پل بنیں! پل تعمیر کریں!

پل بنیں! پل تعمیر کریں!
پل بنیں! پل تعمیر کریں!


آج ایشیا میں کلیسیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ دلیری اور جرات کے ساتھ زمانے کی اُن علامتوں کو پڑھے، سمجھے اور ان کا مؤثر جواب دے، جو اس وسیع براعظم کے بیشتر حصوں کی سمت متعین کر رہی ہیں اور اس کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ایشیا بے مثال تنوع سے مالا مال براعظم ہے۔ یہاں بے شمار زبانیں، ثقافتیں، رسم و رواج اور روایات پائی جاتی ہیں۔ دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے کروڑوں پیروکار اسی خطے میں آباد ہیں۔ لوگوں کی خوراک، لباس، فکری صلاحیتوں اور معاشرتی رویّوں میں نمایاں تنوع موجود ہے۔ بیشتر ایشیائی معاشروں میں متنوع نظام ایک زندہ حقیقت ہے، جسے قبول کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم آج ایشیا کی مجموعی صورتحال نہایت پیچیدہ اور تیزی سے بدلتی ہوئی ہے۔ گزشتہ برسوں میں متعدد ایشیائی ممالک میں مذہبی انتہا پسندی اور تعصب کو فروغ ملا ہے۔ عدم برداشت، استحصال اور ناانصافی ایک نئی معمول کی کیفیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہو رہی ہے، بدعنوانی عام ہے، پدرشاہی نظام اب بھی معاشرتی ڈھانچے پر غالب ہے، جبکہ اقلیتوں، غریبوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف تشدد روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ کئی ممالک میں جمہوری اقدار اور اصولوں کو منظم انداز میں کمزور کیا جا رہا ہے۔
اسی متنوع اور چیلنجزسے بھرپور ایشیائی تناظر میں فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی 20 تا 26 جولائی 2026 کو جکارتہ، انڈونیشیا میں منعقد ہوگی۔ اس اسمبلی کا موضوع، ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پل اور پل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“، کلیسیا کو دعوت دیتا ہے کہ وہ مکالمے، ایمانی اشتراک اور یکجہتی کے اپنے عزم کو ازسرِنو مضبوط کرے۔ اس کا الہام مقدس بائبل کے اس کلام سے لیا گیا ہے: ”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)۔

پل بنیں! پل تعمیر کریں!
پل بنیں! پل تعمیر کریں!

ممکن ہے کہ اس جنرل اسمبلی کا بنیادی پیغام یہی ہو: ”پل بنیں! پل تعمیر کریں!“
اصل چیلنج یہ ہوگا کہ کلیسیا جرات کے ساتھ زمانے کی اْن علامتوں کو سمجھے اور جواب دے، جو آج ایشیا کے بیشتر معاشروں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں جنرل اسمبلی وینزویلا کے ممتاز صحافی اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ نگار موئیسز نائم کے خیالات سے بھی رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔ ان کی کتاب ”ریونج آف پاور: اکیسویں صدی میں آمر کیسے سیاست کو نئے انداز میں تشکیل دے رہے ہیں“ عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کر چکی ہے۔اس کتاب میں مصنف نے ہمارے دور کے ایک اہم سیاسی سوال کا جائزہ لیا ہے کہ آمریت دوبارہ کیوں اْبھر رہی ہے؟ انہوں نے صحافتی مشاہدات اور سماجی علوم کی تحقیق کو یکجا کرتے ہوئے ان نئی حکمت عملیوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں آمرانہ حکومتیں اختیار کر رہی ہیں۔ وہ خصوصاً عوامی جذبات کو بھڑکانے والی سیاست، معاشرتی تقسیم اور ”بعد از حقیقت“ (Post-truth) کے رجحانات کا گہرا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان تینوں باہم مربوط پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا اور ذاتی، خاندانی، پیرش، ڈایوسیس، قومی اور ایشیائی سطح پر ان کا مؤثر جواب دینا جنرل اسمبلی کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے۔
آج بہت سے نام نہاد ایشیائی رہنما پل تعمیر کرنے کی بجائے دیواریں کھڑی کرنے میں مصروف ہیں، لیکن مسیح یسوع کے پیروکار ہونے کے ناطے ہمیں دیواریں نہیں بلکہ پل تعمیر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔پل لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، باہمی تعلق، شمولیت اور اشتراک کو فروغ دیتے ہیں اور مختلف معاشروں اور ثقافتوں سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس دیواریں انسانوں کو ایک دوسرے سے جْدا کرتی اور تنگ نظری فروغ دیتی ہیں۔
مہاجرین کا عالمی بحران اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بہت سے معاشرے دوسروں کو اپنے ممالک سے باہر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لیے سلامتی اور دیگر متعدد دلائل پیش کیے جاتے ہیں، حالانکہ اکثر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اپنے آباؤ اجداد بھی کبھی مہاجر یا تارکینِ وطن تھے۔
ایشیا کی کئی معیشتوں کی ترقی میں مہاجرین نے غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی موجودگی نے معاشروں کو مزید بنایا ہے۔ شمولیت کا جذبہ قوم پرستی کے انتہا پسند رجحانات، غیرملکیوں سے نفرت، نسل پرستی اور ذات پات پر مبنی امتیاز کا مؤثر علاج ہے۔ افسوس کہ آج بھی بہت سے مقامات پر لوگوں کو ان کے مذہب، ذات، نسل، رنگ یا جنس کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پل بنیں! پل تعمیر کریں!
پل بنیں! پل تعمیر کریں!

پوپ فرانسس اور پوپ لیو چہاردہم دونوں نے اس بارے میں واضح اور عملی رہنمائی فراہم کی ہے کہ ہم کس طرح خود بھی پل بن سکتے ہیں اور دوسروں کے درمیان بھی پل تعمیر کر سکتے ہیں۔ اس مشن کی بنیاد مکالمہ ہے۔
اپنے رسولی منشور ”ایوانجیلی گاؤڈیم“ میں پوپ فرانسس فرماتے ہیں کہ ”غیر مسیحی مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ مکالمہ میں سچائی اور محبت پر مبنی کشادہ دلی کا رویہ اختیار کرنا ضروری ہے، اگرچہ دونوں جانب سے بنیاد پرستی اور دیگر مشکلات موجود ہوں۔ بین المذاہب مکالمہ دنیا میں امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے، اس لیے یہ صرف مسیحیوں ہی نہیں بلکہ تمام مذہبی برادریوں کی ذمہ داری بھی ہے۔“
اپنی دستاویز ”عظیم اْلشان انسانیت“ میں پوپ لیو چہاردہم محبت پر مبنی تہذیب کی تعمیر کے لیے پانچ بنیادی راستے پیش کرتے ہیں:
اوّل، سچائی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کو تشدد سے پاک کرنا۔
دوم، انصاف کے ذریعے امن کی تعمیر۔
سوم، متاثرین کے نقطہ نظر کو اختیار کرنا۔
چہارم، حقیقت پسندانہ اور متوازن سوچ کو فروغ دینا۔
پنجم، مکالمہ کو دوبارہ زندہ کرنا۔
پل بننے کا مطلب ہے کہ انسان کشادہ دل اور شفاف ہو، دوسروں کی بات سننے اور ان سے سیکھنے میں عاجزی کا مظاہرہ کرے، مکالمہ اختیار کرے، تعاون اور اشتراک کو فروغ دے، برائی اور ناانصافی کے خلاف جرات کے ساتھ آواز بلند کرے اور ساتھ ہی خوشخبری کا اعلان بھی کرے۔یہی رویہ مقدسہ مریم کے ”نغمہ مریم“ میں بھی نمایاں ہے، جو اْمید کا ایک نغمہ ہے۔یہ سب کچھ گہرے ایمان، بے لوث اْخوت اور حقیقی آزادی کے جذبے کے ساتھ انجام دینا ہوگا۔ یہی آج ہمارا مشن ہے کہ ہم خود بھی پل بنیں اور دوسروں کے درمیان بھی پل تعمیر کریں۔
کیا فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز کی بارہویں جنرل اسمبلی اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے درکار ہمدردی، جرات اور عزم کا مظاہرہ کرے گی؟