خوف کے اندھیروں میں اْمید کی روشنی
دنیا بھر میں کروڑوں لوگ اضطراب (Anxiety) کا شکار ہیں۔ تیز دھڑکن، بے چینی، خوف، نیند کی کمی اور مسلسل منفی خیالات ایسے مسائل ہیں جو انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اینگزائٹی کا واحد علاج دوا ہے، لیکن جدید تحقیق بتاتی ہے کہ اگرچہ بعض حالات میں دوائیں ضروری ہوتی ہیں، مگر مستقل اور پائیدار بہتری کے لیے ذہن کی تربیت، نئی عادات اور طرزِ زندگی میں تبدیلی بھی انتہائی اہم ہے۔
دس سال پہلے ایک نوجوان لڑکی، جسے ہم عمائرہ کہیں گے، شدید بے چینی کے عالم میں ایک ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی تھی۔ اْس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، سانس تیز تھی اور آنکھوں میں خوف نمایاں تھا۔ ڈاکٹر نے اْسے دوا تجویز کی اور چند ہی دنوں میں اْسے وقتی سکون محسوس ہونے لگا۔لیکن ہر بار جب وہ دوا بند کرتی، اضطراب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آ جاتا۔ یہ سلسلہ آٹھ سال تک جاری رہا۔ آج وہی عمائرہ ایک پْرسکون اور خوشگوار زندگی گزار رہی ہے، اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب وہ دواؤں پر انحصار نہیں کرتی۔
عالمی ادار صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں تیس کروڑ سے زائد افراد اضطراب کا شکار ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی دوران امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ صرف ادویات استعمال کرنے سے مکمل صحت یابی کی شرح محدود رہتی ہے جبکہ اگر ادویات کے ساتھ ذہنی تربیت اور نفسیاتی تکنیکیں شامل کی جائیں تو نتائج نمایاں طور پر بہتر ہو جاتے ہیں۔یعنی دوا علامات کو کم کر سکتی ہے، لیکن مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے ذہن کو بھی نئے انداز میں تربیت دینا ضروری ہوتا ہے۔
بعض اوقات کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی ہماری زندگی میں بہت گہرا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ بالکل ایسا ہی عمائرہ کے ساتھ بھی اْس کے بچپن میں ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ اضطراب کا شکار ہوئی۔ بارہ سال کی عمر میں اْسے سکول میں کسی وجہ سے سب کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اْس تکلیف دہ تجربے نے اْس کے دماغ پہ بہت بْر ا اور گہرا اثر چھوڑا۔جس کے بعد ہر ایسی صورتحال جہاں دوسروں کا سامنا کرنا پڑتا، اْس کا دماغ اْسے خطرے کا احساس دلاتا نیز یوں سمجھ لیں کہ وہ واقعہ اْسے پھر سے یاد آتا۔ جدید نیوروسائنس اس عمل کو ”نیورل امپرنٹنگ“کا نام دیتی ہے، جس میں ایک شدید تجربہ دماغ میں مستقل نقش چھوڑ جاتا ہے۔
خوش قسمتی یہ ہے کہ انسانی دماغ جامد نہیں بلکہ لچکدار ہے۔ سائنس دان اسے ”نیوروپلاسٹیسٹی“ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نئی سوچ، نئے تجربات اور مثبت عادات کے ذریعے اپنے دماغ کے رِدعمل کو تبدیل کر سکتا ہے۔اسی اصول کی بنیاد پر عمائرہ نے اپنی زندگی میں تبدیلی لانا شروع کی۔
اْس نے گہری سانس لینے کی مشقوں کو معمول بنایا، جن کے ذریعے جسم کا اعصابی نظام سکون کی حالت میں واپس آتا ہے۔ ساتھ ہی ذہنی مشاہدے کی مشقوں نے اْسے اپنے خیالات اور جذبات کو سمجھنے میں مدد دی۔آہستہ آہستہ وہ خوف جو برسوں سے اْس پر حاوی تھا، کم ہونے لگا اور اْس کا اعتماد بحال ہونے لگا۔اس کے علاوہ اْس نے اپنی روحانی زندگی کو بھی مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے بلکہ جدید تحقیق بھی ثابت کرتی ہے کہ ْدعا، دھیان و گیان، شکرگزاری ذہنی دباؤ کو کم کرنے اور دماغ میں سکون پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایسے میں کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ پھر کیا ادویات چھوڑ دینی چاہئیں؟تو اس کا جواب ہے ہرگز نہیں۔ بعض اوقات اضطراب کی شدت ایسی ہوتی ہے کہ دوائیں ناگزیر ہوتی ہیں اور انہیں ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن صرف دواؤں پر انحصار کرنا مسئلے کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔دوائیں ایک سہارا فراہم کرتی ہیں، جبکہ اصل شفا ذہن، جسم اور روح کے درمیان توازن قائم کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
روزمرہ زندگی کے تین آسان اقدامات یاد رکھیں:
1۔ گہری سانس کی مشق کریں۔
روزانہ صبح دس مرتبہ آہستہ اور گہری سانس لیں۔ یہ جسم کے اعصابی نظام کو پرسکون کرنے میں مدد دیتی ہے۔
2۔ اضطراب کو پہچانیں، اس سے لڑیں نہیں
جب بے چینی محسوس ہو تو خود سے کہیں: یہ کیفیت عارضی ہے اور گزر جائے گی۔
3۔ شکرگزاری کو معمول بنائیں
رات کو سونے سے پہلے کم از کم اْن پانچ نعمتوں کا ذکر کریں جن پر آپ خدا کا شکر ادا کرنا چاہتے ہیں۔ شکرگزاری انسان کے ذہن کو مثبت سمت میں لے جاتی ہے۔
یاد رکھیں!شدید اینگزائٹی کا علاج صرف دوا نہیں، بلکہ ذہن کی تربیت، صحت مند عادات، روحانی وابستگی اور مثبت طرزِ فکر بھی اس سفر کا اہم حصہ ہیں۔ دوا ایک پْل کی مانند ہے، لیکن منزل اْس کے پار ہے۔نیز یہ منزل انسان کے اپنے اندر موجود ہے، بس اْسے پہچاننے اور اْس تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