قدرت کے اشارے اور جانوروں کی پیشگی وارننگ

انسان اکثر قدرتی آفات کو اچانک سمجھتا ہے، لیکن قدرت میں ایسے اشارے پہلے ہی موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جانور، پرندے اور حشرات بعض اوقات ایسی غیر معمولی حرکات دکھاتے ہیں جو کسی بڑے قدرتی سانحے کی پیشگی خبر بن سکتی ہیں۔اگر آپ کسی حویلی یا کھلے علاقے میں بیٹھے ہوں اور اچانک گائیں یا بھینسیں بے چین دکھائی دیں، زور زور سے آوازیں نکالنے لگیں، یا بلا وجہ اِدھر اُدھر حرکت کریں، تو یہ معمول کی بات نہیں ہوتی۔ اسی طرح ہاتھی زمین کی ہلکی سی حرکت بھی محسوس کر لیتے ہیں۔ وہ زمین پر زور سے پاؤں مار کر دوسرے ہاتھیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ کوئی خطرہ قریب ہے۔
چیونٹیوں کا اچانک اپنی خوراک ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا عموماً بارش کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کتے اگر بلا وجہ زور زور سے بھونکنا شروع کر دیں، بلیاں گھبرا کر سڑکوں پر بھاگتی پھریں، پرندے جھنڈ کی صورت میں بے ترتیب اْڑان بھریں یا غیر معمولی شور مچائیں اور سانپ اپنے بلوں سے باہر نکل آنا شروع ہو جائیں، تو یہ سب کسی غیر معمولی قدرتی تبدیلی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق جانور اور پرندے انتہائی کم فریکونسی والی آوازیں اور زیرِ زمین ہونے والی حرکات انسان سے کہیں پہلے محسوس کر لیتے ہیں۔ جب زمینی پلیٹیں حرکت کرتی ہیں تو برقی اور مقناطیسی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ پرندوں کی جلد میں ایسے خلیے ہوتے ہیں جو اْن لہروں کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں، اسی لیے وہ بے چین ہو جاتے ہیں اور غیر معمولی رویہ اختیار کرتے ہیں۔تاریخ میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ 1975 میں چین میں آنے والے ایک بڑے زلزلے سے پہلے سانپ بڑی تعداد میں اپنے بلوں سے باہر نکل آئے تھے۔ اس غیر معمولی منظر کو دیکھ کر متعلقہ اداروں نے فوری طور پر ہنگامی الرٹ جاری کیا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں بچ گئیں۔اسی طرح 2009 میں اٹلی میں زلزلے سے پہلے کتے مسلسل بھونکتے رہے۔ مقامی لوگوں نے اس رویے کو سنجیدگی سے لیا، رات بھر جاگتے رہے اور گھروں سے باہر رہے، جس سے نقصان کم ہوا۔جاپان کے شہر ٹوکیو میں آنے والے زلزلے سے پہلے بھی پرندے جھنڈ کی شکل میں شور مچاتے دکھائی دیے جبکہ کتے اور بلیاں واضح طور پر خوف زدہ نظر آئیں۔ بعض اوقات یہ جانور چند منٹ پہلے اور کبھی کبھار آدھا گھنٹہ پہلے ہی خطرے کو محسوس کر لیتے ہیں۔2004کے انڈین اوشن سونامی کے دوران، جو سری لنکا اور انڈونیشیا کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا، ہاتھی، ہرن اور دیگر جنگلی جانور کئی گھنٹے پہلے ہی ساحلی علاقوں کو چھوڑ کر جنگلوں کی طرف چلے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں جانوروں کا جانی نقصان نہ ہونے کے برابر تھا۔اگر غور کیا جائے تو جانوروں اور پرندوں کی یہ بے چینی اور غیر معمولی حرکتیں دراصل قدرت کا ایک خاموش الارم ہیں۔ یہ ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ کوئی بڑا خطرہ قریب آ رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان قدرتی اشاروں کو سمجھیں، سنجیدگی سے لیں اور بروقت احتیاط کریں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail