سینٹ پیٹرز باسیلیکا کی تقدیس کے 400 سال مکمل ہونے پر ویٹیکن میں خصوصی تقریبات کا سلسلہ جاری

روم میں واقع مقدس پطرس رسول کے باسیلیکاکی تقدیس کو چار سو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس تاریخی موقع کی یاد میں ویٹیکن نے خصوصی تقریبات اور اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔روم میں سینٹ پیٹرز باسیلیکا کی تقدیس کو اب چار صدیاں گزر چکی ہیں۔ اس سالگرہ کے موقع پر ویٹیکن نے زائرین کی سہولت کے لیے کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ داخلے کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے، وہ مقامات جو پہلے عوام کے لیے بند تھے، دوبارہ کھول دیے گئے ہیں، چھت (ٹیرس) تک رسائی کو وسیع کیا گیا ہے اور روم میں مقدس رسولوں پطرس اور پولوس کی زیارت کیلئے ایک نیا زیارتی راستہ بھی متعارف کروایا گیا ہے۔
اس موقع پر یادگاری پروگرام 20 فروری سے شروع ہوئے ہیں اور 18 نومبر کو ایک خصوصی پاک ماس پر اختتام پذیر ہوں گے، جس کی صدارت  پاپائے اعظم لیو چہاردہم کریں گے۔لیکن تقریبات اور جشن سے بڑھ کر، اس سالگرہ کا مرکزی پیغام ایک سادہ جملے میں سمٹا ہوا ہے:”پیٹر یہاں ہے“۔
18 نومبر 1626 کو موجودہ باسیلیکا کو باقاعدہ طور پر مقدس قرار دیا گیا، جس نے چوتھی صدی میں شہنشاہ قسطنطین کی تعمیر کردہ کلیسیا کی جگہ لی۔ وہ ابتدائی عمارت تقریباً 1200 سال تک اس مقام پر قائم رہی جسے مسیحی پطرس رسول کی قبر سمجھتے تھے۔باسیلیکا کے مرکزی الطار کے نیچے، اعتراف کی الطار کے قریب، ایک قدیم یونانی تحریر موجود ہے جس پر لکھا ہے:”پیٹر یہاں ہے“۔
یہ محض علامتی الفاظ نہیں بلکہ ایک حقیقی قبر اور ایک حقیقی انسان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
صدیوں تک مقدس پطرس کی قبر کا درست مقام غیر یقینی رہا، مگر بیسویں صدی میں باسیلیکا کے نیچے کی جانے والی کھدائیوں سے اس بارے میں واضح شواہد سامنے آئے۔ دریافت ہونے والی چیزوں میں ایک سادہ سا نوشتہ بھی شامل تھا، جو غالباً ابتدائی مسیحی زائر نے ظلم و ستم کے زمانے میں خفیہ طور پر کنندہ کیا تھا۔
ماہرِ آثارِ قدیمہ Margherita Guarducci نے اس مقام اور تحریروں کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ کیا۔پوپ پال شیشم کی حمایت سے اْن کی تحقیق نے اس یقین کو مضبوط کیا کہ باسیلیکا واقعی پطرس رسول کی قبر اور باقیات کے اْوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے نوشتے نے اس عظیم کلیسیا کی بنیاد کو ایک جلیل کے ماہی گیر کی ہڈیوں سے جوڑ دیا۔
ایک کتاب Pietro  Un uomo nel vento میں اطالوی اداکار، مصنف اور ہدایتکار Roberto Benigni  نے مقدس پطرس کی انسانیت پر غور کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
