مسیحیوں اور مسلمانوں کو مل کر ”انسانیت کو دوبارہ زندہ“ کرنا ہوگا۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 11مئی 2026کو اْردن کے رائل انسٹیٹیوٹ فار اِنٹر فیتھ اسٹڈیز اور ویٹیکن کے ڈکاسٹری برائے بین المذاہب مکالمہ کے اراکین سے ملاقات کی۔ پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے بین المذاہب مکالمہ میں شریک افراد سے ملاقات کے دوران مسیحیوں اور مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ”جہاں انسانیت سرد پڑ چکی ہے وہاں اْسے دوبارہ زندہ کریں“ اور ”بے حسی کو یکجہتی میں بدل دیں۔“
رائل انسٹیٹیوٹ کے اراکین، جو اْردن کے شہزادہ حسن بن طلال کی سرپرستی میں قائم کیا گیا تھا، روم میں جدید دور میں ”انسانی ہمدردی اور رحم دلی“کے موضوع پر منعقدہ ایک مذاکرے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔اپنے خطاب میں پوپ لیو نے کہا کہ رحم دلی اور ہمدردی مسیحیت اور اسلام دونوں کی ”بنیادی اقدار“ ہیں۔
پوپ لیو نے کہا کہ اسلامی روایت میں رحم دلی ایک ایسی نعمت ہے جو خدا مومنوں کے دلوں میں عطا کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں میں ”الرؤوف“ کا شامل ہونا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ”رحم دلی کا سرچشمہ خود خدا ہے۔“
دوسری جانب، مسیحی روایت میں یہی خدائی رحم دلی یسوع مسیح کی ذات میں ”نمایاں اور محسوس“ ہو جاتی ہے۔ خدا انسان بن کر نہ صرف انسانی دْکھ درد کو دیکھتا اور سنتا ہے بلکہ خود اس کا تجربہ کرتا ہے، اور یوں ”رحم دلی کا جیتا جاگتا پیکر“ بن جاتا ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ رحم دلی اور ہمدردی مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے کوئی اضافی یا اختیاری چیز نہیں بلکہ دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ان کے معاشرتی تقاضے بھی ہیں۔مسیحی نقط نظر سے، ”غریبوں سے محبت“ اور اْن کے دْکھ درد میں شریک ہونا نہایت اہم ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کے لیے مملکتِ اْردن کی ”فیاضانہ کوششوں“ کو سراہا۔
پوپ لیو نے کہا کہ اگرچہ آج ہم ”پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے“ ہیں، لیکن دوسروں کی مشکلات اور مصائب کی تصاویر اور ویڈیوز کا مسلسل بہاؤ ہمارے دلوں کو نرم کرنے کے بجائے بعض اوقات انہیں بے حس بنا دیتا ہے۔پوپ فرانسس کے ایک ابتدائی وعظ کا حوالہ دیتے ہوئے پوپ لیو نے خبردار کیا کہ ہم ”دوسروں کے دْکھوں کے عادی ہو چکے ہیں“ اور یہ سوچنے لگے ہیں کہ ”اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، یہ میری دلچسپی کا معاملہ نہیں، یہ میرا مسئلہ نہیں۔“
اپنے پیغام کے اختتام پر پوپ لیو نے کہا کہ اس صورتحال میں مسیحیوں اور مسلمانوں کو اپنی اپنی مذہبی روایات کی ”روحانی دولت“ سے فائدہ اْٹھاتے ہوئے ایک ”مشترکہ مشن“ ادا کرنا ہوگا: ”جہاں انسانیت سرد پڑ چکی ہے وہاں اْسے دوبارہ زندہ کرنا، مظلوموں کی آواز بننا اور بے حسی کو یکجہتی میں بدلنا ہے۔“