ہم خدا کی نظر میں نہایت قیمتی ہیں۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 18جنوری2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں مسیحیوں سے اپیل کی کہ وہ ہوشیار رہیں، زندگی میں اصل چیزوں پر توجہ دیں اور کبھی یہ نہ بھولیں کہ ہم خدا کی نظر میں نہایت قیمتی ہیں۔
پوپ لیو نے کہا کہ ہر دن ہمیں دْعا اور دھیان و گیان کے لیے وقت نکالنا چاہیے تاکہ ہم اُس خداوند سے ملاقات کر سکیں جو ہم سے محبت کرتا ہے۔انہوں نے یوحنا کی انجیل کا حوالہ دیا جس میں مقدس یوحنا بپتسمہ دینے والے نے یسوع مسیح کو خدا کا برّہ اور مسیحا تسلیم کیا۔ انہوں نے لوگوں کے سامنے یسوع مسیح کی الوہیت اور مشن کی گواہی دی اور کہا:”میرے بعد وہ آتا ہے جو مجھ سے بڑا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا“۔پوپ لیو نے یاد دلایا کہ مقدس یوحنا بپتسمہ دینے والا لوگوں میں بے حد مقبول تھا یہاں تک کہ یروشلیم کے ا حکام بھی اْن سے خوف زدہ تھے۔ اْن کے لیے شہرت اور مقبولیت سے فائدہ اْٹھانا آسان تھالیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے عاجزی کے ساتھ اپنے چھوٹے پن کو قبول کیا اور یسوع مسیح کی عظمت کو بیان کیا۔انہوں نے کہاکہ یوحنا جانتا تھا کہ وہ خداوند کے لیے راستہ تیار کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ جب خداوند آئے تو اْس نے خوشی اور عاجزی کے ساتھ خدا کی موجودگی کو تسلیم کیا اور خود منظر سے ہٹ گیا۔
پوپ لیو نے زور دے کر کہا کہ حضرت یوحنا کی یہ گواہی آج ہمارے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت سے لوگ خوشی کے لیے منظوری، مقبولیت اور نمائش کو تلاش کرتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ اکثر دْکھ، تقسیم اور کمزور رشتوں کی صورت میں نکلتا ہے۔پوپ لیو کے مطابق حقیقی خوشی اور عظمت عارضی کامیابی یا شہرت میں نہیں بلکہ اس یقین میں ہے کہ ہم اپنے آسمانی باپ کی نظر میں محبوب اور مقبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یسوع مسیح جس محبت کی بات کرتے ہیں وہ ایسے خدا کی محبت ہے جو ہمیں حیران کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے دْکھوں میں شریک ہونے اور ہمارے بوجھ اْٹھانے کے لیے آج بھی ہمارے درمیان آتا ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ اسی طرح خدا ہمیں یہ سچ دکھاتا ہے کہ ہم کون ہیں اور اْس کی نظر میں کتنے قیمتی ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام سے قبل پوپ لیو نے مومنین سے اپیل کی کہ وہ خدا کی موجودگی سے غافل نہ ہوں اور اپنی توانائیاں صرف ظاہری چیزوں کے پیچھے ضائع نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ آئیے ہم مقدس یوحنا بپتسمہ دینے والے سے سیکھیں کہ ہوشیار رہیں، سادگی سے محبت کریں، اپنے الفاظ میں سچّے ہوں، سادہ زندگی گزاریں، اور دل و دماغ کی گہرائی کو پروان چڑھائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ضروری چیزوں پر قناعت کرنی چاہیے اور ہر دن، جب ممکن ہو، خاموشی میں دْعا، غور و فکر اور سننے کے لیے وقت نکالنا چاہیے یعنی بیابان میں چلے جانا تاکہ ہم خداوند سے مل سکیں اور اْس کے ساتھ رہ سکیں۔