دنیا میں بچے کی پیدائش پر ہونے والی انوکھی رسومات
بچے کی پیدائش دنیا کی ہر ثقافت میں خوشی، اْمید اور نئی زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ ہر ملک اور معاشرے میں نومولود کی آمد پر خوشیاں منائی جاتی ہیں، لیکن ان خوشیوں کو منانے کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔ کہیں بچے کے نام رکھنے کی شاندار تقریب منعقد کی جاتی ہے، کہیں اس کے مستقبل کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں، تو کہیں ایسی روایات موجود ہیں جو سننے والوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ آئیے دنیا کے مختلف ممالک کی چند دلچسپ اور منفرد رسومات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
٭جاپان میں بچے کی پیدائش کے تقریباً سو دن بعد ”اوکوئی زومے (Okuizome)“ نامی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ اس موقع پر بچے کے سامنے مختلف روایتی کھانے رکھے جاتے ہیں اور علامتی طور پر اسے کھلانے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ اس روایت کا مقصد یہ دْعا کرنا ہوتا ہے کہ بچے کو زندگی بھر رزق کی فراوانی نصیب ہو اور وہ کبھی بھوک کا شکار نہ ہو۔
٭انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ایک منفرد روایت یہ ہے کہ نومولود کے پاؤں تقریباً 105 دن تک زمین پر نہیں لگنے دیے جاتے۔ مقامی عقیدے کے مطابق اس عرصے میں بچہ روحانی طور پر پاکیزہ ہوتا ہے، اس لیے اسے زمین سے دور رکھا جاتا ہے۔ مقررہ مدت مکمل ہونے پر ایک خصوصی مذہبی تقریب کے ذریعے پہلی بار بچے کو زمین پر کھڑا کیا جاتا ہے۔
٭نیوزی لینڈ کے ماؤری باشندے بچے کی نال (Placenta) کو خاندان کی آبائی زمین میں دفن کرتے ہیں۔ اس رسم کو”توئی وھینوا“ (Whenua Toi) کہا جاتا ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق اس عمل سے بچے کا اپنی سرزمین، آباؤ اجداد اور ثقافتی شناخت کے ساتھ گہرا روحانی تعلق قائم ہوتا ہے۔
٭امریکہ کے ناواجو قبائل میں بچے کی پہلی ہنسی کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ جب بچہ پہلی بار مسکراتا یا ہنستا ہے تو خاندان ایک خصوصی تقریب منعقد کرتا ہے۔ روایت کے مطابق، پہلی ہنسی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ بچہ اب معاشرے کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔
٭ترکی میں نومولود کی آمد پر رشتہ دار اور دوست بچے کو سونے کے سکے یا زیورات تحفے میں دیتے ہیں۔ یہ صرف خوشی کا اظہار نہیں بلکہ بچے کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
٭چین میں بچے کی پیدائش کے ایک ماہ بعد ”ریڈ ایگ اینڈ جنجر“ کی تقریب منائی جاتی ہے۔ سرخ رنگ کے انڈے خوش قسمتی اور خوشیوں کی علامت ہوتے ہیں، جبکہ ادرک صحت اور طاقت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ اس تقریب میں عزیز و اقارب کو مدعو کیا جاتا ہے اور نومولود کی صحت و سلامتی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔
٭فن لینڈ میں ہر نومولود بچے کے والدین کو حکومت کی طرف سے ایک ”بے بی باکس“ دیا جاتا ہے۔ اس میں کپڑے، کمبل، ڈائپر اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ باکس بچے کے ابتدائی بستر کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس منفرد اقدام کا مقصد ہر بچے کو زندگی کا محفوظ اور مساوی آغاز فراہم کرنا ہے۔
٭منگولیا میں بچے کے ایک خاص عمر کو پہنچنے پر پہلی بار بال کاٹنے کی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ خاندان کے بزرگ باری باری بچے کے بال کاٹتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں اور تحائف پیش کرتے ہیں۔ یہ رسم بچے کی صحت، خوشحالی اور لمبی عمر کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
