فلپائن کے آرچ بشپ البرٹو اُئے کا عمر رسیدہ کاہنوں کے پیشِ نظر مذہبی بلاہٹوں کو مضبوط بنانے کا مطالبہ

فلپائن کے ایک اعلیٰ کلیسائی رہنما نے کاہنوں کی بڑھتی ہوئی عمر کے پیشِ نظر نئے مذہبی بلاہٹوں کو فروغ دینے اور طویل مدتی پاسبانی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ فلپائن میں واقع سیبو میٹروپولیٹن کیتھیڈرل میں 28 اپریل کو اپنے پہلے”اسٹیٹ آف دی آرچ ڈایوسیس“خطاب کے دوران، آرچ بشپ البرٹو اُئے نے کہا کہ اس وقت آرچ ڈایوسیس کے 386 ڈایوسیزن کاہن کافی ہیں، لیکن آبادیاتی رجحانات مستقبل میں بڑے پاسبانی چیلنجز کی نشاندہی کر رہے ہیں، جیسا کہ CBCP نیوز نے رپورٹ کیا۔
یہ کاہن اس وقت 170 سے زائد پیرشز میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور 46 لاکھ سے زیادہ کیتھولک مومنین کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ تاہم، تقریباً 60 فیصد کاہنوں کی عمر 50 سال یا اس سے زیادہ ہے، جبکہ ایک تہائی کی عمر کم از کم 60 سال ہے، جس کے باعث سینئر کاہنوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔
بشپ اُئے نے کہا، جیسا کہ CBCP نیوز نے بتایا:نوجوان کاہنوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ اگرچہ اس وقت خدمت بخوبی جاری ہے، لیکن آنے والے برسوں میں بڑی عمر کے کاہنوں پر بڑھتا ہوا انحصار ایک چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ ان کی خدمات انجام دینے کی صلاحیت قدرتی طور پر کم ہوتی جائے گی۔
آرچ بشپ نے خبردار کیا کہ آئندہ آٹھ برسوں میں کئی کاہن ریٹائر ہو جائیں گے یا اپنی خدمات محدود کر دیں گے، جس سے کاہنوں کی کمی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، اگر نئی مذہبی بلاہٹوں میں اضافہ نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ بحران نہیں، لیکن یہ واضح اشارہ ہے کہ ہمیں ابھی سے تیاری شروع کرنی چاہیے۔
بشپ اُئے نے مذہبی بلاہٹوں کے فروغ، کاہنوں کی بہتر تربیت اورعام رہنماؤں کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کلیسیا کے مشن کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔ اس وقت آرچ ڈایوسیس میں 225 سیمینارینز زیرِ تربیت ہیں، اور ان کی تربیت ویٹیکن اور قومی معیار کے مطابق کی جا رہی ہے، جیسا کہ CBCP نیوز نے بتایا۔
مزید برآں، اسکولوں، نوجوانوں کی وزارتوں اور پیرشز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بلاہٹ کو وسعت دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی بلاہٹ تنہائی میں پروان نہیں چڑھتی بلکہ وہ ایسی کمیونٹی میں بڑھتی ہیں جو دْعا کرتی، سہارا دیتی اور مل کر سفر کرتی ہے۔
آرچ بشپ نے کاہنوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں مفت علاج کی سہولت شامل ہے اور عام ملازمین کے لیے منصفانہ معاوضے اور تربیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک ہیومن ریسورس بورڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا۔

Daily Program

Livesteam thumbnail