قومی زیارت گاہ،مریم آباد میں یومِ مریم آباد عقیدت اور روحانی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔
مورخہ 14 جنوری 2026 کو قومی زیارت گاہ،مریم آباد میں یومِ مریم آباد عقیدت، اتحاد اور روحانی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر گاؤں کے تمام مکینوں نے مل کر مریم آباد کے آباد ہونے کی تاریخی داستان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کیا۔
تقریب کا آغاز ایک علامتی خاکے سے ہوا جس میں مریم آباد کے قیام کی کہانی بیان کی گئی۔ یہ خاکہ جلوس کی صورت میں پیش کیا گیا جو گاؤں کی مختلف گلیوں اور راستوں سے گزرا۔ جلوس کے دوران مختلف مقامات پر پڑاؤ ڈالے گئے، جہاں اُن تین خاندانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے ہجرت کر کے آ کر اس گاؤں کو آباد کیا۔
جلوس کا اختتام چرچ کے احاطے میں ہوا۔ جس کے بعدپاک ماس کی اقدس قربانی خدا کے حضور پیش کی گئی۔ جس کی قیادت ریورنڈفادر طارق جارج، ریکٹر مریم آباد نے کی۔ دوران ِوعظ میں مریم آباد کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بشپ عمانوائیل فائن بُش نے مریم آباد کے قیام کے لیے 9 مربع زمین خریدی۔ بعد ازاں انہوں نے فادر اینگلمرٹ، فادر لیونیز اور برادر پال کو یہ مشن سونپا کہ قریبی دیہات سے اُن مظلوم خاندانوں کو یہاں لا کر آباد کریں جو ظلم و ستم کا شکار تھے۔
فادر طارق جارج نے بتایا کہ بشپ کی ہدایت تھی کہ کم از کم 20 خاندانوں کو لا کر اس بستی کو آباد کیا جائے، لیکن ہجرت کے وقت صرف تین خاندان ہی اس عظیم فیصلے پر رضامند ہوئے۔ انہی تین خاندانوں کی قربانی اور حوصلے کی بدولت مریم آباد وجود میں آیا۔ آج بھی انہیں یاد کیا جاتا ہے اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں ہفتے ک روزاس بستی کا نام مریم آباد رکھا گیا اور اسے مقدسہ مریم سپرد کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مقدسہ مریم کی خاص حفاظت اور برکت کے باعث یہ گاؤں ترقی کرتا گیا اور آج دنیا بھر میں مریم کی قومی زیارت گاہ کی وجہ سے مشہور ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین زیارت کے لیے آتے ہیں۔
پاک ماس کے اختتام پر دعا کی گئی کہ مریم آباد ہمیشہ ایمان، امن اور بھائی چارے کا گہوارہ بنا رہے اور آنے والی نسلیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں۔