ڈاکٹر شمشاد اختر(پاکستان کی پہلی خاتون گورنر اسٹیٹ بینک کا سفرِحیات)

ڈاکٹر شمشاد اختر پاکستان کی اُن ممتاز شخصیات میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے علم، محنت اور دیانت کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے بلکہ ملک کے لیے بھی ایک باوقار مقام حاصل کیا۔ اُن کا زندگی کا سفر ایک عام پاکستانی بچی سے لے کر عالمی سطح کی ماہرِ معاشیات اور قومی پالیسی ساز بننے تک، عزم و استقلال کی روشن مثال ہے۔ڈاکٹر شمشاد اختر5جولائی1954کو حیدرآباد،سندھ پاکستان میں پیداہوئیں۔ اْن کا تعلق ایک تعلیم دوست خاندان سے تھا جہاں علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بچپن ہی سے وہ غیر معمولی ذہانت، تجسس اور سیکھنے کے شوق کی حامل تھیں۔ تعلیم کے میدان میں انہوں نے ابتدا ہی سے نمایاں کارکردگی دکھائی۔انہوں نے معاشیات کے شعبے کو بطورِ خاص اپنایا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک گئیں، جہاں انہوں نے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہ وہ دور تھا جب خواتین کا عالمی مالیاتی اداروں تک پہنچنا آسان نہ تھا، مگر ڈاکٹر شمشاد اختر نے اپنی صلاحیت سے ہر رکاوٹ کو عبور کیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر شمشاد اختر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) میں شمولیت اختیار کی۔ یہاں انہوں نے کئی برس تک مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ ان کا کام ترقی پذیر ممالک کی معاشی اصلاحات، غربت میں کمی، مالیاتی نظم و ضبط اور پائیدار ترقی سے متعلق تھا۔IMF میں اْن کی پیشہ ورانہ مہارت، غیر جانبدار تجزیے اور مضبوط پالیسی وژن کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ وہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے ایک معتبر معاشی آواز بن کر اْبھریں۔2006 میں ڈاکٹر شمشاد اختر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی گورنر مقرر کیا گیا۔ وہ اس منصب پر
 فائز ہونے والی ”پاکستان کی پہلی خاتون گورنر“ تھیں، جو ملکی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے۔
اپنے دورِ گورنری میں انہوں نے:
* بینکاری نظام کو مضبوط بنایا
* اسٹیٹ بینک کی خودمختاری پر زور دیا
* مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت کو فروغ دیا
* معاشی پالیسیوں کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنے کی کوشش کی
ان کا دور ایک پیشہ ورانہ اور اصولی قیادت کی مثال سمجھا جاتا ہے۔
بعد ازاں ڈاکٹر شمشاد اختر نے پاکستان میں مختلف اہم قومی ذمہ داریاں سنبھالیں اور مشکل معاشی حالات میں پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے معیشت کو سنبھالنے کے لیے سخت مگر ضروری فیصلوں کی حمایت کی، جن کا مقصد طویل المدتی استحکام تھا۔اْن کی سوچ میں ہمیشہ عوامی فلاح،سماجی تحفظ،غربت میں کمی،خواتین اور کمزور طبقات کی بہتری نمایاں رہی۔ڈاکٹر شمشاد اختر کا سفر پاکستانی خواتین کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے کہ وہ کسی بھی میدان میں قیادت کر سکتی ہیں۔انہوں نے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و پیسفک (UN ESCAP) میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ عالمی مالیاتی اور ترقیاتی امور میں پاکستان کا نام روشن کرتی رہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ علم، خود اعتمادی اور اصول پسندی کے ساتھ خواتین عالمی سطح پر بھی ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔
23 اکتوبر 2007ء کو ڈاکٹر شمشاد اختر کو معروف عالمی مالیاتی ادارے یورومنی انسٹی ٹیوشنل انویسٹر کی جانب سے ایشیا کی بہترین سنٹرل بینک گورنر 2007 قرار دیا گیا۔ یہ اعزاز ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط مالیاتی قیادت کا عالمی اعتراف تھا۔
11 نومبر 2008ء کو عالمی شہرت یافتہ اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے انہیں ایشیا کی دس بااثر خواتین رہنماؤں میں شامل کیا، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کی قیادت اور وژن سرحدوں سے ماورا تسلیم کیا جا رہا ہے۔
23 مارچ 2024ء کو حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر شمشاد اختر کو نشانِ امتیاز سے نوازا، جو ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے۔ یہ اعزاز انہیں عوامی شعبے میں نمایاں اور بے مثال خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
ڈاکٹر شمشاد اختر 27دسمبر2025 کو دل کا دورہ پڑنے سے71سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔اْن کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تقدیر سنوارنے کے لیے خاموش مگر مضبوط کردار ادا کیے جاتے ہیں۔ اْن کا سفر پیدائش سے لے کر آج تک محنت، دیانت اور خدمت کی داستان ہے، جو آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتا رہے گا۔

Daily Program

Livesteam thumbnail