انیس رامیریز پیریز (بے لوث محبت اور لگن کی مثال)

5 مارچ 2000 کی آدھی رات کو، انیس رامیریز جو ایک چھوٹے سے دیہاتی گھر میں رہتی تھیں (بجلی، پانی اور صفائی کی سہولیات کے بغیر)، شدید لیبر درد میں مبتلا تھیں۔ یہ ان کی نویں حمل تھی (پہلے سات بچے زندہ تھے، ایک بچہ دو سال پہلے مر گیا تھا)۔ درد 12 گھنٹے سے جاری تھا، لیکن بچہ باہر نہیں آرہا تھا۔ ان کا شوہر بھی گھر پر نہیں تھا۔ قریبی ہسپتال آٹھ گھنٹے کی مسافت پر تھا، اور کوئی طبی مدد دستیاب نہیں تھی۔درد برداشت نہ ہونے پر انیس نے فیصلہ کیا کہ میں درد مزید برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اگر میرا بچہ مرنے والا تھا تو میں بھی مر جاؤں گی۔ لیکن اگر وہ زندہ رہے گا تو میں اْسے بڑا ہوتے دیکھوں گی اور اْس کے ساتھ رہوں گی۔ میں نے سوچا کہ خدا ہم دونوں کی جان بچا لے گا۔انہوں نے درد کم کرنے کے لیے تین چھوٹے گلاس شراب پی۔ پھر باورچی خانے کی ایک 15 سینٹی میٹر لمبی چھری لی (جو عام طور پر جانور ذبح کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی)۔ وہ زمین پر بیٹھ گئیں اور تین کوششوں میں اپنے پیٹ پر 17 سینٹی میٹر لمبا عمودی چیرا لگایا۔ یہ چیرا ناف کے دائیں طرف تھا، جو عام سرجیکل چیرے (جو افقی اور ناف کے نیچے 10 سینٹی میٹر ہوتا ہے) سے تقریباً دوگنا لمبا اور اْلٹ سمت میں تھا۔
ایک گھنٹے کی محنت کے بعد انہوں نے اپنا ہاتھ اندر ڈالا، رحم کو کاٹا، بچے کو باہر نکالا۔ بچہ فوراً رونے لگا۔ انہوں نے قینچی سے نال کاٹی۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئیں۔ ہوش آنے پر انہوں نے کپڑوں سے زخم پر پٹی باندھی اور اپنے بڑے بیٹے کو جو تقریباً 8 سال کا تھا اْسے مدد لانے بھیجا۔چند گھنٹے بعد گاؤں کا ایک ہیلتھ اسسٹنٹ اْن کے پاس پہنچا۔ وہ ہوش میں تھیں اور بچہ زندہ تھا۔
 اسسٹنٹ نے عام سوئی اور دھاگے سے زخم سلاِیا۔ پھر انہیں قریبی کلینک (4 کلومیٹر دور) لے جایا گیا، اور وہاں سے آٹھ گھنٹے کی سفر کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا۔
ہسپتال میں 16 گھنٹے بعد ان کی سرجری ہوئی، جہاں زخم ٹھیک کیا گیا۔ ساتویں دن ایک اور سرجری ہوئی کیونکہ اْن کی آنتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ دس دن بعد وہ مکمل صحت یاب ہو کر گھر لوٹ گئیں۔ حیران کن طور پر انفیکشن یا زیادہ خون بہنے کی کوئی سنگین پیچیدگی نہیں ہوئی۔بچے کا نام اورلینڈو روئز رامیریز رکھا گیا۔طبی ماہرین کے مطابق یہ واحد تصدیق شدہ کیس ہے جہاں بغیر کسی ٹریننگ کے خود پر سیزیرین کرنے والی خاتون اور اْس کا بچہ دونوں زندہ بچے۔ عام طور پر ایسے کیسز میں ماں یا بچہ یا دونوں مر جاتے ہیں۔ انیس کی بہادری اور قسمت دونوں نے کام کیا۔ ان کا چیرا ایسے مقام پر تھا کہ اہم اعضاء محفوظ رہے، اور انفیکشن نہیں ہوا۔
یہ واقعہ 2004 میں انٹرنیشنل جرنل آف گائناکالوجی اینڈ آبسٹیٹرکس میں شائع ہوا اور دنیا بھر میں ”معجزہ“ کہلایا۔ انیس نے بعد میں کہا کہ وہ کسی اور کو یہ مشورہ نہیں دیتیں کہ ایسا کریں۔ یہ کہانی غریب اور دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی کی بھی ایک تلخ مثال ہے۔یہ ایک حقیقی اور حیران کن طبی واقعہ ہے جو سال 2000 میں میکسیکو کے دور افتادہ علاقے اوآخاکا میں پیش آیا۔ اس کی ہیرو ایک 40 سالہ خاتون انیس رامیریز پیریز (Inés Ramírez Pérez) تھیں، جنہوں نے نہ صرف اپنے بچے کو بچایا بلکہ خود بھی زندہ رہیں۔ یہ دنیا کی واحد دستاویزی مثال ہے جہاں ایک عورت نے خود پر سیزیرین سیکشن کیا اور ماں اور بچہ دونوں زندہ رہے۔یاد رہے یہ ایک ناقابل یقین بہادری کی کہانی ہے جو ماں کی محبت اور لگن کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail