آدم اور حوّا

حضرت آدم اور حوّا کی کہانی بائبل مقدس کی کتاب تکوین میں بیان ہوئی ہے۔ یہ داستان صرف انسان کی ابتدا نہیں بلکہ انسان کی کمزوری، خدا کی محبت اور نجات کی اْمید کی بنیاد بھی ہے۔ یہ کہانی آج کے انسان کے لیے بھی اتنی ہی زندہ اور معنی خیز ہے جتنی ابتدا میں تھی۔
بائبل مقدس کے مطابق خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا اور اسے عدن کے باغ میں رکھا۔ پھر خدا نے حوّا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا تاکہ آدم تنہا نہ رہے۔ دونوں پاکیزگی، محبت اور کامل ہم آہنگی میں زندگی گزارتے تھے۔ خدا نے انہیں ہر نعمت دی، صرف ایک درخت کے پھل سے منع کیا — نیک و بد کی پہچان کا درخت۔ یہ حکم انسان کی آزادی اور فرمانبرداری کا امتحان تھا۔
سانپ نے حوّا کو دھوکے میں ڈال کر کہا کہ اگر وہ اس درخت کا پھل کھائے گی تو خدا کی مانند ہو جائے گی۔ حوّا نے پھل کھایا اور آدم کو بھی دیا، اور اس نے بھی کھا لیا۔ یہ پہلا گناہ تھا۔خدا کے کلام پر شک اور اپنی خواہش کو خدا کی مرضی پر ترجیح دینا۔اْسی لمحے اْن کی آنکھیں کھل گئیں، وہ شرمندہ ہوئے اور خدا سے چھپنے لگے۔
جب خدا نے اْن سے سوال کیا تو انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا، مگر ساتھ ہی ایک دوسرے کو الزام بھی دیا۔ خدا نے انہیں اْن کے عمل کا انجام بتایا: زمین پر مشقت، درد اور جدوجہد کی زندگی۔
مگر ساتھ ہی خدا نے اپنی محبت بھی ظاہر کی:خدا نے انہیں جانوروں کی کھالوں کے لباس پہنائے۔
خدا نے وعدہ دیا کہ عورت کی نسل سانپ کے سر کو کچلے گی۔ یہ نجات دہندہ کی پہلی خوشخبری سمجھی جاتی ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا نے انسان کو گناہ میں نہیں چھوڑا بلکہ نجات کا راستہ اسی لمحے کھول دیا۔آدم اور حوّا کو عدن کے باغ سے باہر بھیج دیا گیا تاکہ وہ ابدی زندگی کے درخت تک نہ پہنچ سکیں۔یہ سزا کے ساتھ حفاظت بھی تھی، تاکہ انسان اپنی ٹوٹی ہوئی حالت میں ہمیشہ کے لیے قید نہ ہو جائے۔
حضرت آدم اور حوّا کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
* گناہ انسان کو خدا سے دْور کرتا ہے۔
* مگر خدا کی محبت انسان کو واپس بلاتی ہے۔
* خدا سزا ضرور دیتا ہے، مگر اْمید بھی دیتا ہے۔
* خدا انسان کو ختم نہیں کرتا، بلکہ نجات کی راہ دکھاتا ہے۔
آج بھی انسان وہی غلطی دہراتا ہے:اپنی مرضی کو خدا کی مرضی سے بڑا سمجھنا۔مگر بائبل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:
* ہر گناہ کے بعد توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
* خدا کا مقصد انسان کو سزا دینا نہیں بلکہ بحال کرنا ہے۔
* خدا کی محبت گناہ سے بڑی ہے۔
* یسوع مسیح میں خدا نے وہ وعدہ پورا کیا جو عدن میں دیا گیا تھا۔
حضرت آدم اور حوّا کی کہانی ہمیں مایوسی نہیں بلکہ اْمید دیتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان گرِتا ہے، مگر خدا اْٹھاتا ہے۔ انسان بھاگتا ہے، مگر خدا ڈھونڈتا ہے۔ انسان گناہ کرتا ہے، مگر خدا محبت کرتا ہے۔یہی بائبل کا پیغام ہے، اور یہی آج کے انسان کے لیے نجات کی خوشخبری ہے۔خدا اب بھی انسان سے محبت کرتا ہے اور واپسی کا راستہ آج بھی کھلا ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail