لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات


پرندوں کی حیات کے مطالعے کو آرنیتھالوجی کہا جاتا ہے۔ ایک ماہر طیوریات ہینریک بروم کا کہنا ہے کہ جس ماحول میں شور کی سطح بلند ہوتی جائے گی، وہاں پرندوں کو بھی اپنی آواز اُسی حساب سے بلند کرنا پڑے گی اور ایسا ہوتا ہی ہے۔ بروم کے مطابق پرندے دبی آواز میں علی الصبح چہکنا پسند کرتے ہیں کیونکہ اُس وقت شور قدرے کم ہوتا ہے اور بہت زیادہ پرندوں کے ایک ساتھ چہچہانے کی وجہ سے ان کی آواز بہت بلند محسوس ہوتی ہے۔
جرمن ریسرچ ادارے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق ٹریفک کے شور کی وجہ سے مختلف جانوروں میں افزائش نسل کا عمل متاثر ہو چکا ہے۔ اب لاک ڈاؤن سے اس شور میں کمی کے تناظر میں ماہرین علم حیوانات کا خیال ہے کہ پرندوں اور جانوروں میں نر کے اپنی مادہ کے ساتھ میل ملاپ میں اضافہ یقینی ہے اور یہ جنگلی حیات کے لیے بہتر ہو گا۔ سمندروں میں تیل کی تلاش کے سلسلے کو ایک بائیوآکُسٹکس ماہر کرسٹوفر کلارک نے شور کا طوفان قرار دیا ہے۔ کلارک کا کہنا ہے کہ تیل کی تلاش کے سمندری حیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تیل کی تلاش کے مقامات پر کورونا وائرس کی وجہ سے کم سرگرمیاں اور بحری جہازوں کی ٹریفک میں کمی وہیل مچھلیوں پر مثبت اثرات مرتب کریں گی۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن ایک بے نظیر قدرتی تجربہ ثابت ہوا ہے۔ اس تجربے سے خاص طور پر پرندوں اور وہیل مچھلیوں کو خاموش ماحول نے تسکین دی ہو گی۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث نقل و حمل میں تعطل یا کمی کے نتیجے میں دھوئیں کے اخراج میں کمی سے ماحولیاتی آلودگی کا رجحان بھی کم ہوا ہے۔ اسی طرح ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں، موٹر گاڑیوں اور ٹرکوں کی بندش سے شور بھی کم ہو چکا ہے۔ شور بھی ماحولیاتی آلودگی ہی کی ایک قسم ہے اور کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن کی وجہ سے صوتی آلودگی میں کمی پر پرندوں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہو گا۔
صحت کے مطابق براعظم یورپ اور خاص طور پر مغربی یورپی ممالک میں ایک سو ملین سے زائد لوگوں کو صوتی آلودگی کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات سولہ لاکھ انسانوں کی قبل از وقت موت کا بھی باعث بنتے ہیں۔ انسانی زندگیوں میں شور سے پیدا ہونے والی آلودگی نے مجموعی نظام حیات کو درہم برہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کا تعین کرنا مشکل ہے کہ کتنے پرندے لاک ڈاؤن سے شور میں ہونے والی کمی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔
اگر ایک طرف شور میں کمی پرندوں کے لیے باعث سکون بنی ہے تو خاص طور پر یورپی شہروں میں گلیوں میں سے دانہ دُنکا چننے والے کبوتروں کو بھوک کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ صرف کبوتروں کو ہی نہیں بلکہ کئی دیگر  پرندوں کو بھی اس مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کے شہروں میں سب سے زیادہ پرندے نظر آتے ہیں اور ان کی آوازیں سنی جاتی ہیں۔ لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی خاموشی کا بظاہر سب سے زیادہ فائدہ بھی انہیں ہی ہوا ہے۔ پرندے اپنی آوازوں سے ہی اپنے ساتھیوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔
گزشتہ ایک صدی میں زمین پر انسانی شور شرابے نے ماحولیاتی آلودگی میں بتدریج اضافہ کیا ہے۔ اس آلودگی سے پرندوں کی نغمگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آج کی شور زدہ دنیا میں پرندوں کو بھی انسانوں کی طرح زیادہ بلند آواز میں اپنے ساتھی پرندوں کو اپنے پاس بلانے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail