خواتین کے خلاف تشدد کو کبھی معمولی نہ سمجھیں، بلا خوف اس کی رپورٹ کریں۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 8 مارچ 2026کوعالمی یومِ خواتین کے موقع پرپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے ماہانہ جریدے Piazza San Pietro میں ایک قاری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے خواتین کے قتل (فیمیسائیڈ) کی مذمت کی اور نوجوانوں میں ”احترام کی ثقافت“کو فروغ دینے کے لیے اسکول اور کلیسیا کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
 مارچ کے شمارے میں یہ خط روم کی رہائشی ”جیووانا“ کی طرف سے لکھا گیا ہے۔ وہ اشک بار آنکھوں کے ساتھ اْن بے شمار خواتین کے المیہ کی نمائندگی کرتی ہیں جن کے لیے کسی مرد سے محبت کرنا، اْس سے شادی کرنا یا اْس کے ساتھ رہ کر خاندان بناناایک ”جال“ بن جاتا ہے۔
وہ سوال کرتی ہیں:کیوں؟ آج ہم اس تشدد کو کیسے سمجھائیں جو اب بہت زیادہ اور دردناک حد تک عام ہو چکا ہے، جب بہت سے مرد انہی خواتین پر تشدد کرتے ہیں جن سے وہ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں؟ یہاں تک کہ انہیں قتل تک کر دیتے ہیں۔ بے رحمی سے، نفرت کے ساتھ، گویا وہ صرف اس لیے قصوروار ہوں کہ وہ اب ان سے محبت نہیں کرتیں۔
پوپ لیو چہاردہم کا جواب طویل اور فکر انگیز ہے اور وہ اس مسئلے پر اپنی گہری تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے شروع کرتے ہیں: رشتوں میں تشدد، اور خاص طور پر خواتین کے خلاف تشدد۔
پوپ لیونے مقدس پوپ جان پال دوم کے مشہور تصور ”نسوانی ذہانت“کا حوالہ دیا، جسے ایسے معاشرے میں مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے جو اکثر تشدد آمیز سوچ سے متاثر ہوتا ہے۔پوپ کے مطابق خواتین نگہداشت اور اخوت کی ایسی ثقافت کی معمار اور رہنما ہیں جو پوری انسانیت کے مستقبل اور وقار کے لیے ناگزیر ہے۔وہ کہتے ہیں کہ شاید اسی وجہ سے آج خواتین تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔انہیں نشانہ بنایا جاتا اور قتل کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس اْلجھے، غیر یقینی اور پُرتشدد معاشرے میں ایک متضاد نشان بن جاتی ہیں، کیونکہ وہ ہمیں ایمان، آزادی، مساوات، تخلیقی قوت، اْمید، یکجہتی اور انصاف جیسی اقدار کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
یہ وہ بڑی اقدار ہیں جن کے مقابلے میں ایک خطرناک ذہنیت کھڑی ہو جاتی ہے جو رشتوں کو آلودہ کر دیتی ہے اور جس کے نتیجے میں صرف خود غرضی، تعصب، امتیاز اور غلبہ حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
اپنے 8 جون کے عیدِ پنتیکوست کے پیغام میں بھی پوپ لیو نے اسی ذہنیت کی مذمت کی تھی، جو اکثر تشدد کی شکل اختیار کر لیتی ہے، جیسا کہ حالیہ دنوں میں خواتین کے قتل کے متعدد واقعات سے ظاہر ہوتا ہے۔پوپ لیو نے زور دے کر کہا:تشدد،کوئی بھی تشدد،وہ سرحد ہے جو تہذیب کو بربریت سے جدا کرتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد کے کسی بھی عمل کو کبھی معمولی نہ سمجھا جائے اور اس کی رپورٹ کرنے سے خوفزدہ نہ ہوں، حتیٰ کہ اگر کچھ مقامات ایسے ہوں جہاں اسے کم اہم سمجھا جائے یا ذمہ داری سے انکار کیا جائے۔
پوپ لیو نے جیووانا کی اس اپیل کو بھی سراہا جس میں انہوں نے نچلی سطح سے ثقافتی اور تعلیمی کام کرنے کی بات کی، تاکہ نوجوانوں کو خواتین اور دوسروں کے احترام کی تعلیم دی جا سکے۔خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو ہم سے مختلف ہیں۔روم کی اس قاری کے مطابق، یہ کام اسکول اور کلیسیا مل کر انجام دے سکتے ہیں۔
وہ لکھتی ہیں:اسکول اور کلیسیا کے سوا اور کون نئی نسل کی رہنمائی کر سکتا ہے، تاکہ احترام، محبت اور سب سے بڑھ کر آزادی کی ثقافت کو فروغ دیا جائے؟ ایسا پیغام جو لوگوں کو یہ سکھائے کہ عورت کو کسی ملکیت کی چیز نہ سمجھا جائے۔اسی لیے جیووانا نے مزید مضبوط تعلیمی اتحادکا مطالبہ کیا، جس کی ضرورت کو پوپ لیو نے بھی دہرایا۔وہ لکھتے ہیں:باہمی احترام کے ساتھ اپنی مشترکہ انسانیت کے راستے پر ساتھ چلنا کوئی خواب نہیں بلکہ ہر ایک کے لیے روشنی سے بھری دنیا تعمیر کرنے کی واحد ممکنہ حقیقت ہے۔
پوپ لیو کے مطابق کلیسیا، خاندانوں، اسکولوں، پیرشوں، تحریکوں، انجمنوں، مذہبی جماعتوں اور سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبے تیار کر سکتی ہے جو خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے اور ختم کرنے میں مدد دیں۔
اسی تناظر میں پوپ لیو نے ایک بار پھر اپیل کی جیسی کہ انہوں نے گزشتہ 25 نومبر خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر بھی کی تھی کہ تشدد کو روکا جائے، اور اْس کا آغاز نوجوانوں کی تربیت سے کیا جائے، تاکہ ہر دل میں یہ شعور پیدا ہو کہ
ہر انسان ایک انسان ہے جو احترام کا مستحق ہے،مرد ہو یا عورت سب کا وقار برابر ہے۔
آخر میں پوپ لیونے کہا کہ ہمیں اس تشدد کو ختم کرنا ہوگا اور اپنی سوچ کو بدلنے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ ہمیں ایسے لوگ بننا ہوگا جو امن کے پیامبر ہوں اور سب کی دیکھ بھال کریں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail