی بعض ماہرین کہتے ہیں کہ جب دوسرے لوگ روتے ہیں تو اصل سوگوار خاندان کو بھی اپنے جذبات ظاہر کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس طرح غم بانٹنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔آج کے جدید زمانے میں کئی ممالک میں یہ رسم کم ہوتی جا رہی ہے۔ شہری زندگی، بدلتی سوچ اور مذہبی نظریات کی تبدیلی کے باعث اب بہت سے لوگ سادگی سے جنازہ کرنا پسند کرتے ہیں۔ تاہم کچھ دیہی اور روایتی علاقوں میں یہ رسم اب بھی زندہ ہے۔
کرائے کے آنسو ہمیں عجیب محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن یہ دنیا کی ثقافتی رنگا رنگی کا حصہ ہیں۔ کہیں لوگ خاموشی سے دْعا کرتے ہیں، کہیں چیخ چیخ کر روتے ہیں، کہیں گیت گاتے ہیں اور کہیں جشن مناتے ہیں۔ ہر معاشرہ غم کو اپنے انداز میں محسوس کرتا ہے۔چاہے مصر کی ماتمی عورتیں ہوں، چین کے نوحہ گر، غانا کے رنگین جنازے یا رومانیہ کے مرثیہ خوان۔سب کا مقصد ایک ہی ہے: مرنے والے کو احترام کے ساتھ آخری الوداع کہنا۔

Daily Program

Livesteam thumbnail