٭نائجیریا کے یوروبا قبیلے میں بچے کی پیدائش کے آٹھویں دن ”اومو ایسے“ (Ise Omo) کے نام سے ایک خصوصی نام رکھنے کی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ اس موقع پر خاندان اور عزیز و اقارب جمع ہو کر بچے کو ایسے نام دیتے ہیں جو گہرے معانی رکھتے ہیں اور والدین کی اْمیدوں اور دعاؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ تقریب میں دعائیں کی جاتی ہیں اور شہد، کولا نٹ اور ایلیگیٹر پیپرجیسی روایتی اشیاء بچے کو علامتی طور پر چکھائی جاتی ہیں تاکہ اس کی زندگی خوشحال، میٹھی اور کامیاب ہو۔
٭گھانا میں بچے کی پیدائش کے آٹھویں دن ”آؤٹ ڈورنگ“ (Outdooring) کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ اس دن پہلی مرتبہ بچے کو گھر سے باہر لا کر خاندان اور برادری سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ بزرگ بچے کو پانی، بعض اوقات روایتی مشروب اور جڑی بوٹیوں کے ذریعے دعائیں دیتے ہیں تاکہ وہ صحت مند، مضبوط اور محفوظ زندگی گزارے۔ اس موقع پر دعوت، موسیقی اور رقص کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔
٭ہندو مذہب میں ”نام کرن“ بچے کی پیدائش کے بعد اہم مذہبی رسومات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ تقریب عام طور پر گیارہویں یا بارہویں دن منعقد کی جاتی ہے۔ ایک پنڈت مقدس منتر پڑھتا ہے، دعائیں کرتا ہے اور بچے کا نام اس کے کان میں آہستہ سے کہتا ہے، جبکہ مقدس پانی چھڑکا جاتا ہے۔ عقیدہ ہے کہ یہ رسم بچے کو برکت، تحفظ اور خوشحال مستقبل عطا کرتی ہے۔
٭یونان میں آرتھوڈوکس مسیحی روایت کے مطابق بچے کی پیدائش کے چالیسویں دن ماں اور بچہ چرچ جاتے ہیں، جہاں کاہن خصوصی دْعا اور برکت دیتا ہے۔ اس رسم کو ”سارانتیسموس“ (Sarantismos) کہا جاتا ہے۔ یہ ماں اور بچے کی روحانی برکت، شکرگزاری اور بچے کو میں شامل کرنے کی علامت ہے۔
٭اسکاٹ لینڈ میں ”ویٹنگ دی بیبیز ہیڈ“(Head Baby's the Wetting ) ایک قدیم روایت ہے۔ بچے کی پیدائش پر دوست اور رشتہ دار اکٹھے ہو کر نومولود کی صحت اور روشن مستقبل کے لیے دْعائیں کرتے ہیں۔ روایت کے مطابق اس خوشی میں ایک دوسرے کو مشروب پیش کیا جاتا تھا، اگرچہ آج کل یہ تقریب زیادہ سادہ انداز میں منائی جاتی ہے۔
٭میکسیکو میں ”لاس پریزنٹاسیونس(Presentaciones Las) کی رسم کے تحت تقریباً تین ماہ کی عمر میں بچے کو چرچ اور کلیسیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ بچے کو خوبصورت لباس پہنایا جاتا ہے، خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں اور کاہن اس کے لیے برکت کی دْعا کرتا ہے۔ اس کے بعد خاندان اور دوست مل کر خوشیاں مناتے ہیں۔
٭ساموا میں بچے کی پیدائش پر خاندان کے افراد جمع ہو کر خصوصی دعائیں اور برکتیں دیتے ہیں۔ اس تقریب میں روایتی گیت، رقص اور تحائف پیش کیے جاتے ہیں۔ اس رسم کا مقصد بچے کے لیے حفاظت، خوشحالی اور کامیاب زندگی کی دعا کرنا اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس کی پرورش پورا خاندان اور برادری مل کر کرے گی۔
دنیا بھر کی یہ انوکھی رسومات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ اگرچہ زبانیں، ثقافتیں اور روایات مختلف ہیں، لیکن ہر معاشرے میں بچے کی پیدائش کو محبت، اْمید اور خوشیوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ کہیں دْعاؤں کے ذریعے، کہیں تحائف کے ذریعے اور کہیں علامتی رسومات کے ذریعے نومولود کا استقبال کیا جاتا ہے۔ یہ روایات ہمیں سکھاتی ہیں کہ نئی زندگی کا احترام اور اس کی خوشی منانا انسانیت کی ایک مشترکہ قدر ہے۔