پاکستان میں دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیئزز اور بڑھتا ہوا خطرہ
پاکستان قدرتی حسن، بلند پہاڑوں اور برف پوش چوٹیوں کی سرزمین ہے۔ دنیا کے چند عظیم پہاڑی سلسلے، جیسے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش، پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع ہیں۔ انہی پہاڑوں میں ہزاروں گلیشیئرز موجود ہیں، جن کی وجہ سے پاکستان کو قطبی علاقوں کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیئرز والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ گلیشیئرز نہ صرف قدرتی خوبصورتی کا حصہ ہیں بلکہ ملک کی آبی ضرورت، زراعت اور ماحول کے لیے نہایت اہم ہیں۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث ان گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
گلیشیئر دراصل برف کے بڑے ذخیرے ہوتے ہیں جو ہزاروں سال میں بنتے ہیں۔ یہ پہاڑوں پر برف باری کے مسلسل جمع ہونے سے وجود میں آتے ہیں اور آہستہ آہستہ نیچے کی طرف سِرکتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں گلگت بلتستان، چترال، سوات اور آزاد کشمیر میں ہزاروں گلیشیئرز پائے جاتے ہیں۔ مشہور گلیشیئرز میں بالتورو، بیافو، سیاچن، بٹورا اور ہسپر شامل ہیں۔ ان گلیشیئرز سے نکلنے والا پانی دریاؤں، ندی نالوں اور ڈیموں کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان کے بڑے دریا، خصوصاً دریائے سندھ، بڑی حد تک انہی برفانی ذخائر پر انحصار کرتے ہیں۔ گلیشیئرز کے پانی سے نہ صرف کھیت سیراب ہوتے ہیں بلکہ شہروں، دیہاتوں اور صنعتوں کو بھی پانی فراہم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلیشیئرز کو پاکستان کی ”واٹر ٹاورز“ بھی کہا جاتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے گلوبل وارمنگ کے باعث زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان کے پہاڑی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔ گرمی بڑھنے سے گلیشیئرز معمول سے زیادہ رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں برف باری اب بھی ہوتی ہے، مگر مجموعی طور پر برف کے ذخائر کم ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
گلیشیئرز کے پگھلنے کا پہلا بڑا خطرہ گلیشیئرجھیلوں کا بنناہے۔ جب برف تیزی سے پگھلتی ہے تو پانی جمع ہو کر جھیلیں بنا لیتا ہے۔ بعض اوقات یہ جھیلیں اچانک پھٹ جاتی ہیں، جسے گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF)کہا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں نیچے آباد دیہات، پل، سڑکیں، فصلیں اور انسانی جانیں شدید نقصان اٹھا سکتی ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں اس طرح کے واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔دوسرا خطرہ پانی کے مستقبل سے متعلق ہے۔ اگر گلیشیئرز تیزی سے ختم ہوتے رہے تو ابتدا میں پانی زیادہ ملے گا، مگر بعد میں دریاؤں میں پانی کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔
یہ صورتحال پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے نہایت خطرناک ہے، کیونکہ زراعت، بجلی کی پیداوار اور پینے کے پانی کا بڑا انحصار انہی آبی وسائل پر ہے۔تیسرا اثر ماحول اور حیاتیاتی تنوع پر پڑتا ہے۔ پہاڑی علاقوں کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے جنگلی حیات، نباتات اور مقامی آبادی کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ سیاحت پر بھی اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، کیونکہ برف پوش پہاڑ اور خوبصورت وادیاں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
پاکستان میں دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیئرز ہونے کے باوجود یہ ایک تشویش ناک حقیقت ہے کہ ملک موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ بہت کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بار بار عالمی سطح پر موسمیاتی انصاف اور ماحولیاتی تعاون کا مطالبہ کرتا ہے۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت، اداروں اور عوام سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے درختوں کی کٹائی روکنا اور شجرکاری کو فروغ دینا ضروری ہے، کیونکہ درخت ماحول کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ دوسرا، آلودگی کم کرنے کے لیے صاف توانائی، پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحول دوست پالیسیوں کو اپنانا چاہیے۔ تیسرا، شمالی علاقوں میں گلیشیئر جھیلوں کی نگرانی، ابتدائی وارننگ سسٹم اور محفوظ انفراسٹرکچر بنانا ضروری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پانی کے دانشمندانہ استعمال کی بھی ضرورت ہے۔ اگر ہم آج پانی ضائع کرتے رہے تو مستقبل میں شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ زراعت میں جدید آبپاشی نظام، ڈیموں کی تعمیر اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے جیسے اقدامات نہایت اہم ہیں۔
گلیشیئرز صرف برف کے ڈھیر نہیں بلکہ پاکستان کی زندگی، معیشت اور مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ان کا پگھلنا ایک خاموش مگر بڑا خطرہ ہے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں پانی کی کمی، سیلاب اور ماحولیاتی تباہی جیسے مسائل کا سامنا کریں گی۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم گلیشیئرز کے تحفظ کو قومی ترجیح بنائیں اور قدرتی وسائل کی حفاظت کریں۔