خدا کی فرمانبرداری کریں، انسانوں کی نہیں۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 16اپریل 2026کوکیمیرون کے مغربی شہر بامینڈا میں پاک ماس میں وعظ کے دوران پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے علاقے میں پائی جانے والی غربت اور ناانصافی کی مختلف شکلوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کیمیرو ن کے مومنین پر زور دیا کہ وہ امن اور مفاہمت پر مبنی مستقبل کی تعمیر کے لیے خود کو خدا اور اْس کے کلام کے سپرد کریں۔
بامینڈا میں منعقدہ اس بڑے اجتماع میں، جہاں تقریباً 20 ہزار افراد نے شرکت کی، پوپ لیونے لوگوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اْن کی اس اْمید میں شریک ہیں کہ ایک ایسا مستقبل قائم ہو جہاں امن اور مفاہمت ہو۔جہاں ہر انسان کی عزت کا احترام کیا جائے اور اْس کے بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کیمیرون کے انگریزی بولنے والے شمال مغربی علاقے میں گزشتہ برسوں کے دوران کشیدگی اور تشدد، جسے اینگلوفون بحران کہا جاتا ہے، نے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا، لوگوں کو بے گھر کیا اور انسانی مسائل کو مزید گہرا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ لوگ امن اور انصاف کی اْمید رکھتے ہیں، لیکن یہ اْمیدیں اکثر اْن مسائل کی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہیں جو اس خوبصورت سرزمین کو درپیش ہیں۔پوپ لیو نے مقامی لوگوں کی خوشی سے بھرپور عبادات اور دْعاؤں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خدا پر اْن کے مکمل بھروسے، مضبوط اْمید اور اس کی محبت سے وابستگی کی علامت ہیں۔تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ زندگی کے بہت سے حالات دل کو توڑ دیتے ہیں اور امن و انصاف کی خواہشات کو بار بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پوپ لیو نے معاشرے میں پھیلی غربت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ خوراک کی کمی اور بدعنوانی خاص طور پر وسائل کے غلط استعمال میں نظر آتی ہے، جو اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے۔
انہوں نے تعلیمی اور صحت کے نظام میں موجود مسائل، اور نوجوانوں کی بڑی تعداد میں بیرونِ ملک ہجرت کو بھی ایک سنگین چیلنج قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی مسائل کے ساتھ ساتھ بیرونی طاقتیں بھی، منافع کی خاطر، افریقہ کے وسائل کا استحصال کرتی رہتی ہیں۔پوپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے، آج اور ابھی، نہ کہ کل یا مستقبل میں، کہ ہم اتحاد کی تصویر کو دوبارہ جوڑیں اور ملک و براعظم کی تنوع اور دولت کو یکجا کریں تاکہ امن اور مفاہمت پر مبنی معاشرہ قائم ہو۔انہوں نے کہا کہ مشکلات کے باوجود خدا کا کلام نئی راہیں کھولتا ہے، تبدیلی اور شفا لاتا ہے، اور مومنوں کو مثبت تبدیلی کے فعال کردار بناتا ہے۔خدا ہمیں ہمت دیتا ہے کہ ہم برائی کا مقابلہ کریں اور بھلائی کو فروغ دیں۔رسولوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی گواہی ضمیر کی آواز، پیش گوئی اور برائی کے خلاف ایک اعلان بن گئی تھی۔
پوپ لیو نے زور دے کر کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کی بجائے خدا کی فرمانبرادری کریں۔انہوں نے وضاحت کی کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اپنی اندرونی آزادی کو دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں اور امن و بھائی چارے کے معمار بن جاتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ ایمان کو ایسے عقائد کے ساتھ نہ ملایا جائے جو اکثر سیاسی یا معاشی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف خدا ہی ہمیں آزاد کرتا ہے، صرف اْس کا کلام آزادی کے راستے کھولتا ہے اور صرف اْسی کی روح ہمیں نیا انسان بناتی ہے۔