نہ مذہب،نہ ذات۔۔۔۔ صرف انسانیت
زندگی میں بعض ایسے لمحات آتے ہیں جو ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ دنیا ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوئی، ابھی بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دل صرف اپنے لیے نہیں دھڑکتے بلکہ دوسروں کے درد کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک دل کو چھو لینے والے واقعہ نے کئی لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ انسانیت آج بھی زندہ ہے اور جب انسان انسان کے کام آتا ہے تو مذہب، ذات، زبان اور رنگ کی تمام دیواریں خود بخود گر جاتی ہیں۔
ایک دن شدید بارش کے بعد سڑکیں پانی سے بھر چکی تھیں۔ فضا میں بے چینی اور خوف کا ماحول تھا۔ اسی دوران ایک ایمبولینس سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ اس کا پٹرول ختم ہو چکا تھا اور ڈرائیور شدید پریشانی میں مبتلا تھا۔ ایمبولینس کے اندر ایک مریض موجود تھا جس کے لواحقین کی آنکھوں میں خوف صاف جھلک رہا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اْن کی بے بسی اور پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، کیونکہ ایک ایک لمحہ قیمتی تھا اور مریض کی جان خطرے میں تھی۔
ایسے نازک وقت میں اکثر لوگ صرف تماشائی بن کر گزر جاتے ہیں۔ کچھ لوگ حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، کچھ موبائل نکال کر ویڈیوز بناتے ہیں اور کچھ یہ سوچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ یہ مسئلہ اْن کا نہیں۔ لیکن اْس دن کچھ مختلف ہوا۔پیچھے سے آنے والے چند موٹر سائیکل سواروں نے جب ایمبولینس کو رکا ہوا دیکھا تو وہ بغیر کسی سوال کے فوراً رک گئے۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ مریض کون ہے، اس کا مذہب کیا ہے، وہ کس زبان یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے، یا اس کی حیثیت کیا ہے۔ ان کے سامنے صرف ایک انسان تھا جس کی سانسیں خطرے میں تھیں۔
بغیر وقت ضائع کیے انہوں نے اپنی موٹر سا ئیکلوں سے پٹرول نکالا اور ایمبولینس میں ڈالنا شروع کر دیا۔ چند لمحوں بعد ایک اور شخص وہاں آ پہنچا، پھر دوسرا، پھر تیسرا، اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی اجنبی لوگ ایک جان بچانے کے لیے متحد ہو گئے۔
وہاں موجود کسی شخص نے یہ نہیں پوچھا کہ مریض مسلمان ہے یا غیر مسلم۔ کسی نے اْس کی ذات یا عقیدے کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ اْس لمحے سب کے درمیان صرف ایک رشتہ موجود تھااور وہ تھا ”انسانیت کا رشتہ“۔چند منٹوں کی اس بے لوث مدد نے ایک رْکی ہوئی ایمبولینس کو دوبارہ حرکت دی اور مریض کو بروقت اسپتال پہنچانے میں مدد ملی۔ شاید اْن لوگوں کے لیے یہ ایک معمولی کام تھا، لیکن اْس مریض کے اہل خانہ کے لیے یہ اْمید کی ایک نئی کرِن تھی۔ اْن کے لیے وہ اجنبی لوگ کسی فرشتے سے کم نہ تھے، جو عین وقت پر مدد کے لیے پہنچ گئے تھے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرے کی خوبصورتی صرف بڑی عمارتوں، ترقی یافتہ سڑکوں یا جدید ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اْن دلوں میں ہوتی ہے جو دوسروں کے لیے دھڑکتے ہیں۔ اگرچہ ہم روزانہ نفرت، تعصب، ظلم اور بے حسی کی بے شمار خبریں سنتے ہیں، لیکن ایسے واقعات ہمیں اْمید دلاتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔
آج کے دور میں جب لوگ مذہب، نسل، زبان اور فرقوں کے نام پر ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ایسے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانیت تمام تقسیموں سے بلند ہے۔ مصیبت کے وقت نہ کوئی ذات دیکھی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی عقیدہ، بلکہ صرف ایک انسان کی تکلیف محسوس کی جاتی ہے۔شاید یہی انسان ہونے کا اصل مطلب ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو معاشروں کو زندہ رکھتا ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو تاریکیوں میں اْمید پیدا کرتی ہے۔
دنیا میں برائی موجود ہے، لیکن جب تک ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کے دْکھ میں شریک ہوتے ہیں، تب تک اْمید باقی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے اِردگرد ایسے ہی جذبوں کو فروغ دیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے ہمیشہ بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی ایک چھوٹا سا قدم، ایک مخلصانہ کوشش، یا چند لمحوں کی بے غرض مدد کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔
کیونکہ آخر میں انسان کو اس کے نام، حیثیت یا دولت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور انسانیت سے پہچانا جاتا ہے اور جب انسانیت جاگ اْٹھتی ہے تو راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