غزہ کے مظلوم عوام کی مدد کریں اور سب کے انسانی حقوق کا احترام کریں۔ پوپ لیو چہاردہم
مورخہ 26مئی 2026کوکاسٹل گانڈولفو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے ایک بار پھر غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد کی اپیل کی، جنگ میں مصنوعی ذہانت کے ایسے استعمال پر تشویش ظاہر کی جو انسانی جانوں کی قدر کو نظر انداز کرتا ہے اور مصنوعی ذہانت کی کمپنی Anthropic کے ساتھ جاری مکالمہ پر بھی روشنی ڈالی۔ پوپ لیو نے عالمی برادری سے غزہ کے عوام کی مدد کرنے کی اپیل دہرائی اور زور دیا کہ”ہر انسان“کے انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔
غزہ جانے والے”گلوبل صمود فلوٹیلا“سے وابستہ کارکنوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، جن کے متعلق اطلاعات تھیں کہ بعض کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں، پوپ لیونے کہا کہ”ہمیں ہر انسان کے انسانی حقوق کے احترام کی اپیل کو دوبارہ دہرانا چاہیے۔
انہوں نے غزہ میں شہریوں کی مسلسل تکالیف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے غزہ کے عوام اب بھی انسانی امداد حاصل نہیں کر پا رہے۔پوپ لیونے وضاحت کی کہ اس صورتحال نے احتجاج کو جنم دیا ہے، اور اسی وجہ سے فلوٹیلا سے وابستہ افراد کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہاکہ میں اسے صرف ایک دعوت نہیں بلکہ ایک پُرزور اپیل کے طور پر دہرانا چاہتا ہوں اور تمام حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے عوام کی مدد کریں، اْن کے ساتھ تعاون کریں، اور تعمیرِ نو کے عمل کو شروع کرنے میں مدد دیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ واقعی تکلیف میں ہیں اور اب بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔جب اْن سے پوچھا گیا کہ غیر مسلح امن کارکنوں کے ساتھ تشدد کا کیا مطلب ہے، تو پوپ لیو نے خبردار کیا کہ اس طرح مزید نفرت کو ہوا ملتی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ نفرت کو جنم دے رہے ہیں جبکہ تشدد کسی بھی جانب سے ہو، فائدہ مند نہیں ہوتا۔
پوپ لیونے زور دیا کہ ہمیں مذاکرات کی طرف واپس آنا ہوگااوربات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا اس کے علاوہ ہر شخص کے انسانی حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔
انہوں نے جدید جنگوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی بات کی اور خبردار کیا کہ ایسی ٹیکنالوجی خطرناک ہے جو فیصلوں کو انسانی جان کی اہمیت سے دور کر دیتی ہے۔لبنان سمیت حالیہ تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ آج جنگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے، بغیر اس بات کا خیال کیے کہ انسانی زندگیاں اس سب کی حقیقی قربانی بن رہی ہیں۔اسی تناظر میں پوپ نے امن کی اپیل کو دہرایا۔
جب پوپ لیو سے پوچھا گیا کہ اْن کے حالیہ دستاویز (Encyclical) کی اشاعت کے بعد ویٹیکن بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے ساتھ کس طرح رابطہ جاری رکھے گا، تو انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے بات چیت پہلے ہی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انسانی ترقی کے فروغ کے لیے قائم ویٹیکن کے ادارے اور Anthropic کے درمیان مشترکہ تعاون جاری ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ایک قسم کا مشترکہ کام جاری تھا، اور کل دونوں جانب سے اس دعوت کا اظہار کیا گیا۔
اپنے پیغام کے اختتام پرپوپ لیو نے کہاکہ میرے خیال میں یہ بہت اہم ہے کہ ہم مکالمہ جاری رکھیں اور حقیقی معنوں میں ایک”غیر مسلح مصنوعی ذہانت“کی تلاش کریں۔