پیٹر بالکل ہماری طرح ہے۔ وہ غصہ کرتا، جلد بازی کرتا، غلطیاں کرتا، غلط سمجھتا، روتا ہے، ہنستا ہے، سو تا ہے، دْکھ سہتا اور خوشی محسوس کرتا ہے۔یہی پیٹر کی کہانی کا مرکز ہے۔ وہ دْور بیٹھا کوئی بے عیب مقدس مجسمہ نہیں بلکہ ایک کمزور اور جذباتی انسان ہے۔ وہ خوفزدہ ہوتا ہے، اہم لمحے میں یسوع کا انکار کرتا ہے، لڑکھڑاتا ہے مگر پھر بھی قائم رہتا ہے۔ہم سب کبھی نہ کبھی اپنی کمزوریوں کو پہچانتے ہیں۔ ہم ناکام ہوتے ہیں، اکثر اُس وقت جب کامیابی سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ مگر جیسا کہ کتاب میں کہا گیا ہے:”زندگی کی سب سے اہم چیزیں نہ سکھائی جاتی ہیں نہ سیکھی جاتی ہیں، بلکہ اُن کا سامنا کیا جاتا ہے“۔
جی اْٹھے مسیح سے ملاقات پطرس کی زندگی بدل دیتی ہے۔جی اْٹھنے کے بعد یسوع پطرس سے اْس کی ناکامی کا حساب نہیں مانگتے بلکہ ایک سوال پوچھتے ہیں:کیا تو مجھے پیار کرتا ہے؟
یہ سوال تاریخ میں گونجتا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا تم کبھی ناکام نہیں ہوئے؟بلکہ یہ ہے: کیا تم محبت کرتے ہو؟
اسی لیے پطرس کی کہانی خاص طور پر روزوں کے ایام میں گہرا معنی رکھتی ہے۔ لینٹ اُس کے سفر کی عکاسی کرتا ہے: وہ گرِتا ہے، روتا ہے، انتظار کرتا ہے، معاف کیا جاتا ہے اور دوبارہ بھیجا جاتا ہے۔
اطالوی صحافی Andrea Monda لکھتے ہیں:
”ہمیں اپنی یادداشت کو دوبارہ حاصل کرنا ہوگا تاکہ ہم خود کو دوبارہ دریافت کر سکیں اپنی نازک مگر عظیم خوبصورتی کو، جو پْراسرار طور پر خود کو نئے سرے سے زندہ کر سکتی ہے۔ مقدس پطرس کی کہانی ہماری اپنی کہانی ہے“۔
یہ چار سو سالہ جشن صرف ایک تاریخی تاریخ کو یاد کرنا نہیں بلکہ زندگی اور اْمید کے سرچشمے کو دوبارہ دل میں زندہ کرنا ہے، جیسا کہ سینٹ پیٹرز باسیلیکا کے  Cardinal Mauro Gambettiنے وضاحت کی۔ایک قدیم روایت کے مطابق، ظلم و ستم کے دوران پطرس روم سے بھاگ رہے تھے۔ راستے میں اُن کی ملاقات یسوع سے ہوئی جو صلیب اْٹھائے جا رہے تھے۔ پطرس نے پوچھا:اے خداوند، آپ کہاں جا رہے ہیں؟
یسوع نے جواب دیا:میں روم جا رہا ہوں تاکہ دوبارہ مصلوب کیا جاؤں۔
مقدس پطرس سمجھ گئے، واپس لوٹے اور آخرکار گواہی، شہادت اور محبت کے راستے پر چل پڑے۔
اپنی تقدیس کے چار سو سال بعد بھی سینٹ پیٹرز باسیلیکا دنیا بھر کے زائرین کا استقبال کر رہی ہے۔ اس کے سنگِ مرمر اور سونے کے نیچے ایک ایسے انسان کی باقیات موجود ہیں جو کبھی خوفزدہ تھا مگر ایمان میں مضبوط ہو گیا۔
پیغام سادہ مگر گہرا ہے:خدا اپنی کلیسیا کامل انسانوں پر نہیں بلکہ معاف کیے گئے دلوں پر تعمیر کرتا ہے۔
اس لینٹ کے موسم میں الطار کے نیچے لکھے الفاظ پھر بولتے ہیں:
”پیٹر یہاں ہے“۔
پیٹر وہاں ہے جہاں کوئی گرِتا ہے اور دوبارہ اْٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
پیٹر وہاں ہے جہاں کوئی روتا ہے اور نئی شروعات کرتا ہے۔
پیٹر وہاں ہے جہاں کوئی اپنی کمزوری کے باوجود کہہ سکتا ہے:
”اے خداوند، تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں“۔

Daily Program

Livesteam thumbnail